آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو نظم پر قومی سیمینار

Seminar on Urdu Nazm in Bengal (2)

کولکاتہ، ۵ مارچ (احمد نعیم): ”آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو نظم“ کے عنوان سے ۵ مارچ ۲۰۱۶ء کو یک روزہ قومی سیمینار زیر اہتمام فتح پور ولیج روڈ ایور گرین ویلفئیر سوسائٹی اور زیر اشتراک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، مغربی بنگال اردو اکاڈمی کولکاتہ کے مولانا ابولکلام آزاد آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ سیمنار میں ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے مقالہ نگاروں نے مختلف موضوعات پر مقالے پیش کیے۔ دو اجلاس پر مشتمل اس سیمینار کے پہلے سیشن کی صدارت کا فریضہ ڈاکٹر دبیر احمد (صدر شعبۂ اردو مولانا آزاد کالج کولکاتہ)نے انجام دیا۔ خیر مقدمی کلمات میں ڈاکٹر عبد الوارث علی (سکریٹری فتح پور ولیج روڈ ایور گرین ویلفیئر سوسائٹی) نے حاضرین مجلس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم قومی کونسل کے شکر گزار ہیں کہ ان کے اشتراک سے یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کرنے کی سعادت ہمیں حاصل ہو رہی ہے، امید ہے کہ آج کا یہ سیمینار آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو نظم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے شعراء کی خدمات کا اعتراف کرنے کی ایک کامیاب سعی پیش کرے گا۔ ڈاکٹر ساجدہ بانو(صدر شعبۂ اردو بھوانی پور کالج کولکاتہ)نے افتتاحی کلمات میں ادارہ کی سر گرمیوں اور علم و ادب کے حوالے سے تعارفی خاکہ پیش کرتے ہوئے تمام اراکین کو اس بات کی مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے ایک اہم موضوع پر قومی سیمینار کا اہتمام کیا۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے”آزادی کے بعدمغربی بنگال میں اردو نظم“ کے سفرکا مختصرجائزہ پیش کیا اور یہاں کے شعراء کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کی شعری روایت مضبوط اور توانا رہی ہے۔ یہاں شعراء کے ساتھ ساتھ شاعرات کی بھی خدمات اہم رہی ہیں۔ ناظم جلسہ ڈاکٹر نعیم انیس نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک یہاں نظم گو شعراء کا ایک بڑا کارواں رہا ہے اور ان کی خدمات اہم ہیں اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد یہی ہے کہ مغربی بنگال کے نظم گو شعراء و شاعرات کی کاوشوں پر تفصیلی گفتگو ہو اور بحث و تمحیص کے نئے در کھلیں۔

Seminar on Urdu Nazm in Bengal

سیمینار کے دونوں سیشن میں دس مقالہ نگاروں نے تحقیقی اور تنقیدی مقالے پیش کیے۔ پہلے سیشن کے مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر افضال عاقل (کولکاتہ) ”علقمہ شبلی بحیثیت نظم نگار“، ڈاکٹر غالب نشتر (رانچی)”صدیق عالم بحیثیت نظم نگار“، صوفیہ شیریں (کولکاتہ) ”آزادی کے بعدبنگال میں خواتین کی نظمیہ شاعری“، ارشاد علی (ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو حیدر آباد یونیورسٹی) ”پرویز شاہدی بحیثیت نظم نگار“ اور اصغر شمیم نے (کولکاتہ) ”آزادی کے بعد بنگال میں ممتاز نظم گو شعراء “ کے عنوانات سے مقالے پیش کیے۔ صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر دبیر احمد نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہم اپنی تحریروں میں لفظوں کے استعمال اور ان کے میعار کا خاص خیال رکھیں۔ دوسرے سیشن کی صدارت پروفیسر شمیم انور (سابق صدر شعبہئ اردو کلکتہ یونیورسٹی) نے کی۔ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر محمد کاظم (دہلی یونیورسٹی) ”نصر غزالی بحیثیت نظم نگار“، ایس جی آئی حیدر (کولکاتہ) ”حرمت الاکرام بحیثیت نظم نگار“، شاہد اقبال (کولکاتہ) ”آزادی کے بعد مٹیا برج میں اردو نظم“، علیم اللہ (ریسرچ اسکالردہلی یونیورسٹی) ”اعزاز افضل کی نظمیہ شاعری“اور شیریں ظفر (کولکاتہ) نے ”عین رشید بحیثیت نظم نگار“ کے عنوانات سے مقالے پیش کیے۔ صدر مجلس پروفیسر شمیم انور نے کہا کہ ادارے کے تمام اراکین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک اہم موضوع پر سیمینار کا اہتمام کیا۔ تمام مقالے موضوع کے ساتھ انصاف کرتے ہیں خصوصی طور پر ڈاکٹر محمد کاظم، عزیزی علیم اللہ اور شیریں ظفر کو مبارک باد دینا چاہوں گا کہ ان کے مقالوں میں جہاں تنقیدی و تحقیقی تجزیہ نظر آیا وہیں مقالہ خوانی کا نداز بھی خوب تھا سیمینار میں مقالے اسی انداز سے پڑھنے چا ہیے۔ مہمانان خصوصی محب اردو قمر الدین ملک اور خادم قوم و ملت رحمت علی انصاری نے بھی سامعین سے خطاب کیا۔ پڑھے گئے مقالوں پر سامعین نے سوالات بھی کیے جن کا مقالہ نگاروں نے تشفی بخش جواب دیا۔ ادارے کے فعال رکن سکندر انصاری نے شکریہ کی رسم ادا کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *