آسام میں شہریت کے سوال پر تیجسوی کا اہم بیان

پٹنہ:  راشٹریہ جنتا دل  کے سربراہ لالو یادو کے بیٹے اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے آسام میں شہریت کے سوال پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے. انہوں نے این آر سي یعنی قومی شہریت رجسٹر میں آسام کے 40 لاکھ باشندوں کا نام نہیں آنے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے وہ  اس کے سبھی ضوابط کا مطالعہ کریں گے، اس کے بعد ہی اس موضوع پر کچھ بولنا ٹھیک ہوگا.

خبر رساں ادارے اے این آئی کی ٹوئٹ کے مطابق تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ  ہی کہا ہے: لیکن انسانیت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے. آر جے ڈی لیڈر نے این آر سي میں نام شامل نہیں ہونے والے 40 لاکھ افراد کے تناظر میں کہا کہ ذرا سوچیے، اگر بیرون ملک رہنے والے این آر آئی یعنی تارکین وطن ہندوستانیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا تو وہ کہاں جائیں گے؟

یاد رہے کہ 30 جولائی کو جاری ہوئے آخری ڈرافٹ لسٹ میں آسام کے 40 لاکھ باشندوں کا نام شامل نہیں ہو پایا ہے. اس سلسلے میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام این آر سي میں شامل نہیں ہوئے ہیں، انہیں گھبرانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مکمل موقع دیا جائے گا. دوسری طرف بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے اسے ملک کی سلامتی سے جڑا ہوا مسئلہ بتایا ہے جبکہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اسے تقسیم کرو اور راج کرو کی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے. اس کے ساتھ ہی ایک بڑا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنی شہریت ثابت نہیں کر پائیں گے، ان کے ساتھ  کیا کیا جائے گا؟ کیا انہیں دوسرے ملک یعنی بنگلہ دیش بھیجا جا سکتا ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب بنگلہ دیش کی ایک وزیر نے دے دیا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کسی کو بھی اپنے ملک میں واپس نہیں لینے جا رہا ہے. اس سے صاف ہے کہ آسام میں شہریت کے سوال پر ایک نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *