آشوتوش کا استعفی: عام آدمی پارٹی کے لیے بڑا سوال

نئی دہلی: کرن بیدی، شاذیہ علمی، پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو اور مینک گاندھی کے بعد صحافی سے سیاستداں بنے آشوتوش نے بھی عام آدمی پارٹی کو الوداع کہہ دیا ہے۔ انہوں نے اس دن اپنے استعفی کا اعلان کیا جب ملک ۷۲ واں یوم آزادی منا رہا تھا۔ آشوتوش کے استعفی سے عام آدمی پارٹی میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کچھ اور لیڈران پارٹی سے الگ ہو سکتے ہیں۔

واضح ہو کہ اشوتوش 9 جنوری 2014 کو عام آدمی پارٹی میں شامل ہوئے تھے. ایک دہائی سے زیادہ وقت تک صحافت کرنے والے آشوتوش 2011  کی انا تحریک میں شامل ہوئے. انہوں نے 16 اگست 2011 سے 28 اگست 2011 تک چلی 13 روزہ تحریک پر کتاب بھی لکھی. ان کی کتاب ہے، انا: وہ 13 دن جس نے بھارت کو جگا دیا. آشوتوش نے عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ انا سے نہیں بلکہ اروند کیجریوال سے متاثر ہوکر سیاست میں آئے ہیں.

بھارت کے معروف صحافیوں میں شمار کیے جانے والے آشوتوش نے عام آدمی پارٹی چھوڑنے کی ذاتی وجہ بتائی ہے. پارٹی ذرائع کا کہنا ہے آشوتوش نے کئی دن پہلے ہی اروند کیجریوال کو اپنا استعفی سونپ دیا تھا، لیکن اسے قبول نہیں کیے جانے کی وجہ سے انہوں نے 15 اگست کو ٹوئٹ کر کے اس کی اطلاع دی. آشوتوش نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ہر سفر کا اختتام ہوتا ہے. عام آدمی پارٹی کے ساتھ میرا سفر کا بھی اختتام پذیر ہو گیا. اس کے ساتھ ہی انہوں نے عآپ کے ساتھ اپنے سفر کو اچھا اور انقلابی بتایا. عآپ کو چھوڑنے کا اعلان کرنے کے تین چار دن بعد بھی آشوتوش نے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے جس سے لگتا ہو کہ وہ پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے ناراض ہیں. لیکن عآپ اور آشوتوش کو قریب سے جاننے والے بتاتے ہیں کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا ہے.

آشوتوش کو صحافت کے دور سے جاننے والے ایک سینئر صحافی نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے انہوں نے استعفی دیا ہے. انہوں نے کہا: اشوتوش بدعنوانی کے خلاف اور دولت اور طاقت کی سیاست کے خلاف سیاست میں آئے تھے. وہ پارٹی کے اندر شخصی آزادی کے حامی تھے اور مانتے تھے کہ پارٹی میں سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہونا چاہیے. اسی لیے جب اروند کیجریوال نے سشیل گپتا کو راجیہ سبھا کے انتخابات کے لیے پارٹی کا امیدوار بنایا تو آشوتوش نے کھل کر اس کی مخالفت کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ ان کے ساتھ راجیہ سبھا جانے کے لیے ان کا ضمیر اجازت نہیں دیتا ہے. عام آدمی پارٹی نے اس کے بعد ہی این ڈی گپتا کو اپنا تیسرا امیدوار بنایا تھا. پہلے آشوتوش کو امیدوار بنائے جانے کی بات سامنے آئی تھی. عآپ کے نزدیکی ذرائع بتاتے ہیں کہ آشوتوش کے استعفی کے بعد پارٹی میں ہل چل ہے. اس کا اندازہ اروند کیجریوال اور پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کے بیان سے بھی ہوتا ہے. اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اس جنم میں تو وہ آشوتوش کا استعفی منظور نہیں کریں گے. وہیں سنجے سنگھ نے اشوتوش کے استعفی کو اپنے لیے دل ٹکڑے کردیئے والا واقعہ بتایا ہے. اس درمیان خبر ہے کہ آشوتوش ایک بار پھر سرگرم صحافت میں آ سکتے ہیں. اگر ایسا ہوا تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں سے کس طرح کا سوال پوچھتے ہیں. آشوتوش عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر بی جے پی لیڈر ہرش وردھن اور کانگریس کے کپل سبل کے خلاف چاندنی چوک لوک سبھا حلقہ سے 2014 میں الیکشن لڑ چکے ہیں. وہ ہرش وردھن سے ہار گئے لیکن کپل سبل سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے.

آشوتوش کے استعفی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی پر اس کا کیا اثر پڑے گا. عآپ اور دہلی کی سیاست پر نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ اس کے بعد کچھ اور رہنما بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں لیکن حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا. اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی اسمبلی میں عآپ کو مکمل اکثریت حاصل ہے. اسمبلی کا انتخاب ہونے میں ابھی تقریبا دو سال کا وقت ہے. آشوتوش سے پہلے بھی شاذیہ علمی، پرشانت بھوشن، کرن بیدی، مینک گاندھی اور یوگیندر یادو جیسے بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں. معروف شاعر کمار وشواس بھی پارٹی سے ناراض چل رہے ہیں، اس کے باوجود پارٹی اپنی جگہ قائم ہے. اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی نے ایک تنظیم کی شکل اختیار کر لی ہے. دہلی میں حکومت چلا رہی ہے. لوک سبھا میں اس کے چار اور راجیہ سبھا میں تین رکن ہیں. ایسے میں پارٹی کے اوپر کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آ رہا ہے. اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ عام آدمی پارٹی کی مقبولیت کا مرکزی کردار  آج بھی اروند کیجریوال ہی ہیں. اس کے باوجود پارٹی کے لیے عوام کو یہ سمجھانا ایک بڑا چیلنج ہے کہ اس کے بڑے لیڈران ایک ایک کر کیوں الگ ہوتے جا رہے ہیں.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *