آسام کے نچلے علاقے میں بے چینی ہے: تسلیم رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

نئی دہلی: سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں آسام میں شہریت کے قومی رجسٹر کی دوسری اور آخری فہرست داخل کرنے کی آخری تاریخ ہے جس میں تقریبا ایک کروڑ چالیس لاکھ شہریوں کے نام شامل ہو سکتے ہیں لیکن اس سے دن پہلے ہی اتوار کو دوپہر سے ہی زیریں آسام کے مسلم اکثریتی ضلعوں میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کرکے ان علاقوں  کو فوج کے حوالے  کر دیا گیا ہے۔ مرکزی فورسز اور پولس ان علاقوں میں گشت کررہی ہیں- ان ضلعوں میں گوالپارہ، دھبری، بونگائی گاوں، بارپیٹا، درانگ، نو گاوں، کریم گنج، سلچر اور ہیلا کانڈی وغیرہ شامل ہیں۔ فوج کی گشت سے ان علاقوں میں ہراس کا ماحول ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ۳۱ دسمبر ۲۰۱۷ کو پہلی لسٹ میں ایک کروڑ ۹۰ لاکھ شہریوں کی شہریت کا فیصلہ کیا جا چکا ہے جس میں سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے نام خارج کر دیے گئے تھے۔ ڈاکٹر رحمانی نے کہا کہ اب خدشہ یہ ہے کہ اس بار دوسری فہرست چونکہ مسلم ضلعوں میں رہنے والے باشندوں پر مشتمل ہوگی، اس لیے بڑی تعداد میں شہریت کے رجسٹر سے نام خارج کیے جا سکتے ہیں۔ جس کا ردعمل ان اضلاع میں تشدد کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے- اسی لیے ریاستی حکومت نے آسام کے اس خطے کو قبل از وقت فوج اور مرکزی فورسز کے حوالے کر دیا ہے-

ڈاکٹر رحمانی نے بتایا کہ مقامی سیاسی لیڈران امن قائم رکھنے کی اپیل بھی کر رہے ہیں اور وزیر اعلی نے ریاست کے عوام کو تیقن دیا ہے کہ جن لوگوں کے نام خارج کیے جائیں گے ان کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا ایک اور موقع اور وقت دیا جاے گا۔

آسام کے مقامی لیڈروں سے رابطہ کرنے پر انہوں نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کہ کچھ لیڈروں کے گھروں پر بھی پولس نے پہرہ لگایا ہے اور کچھ جگہون ہر پوچھ گچھ کے لیے بھی پولس داخل ہوئی ہے۔ ریاستی ریڈیو اور ٹیلیویژن چینلوں نے بھی خبر صراحت کے ساتھ نشر کی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیر کی فہرست میں سے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے نام خارج ہوں گے جس سے ریاست میں مستقبل میں بد امنی پھیلنے کے خدشات ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *