آئیے طب یونانی کے زوال کا ماتم کریں

Unani02

محسن دہلوی

کہتے ہیں کہ شہد جتنا میٹھا، مزیدار اور چاشنی لیے ہوتا ہے اس کو بنانے والی مکھی کا ڈنک اتنا ہی خطرناک، نقصاندہ اور گہرے زخم کا پیغام لاتا ہے۔ شہد کھانے والا بہت سے امراض سے شفا پاتا ہے اور اس کی مکھی کے ہاتھوں زخم کھانے والا بہت دیر تک تکلیف سہتے رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ زندگی میں بہت سی باتیں، اکثر عمل اور کئی لوگ شہد سے بھی میٹھے دکھائی دیتے ہیں، مگر وقت آنے پر شہد کی مکھی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس شعبہ علاج ومعالجہ کو ہندوستان میں کئی دہائی تک انسانیت کی خدمت کرنے کاوسیع ترین موقع نصیب ہوا اور اس کی عرفیت کی صورت یہ رہی کہ یونان سے شروع ہونے والی طب عربوں کے جذبہ فداکاری کی مرہون منت ہوکر ایک طویل دنیا کا سب سے زیادہ منظم، مؤثراورمجرب طریقہ علاج کے طورپر اقصائے عالم کے ایک تہائی سے زیادہ حصہ پر راج کرتی رہی اورہندوستان آ کر تو اس نے ترقی کی وہ بلند و بالا منزلیں حاصل کیں کہ اسے طب یونانی کی بجائے ہندوستانی طریقۂ علاج کی صورت میں شہرت ومقبولیت ملی۔

مگرہم اوپر نقل کردہ کسی دانا کے قول کے مطابق ”شہد جتنا میٹھا، مزیدار اور چاشنی لیے ہوتا ہے اس کو بنانے والی مکھی کا ڈنک اتنا ہی خطرناک“ ہوتاہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری عظیم طبی وراثت کو بھی کچھ اسی قسم کی زہریلی مکھی نے ڈنک مار دیا ہے اور اس کے بعد جو اس کا زوال شروع ہوا ہے تو اب تک اس زہر کا تریاق طب یونانی کو میسر نہیں ہوسکا ہے۔ یعنی دوسروں کیلئے چارہ گر کا فریضہ انجام دینے والی ہماری طب خود ہی کسی چارہ گر کی محتاج بن گئی۔ تاریخی لحاظ سے اس عظیم المرتبت طریقہ علاج کو جس زہریلی مکھی نے ڈنک مارا تھا، اسے عرف عام میں برطانوی سامراج کہا جاتا ہے۔ یعنی ہندوستان میں برطانوی سامراج کے تسلط نے جہاں برصغیر میں رائج ان تمام صنعت وحرفت کو نیست و نابود کردینے کی مہم چھیڑ دی جن کی باگ ڈورعمومی طورپر مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس سازش سے طب یونانی بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ وہیں مغرب نے اپنے کارخانہ خرابات سے برآمد جدید ایلوپیتھی کو ہندوستان میں رائج کر دیا۔ ممکن ہے طب یونانی کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اہل فکر ہماری اس بات سے متفق نہ بھی ہوں۔ مگر اس کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ حکومت کی مخاصمت نے عظیم ہندوستان میں رائج ان سبھی صنعت و حرفت کو شدید نقصان پہنچا یا جس کا تعلق راست طور پر مسلمانوں سے تھا۔ طب یونانی بھی فرنگی عصبیت کا شکار اسی لئے بنی کہ اپنے تابناک ماضی کے باوجود اس کی سربراہی و سرپرستی بیشتر معاملوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ اس توضیح کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ طب یونانی کی ترویج و ترقی میں برادران وطن کی کوئی شراکت نہیں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ برادران وطن نے بھی عظیم ہندوستان میں طب یونانی کی ترویج و ترقی میں قابل ستائش کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ مگر اس فن کی سرپرستی مسلما نوں کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے اسے برطانوی عتاب کا نشانہ خصوصی طور پر بننا پڑا۔ ایک اشکا ل یہ بھی ہے کہ طب یونانی کے حاذقین نے اس قیمتی موتی کو اپنے سینوں اور خاندانوں تک محدود رکھا۔ مگر قلم دوات کے ایجاد سے قبل کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے مفکرین اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ تحریرسے ماقبل دنیا کے سارے علوم و معارف سینہ بسینہ ہی آ گے بڑھے تھے۔ لہذا یہ فن بھی شروع میں مذہبی خاندانوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہا۔ یونان میں اس کی زیادہ پذیرائی ہوئی۔ وہاں غیر معمولی صلاحیتوں کے انسان پیدا ہوئے۔ انہوں نے نئے نئے اسلوب سے طب کو روشناس کرایا۔ علم الادویہ اور علم الامراض کے الگ الگ باب قائم کئے۔ سرجری، علم الابدان، منافع الاعضاء اور علم الادویہ پر کتابیں لکھیں۔ دوا سازی کا علم ایجاد کیا۔ اسلام کا سورج طلوع ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”مرد اور عورت پر علم سیکھنا فرض ہے۔“ داعی برحق کی تعلیمات پر عمل کر کے اکابرین نے علم کے سمندر میں شناوری کر کے علم طب پر بھی ریسرچ کی اور اس طرح علم طب کا خزانہ منظر عام پر آ گیا۔ ان علوم کا یونانی زبان سے عربی زبان میں ترجمہ ہوا۔ مصر، ہندوستان اور جہاں سے بھی جو فنی کتاب ان کے ہاتھ آئی انہوں نے اس کا عربی میں ترجمہ کر دیا۔ بڑے بڑے نامور طبیب پیدا ہوئے۔ تحقیقات کا سلسلہ جاری رہا۔ علوم و فنون پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ پندرہویں صدی تک یورپ کے میڈیکل کالجوں میں رازی، ابن سینا اور زہراوی کی کتابوں کے ترجمے داخل نصاب تھے اور آج کی میڈیکل سائنس کو بھی ہمارے اسلاف کی کتابوں نے ترقی کی بنیاد فراہم کی ہے۔ مگر بعد کے ادوار میں خود ہماری تساہل پسندی نے اس عظیم سرمایہ کو ہمارے لئے ہی اجنبی بنا دیا۔ ہمیں یہ اعتراف ہے کہ مسلمانوں پر جب ان کے اعمال اور اپنے اسلاف کے ورثہ پر عدم توجہی کی بناءپر زوال شروع ہوا تو علم طب پر بھی زوال آ گیا، لیکن اللہ تعالیٰ کے نظام میں تبدیلی اور تعطل واقع نہیں ہوتا۔ اس لئے قدرت ایسی ہستیاں پیدا کرتی رہی جو محدود ذرائع کے باوجود طب کو زندہ رکھنے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ موجودہ میڈیکل سائنس نے سرجری اور مختلف اعضاء کی پیوند کاری میں بلاشبہ ایسی ترقی کی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، لیکن عام امراض کے علاج کے لئے نئی نئی ادویات کے تجربات نے معالج کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھی پریشان کر دیا۔ بیماریوں کا جڑ سے ختم نہ ہونا، وقتی طور پر افاقہ اور دواؤں کا ری ایکشن عام بات ہو گئی ہے۔ یہی وہ نکات تھے جس کو ثبوت کی شکل میں دنیاکے سامنے طب یونانی غیر مضر نفع بخش ہونے کا پرچار کیا جاسکتا تھا، مگر یہاں بھی ہم غفلت کاشکار رہے اور دیگر طریقہ ہائے علاج اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے رہے۔

Unani03

بہرحال، انگریزوں سے ہندوستان کو نجات ملنے کے بعد اگرچہ دیگر شعبہ ہائے زندگی اور طریقہ علاج ترقی کی شاہراہ پر عازم سفر ہوئے توانہیں ایک دوسرے کا تعاون ملتا رہا اور ترقی ان کے قدم چومتی رہی۔ اس کے برعکس ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی ہماری فطرت نے طب یونانی کی ترقی کی رفتار سست کردی اور آج یہ فن جہاں بھی اور جس حال میں بھی ہے، محض اللہ کے بھروسے زندہ اور تابندہ ہے، ورنہ ہماری آپسی مخاصمت اور ایک دوسرے کو زیر کردینے کی ذہنیت نے کب کا اس فن کا بیڑا غرق کردیا ہوتا۔ اب یہ سوال عام ہونے لگا ہے کہ ہندوستان میں طب یونانی کیوں زوال پذیر ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہم نے کافی غور و خوض کیا تو میری ناقص فہم میں کئی معاملے واضح ہوکر سامنے آئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے آزادملک میں طب کے زوال کیلئے جو محرکات اسباب بنے ہیں، ان میں اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس عظیم طریقہ علاج کا ہر مرض سے ناطہ توڑ کر اس کاتعلق صرف سیکس پاور سے جوڑ دیا گیا۔ اساطیری کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ تھا جب نوابوں کے لئے ایسے ایسے نسخہ وجود میں آئے کہ بہ یک وقت کئی خواتین سے جنسی تلذذ حاصل کرنے کی بھر پور طاقت سے لیس ہوتے تھے۔ اس قسم کی فرسودہ کہانیاں اور روایتیں سن کر آج بھی لوگ انگشت بد نداں ہو جاتے ہیں۔ ان روایتوں میں کتنی صداقت ہے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی جاسکتی، مگر اخبارات اٹھا کر دیکھئے تو یونانی سے متعلق حیاسوز مناظر کے ساتھ جو اشتہارات آپ کو نظرآئیں گے وہ اسی جانب اشارے کرتے ہیں کہ ہم نے ایک ایسے فن کی عظمت کو محدودامراض کیلئے مخصوص کردیاہے،جس نے تمام امراض کے کامل علاج کے بیش قیمت اورمجرب نسخے مرتب کئے تھے۔ جس کے ماہرین اور تحقیق کاروںنے تشخیص و تجویز کے محیرالعقول طریقے اور ضابطے وضع کئے تھے۔ یہ ہمارا سرمایہ گم گشتہ ہے، جس کے بارے میں آج کا ترقی پذیر مغرب یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ ”جہاں سے جدید ایلوپیتھی طریقہ علاج اپنی عدم صلاحیت کا اعتراف کرتا ہے وہاں سے قدیم طب یونانی اپنے کامیاب علاج کا سفر شروع کرتی ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *