آج ہمارے لیے منٹو کیوں ضروری ہے؟

ممبئی: نندتا داس کی فلم منٹو جمعہ، ۲۱ ستمبر کو ریلیز ہوگئی۔ اس فلم کو نندتا نے بہت محنت سے بنایا ہے۔ نندتا کو منٹو پر فلم بنانے کا خیال 2012 میں آیا تھا۔ نندتا کہتی ہیں کہ اس سال منٹو کو پیدا ہوئے ایک سو سال ہوا تھا اور منٹو صدی منائی جا رہی تھی، منٹو بہت زیادہ بحث میں تھے، ان کی كہانياں، ان کے مضامین اردو اور ہندی کے علاوہ انگریزی میں بھی ترجمہ ہو کر آ رہے تھے۔ اس طرح نندتا کی دلچسپی منٹو میں بڑھتی گئی اور آج سب کے سامنے منٹو ہے.

منٹو کو آج یاد کیے جانے کا دن ہے۔ اپنی فلم میں نندتا نے جس مٹوئيت کا ذکر کیا ہے، وہ اصل میں ہماری زندگی سے نکل چکی کوئی چیز ہے۔ آج جب سچ بولنے پر پابندی ہے، سوال اٹھانے پر موت کا خطرہ ہے، تب منٹو کی کہانیوں کا قصہ یاد آتا ہے، جس کے بارے میں منٹو کہتے تھے “میری کہانیاں ایک آئینہ ہے جس میں معاشرہ اپنے آپ دیکھ سکے.” منٹو کو پیدا ہوئے ایک سو سال سے زیادہ ہو گيا۔ صرف 42 سال کی عمر میں شراب اور مایوسی نے منٹو کو مار دیا تھا لیکن منٹو مرا نہیں، “ہو سکتا ہے سعادت حسن مر جائے لیکن منٹو زندہ رہے گا” مٹو نے اپنے افسانے ہی کی طرح سچ بولا.

بمبئی میں رہتے ہوئے منٹو نے فلم کی کہانیاں بھی لکھی تھی، بھوک اور قرض کے ساتھ آزادی کا خواب بھی دیکھا تھا۔ جتنا اپنی بیوی صفیہ اور بیٹیوں کو چاہتے تھے اتنی ہی محبت بمبئی سے بھی تھا۔ لیکن اپنے کچھ دوستوں کے مشورے پر پاکستان چلے گئے. “جب غلام تھے تو آزادی کے خواب دیکھتے تھے اور اب آزاد ہو گئے ہیں تو کیا دیکھیں.” منٹو کو پاکستان میں نہ کوئی سہولت ملی اور نہ سکون.

منٹو کی پہلی کہانی “تماشہ” تھی اور اگر آج منٹو ہوتے تو پاکستان اور ہندوستان میں یہ دیکھ بھی رہے ہوتے اور منٹو کی حالت “ٹوبہ ٹیك سنگھ” جیسی ہوتی۔ مٹو کا کردار ادا کرنے والے اداکار نوازالدین صدیقی نے ایک انٹرویو میں منٹو کے کردار کے بارے میں کہا ہے کہ جب وہ شوٹنگ کر رہے تھے اور فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کے کئی ماہ کے بعد بھی ان کے اندر سے منٹو نہیں نکل رہا تھا۔ تب انہوں نے ایک دن ڈائریکٹر نندتا داس کو کال کیا اور کہنے لگے کہ مجھے بہت دقت ہو رہی ہے، میرے اندر منٹو اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ میں بہت زیادہ سچ بولنے لگا ہوں اور اس سے مجھے بہت پریشانی ہونے لگی ہے۔ اصل میں یہی “مٹوئيت” ہے.

اردو میں 230 کہانیاں لکھنے والے منٹو کے بارے میں ہندی کے مشہور ادیب راجندر یادو نے کہا تھا “چیخوو کے بعد منٹو ہی تھے جنہوں نے بغیر کوئی ناول لکھے کہانیوں کے دم پر ہی اتنی مضبوط جگہ بنائی ہے۔  ان كي کہانیوں پر فحاشی کا الزام بھی لگا اور مقدمہ بھی ہوا لیكن منٹو نے وہی لکھا جو دیکھا، اور یہ کہہ کر اپنی کہانی لے کر آگے بڑھ گئے کہ “اگر میری کہانیاں آپ کو برداشت نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ہی ناقابل برداشت ہے.”

نندتا اپنی فلم منٹو کے بارے میں کہتی ہیں کہ اس فلم کا مقصد لوگوں کو معاشرے کی کچھ چیزوں پر غور کرنے پر مجبور کرنا ہے جس سے لوگ اکثر دور بھاگتے ہیں۔ آج کے دور میں جو ہو رہا ہے اس کا جواب ہے یہ فلم.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *