آسام میں سونیا، راہل ۲۹ مارچ سے شروع کریں گے انتخابی مہم

تصویر: بشکریہ گوگل
تصویر: بشکریہ گوگل

نئی دہلی، ۲۶ مارچ (نامہ نگار): آسام اسمبلی انتخابات کی تاریخ جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں پہلے مرحلہ کی پولنگ آئندہ ۴ اپریل کو ہوگی، جس میں اب صرف ۹ دن باقی بچے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ۶۵ سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی نے آسام میں اپنی انتخابی مہم شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی جہاں ایک طرف ۲۹ مارچ کو کربی اینلانگ اور آسام کے اوپری ضلعوں کے جن دیگر مقامات پر انتخابی ریلیاں کریں گے، وہیں ان کی والدہ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی پہلے مرحلے کی پولنگ والے دیگر علاقوں میں ۳۰ مارچ کو انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گی۔

آسام میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے پرچہ نامزدگی بھرنے کی آخری تاریخ ۱۹ مارچ تھی، جب کہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ الیکشن کمیشن نے ۲۱ مارچ رکھی تھی۔ اب یہ تمام کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں، لہٰذا امیدواروں کے پاس بہت کم وقت بچا ہے ووٹروں سے رابطہ بنانے کی۔ اس قلیل مدت کو بھی غنیمت جانتے ہوئے، وہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر انھیں اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کر سکیں۔

آسام میں ووٹروں کی کل تعداد ۹۸ لاکھ ہے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ یہاں ۴ اپریل کو ہوگی، جب کہ دوسرے اور آخری مرحلے میں ۱۱ اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی ۱۹ مئی کو ہوگی۔ موجودہ وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کی مدتِ کار اس سال جون کے اخیر میں ختم ہو جائے گی۔

آسام میں کانگریس کا مقابلہ اس بار سیدھے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔ بی جے پی کی طرف سے ان کے صدر امت شاہ کافی پہلے ہی آسام میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ وہ ہر حال میں آسام کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ دیگر ریاستوں کی طرح بی جے پی نے آسام میں بھی اپنا کمیونل کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ اسی کے تحت پارٹی صدر امت شاہ نے وہاں ہجرت کرکے آنے والے بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ ایک مہم چھیڑ رکھی ہے۔

لیکن اِن دونوں پارٹیوں کے قطع نظر اے آئی یو ڈی ایف کے بدرالدین اجمل کو بھی کم تر کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ موجودہ اسمبلی میں بنیادی اپوزیشن کا کردار اجمل کی پارٹی ہی نبھا رہی ہے۔ آسام کے مسلم ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے ہمیشہ بدرالدین اجمل کا ساتھ دیا ہے۔ اس بار وہاں کیا ہوگا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس بار کا آسام الیکشن ماضی کے انتخابات کے مقابلے زیادہ دلچسپ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *