آٹھ مہینے میں بکرے سے بیف بن گیا اخلاق کے گھر میں رکھا گوشت

نئی دہلی، یکم جون (حنیف علیمی): دہلی کے پاس نوئڈا کے دادری علاقے میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ میں بھیڑ کے ہاتھوں مارے گئے محمد اخلاق کے گھر سے ملے گوشت کو اب متھرا کی ایک لیب کی رپورٹ میں گائے کا گوشت بتایا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک لیب نے فارینسک تحقیق میں اخلاق کے فریج میں ملے گوشت کو بکرے کا گوشت بتایا تھا، اب دوسری رپورٹ متھرا کی ایک لیب نے دی ہے جو منگل کو عدالتی حکم کے تحت منظر عام پر لائی گئی ہے۔

download (3)

رپورٹ کے مطابق، ”گوشت کا سیمپل بیف کے گوشت کا ہے۔“ اتر پردیش کے پولس ڈائریکٹر جنرل جاوید احمد نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ، ’’شروعات میں ہم نے کہا تھا کہ یہ بکرے کا گوشت تھا، لیکن بعد میں اس لیب نے ہمیں بتایا کہ یہ گائے کا گوشت تھا۔“ محمد اخلاق کے گھر پر گذشتہ سال ۲۸ ستمبر کو ایک بھیڑ نے حملہ کردیا تھا، جس میں محمد اخلاق کی موت واقع ہوگئی تھی، اور ان کا ایک چھوٹا لڑکا زخمی بھی ہوگیا تھا۔ الزام ہے کہ گاؤں کے ہی ایک مندر کے مائک سے اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں پولس نے ایک نابالغ سمیت ۱۵ لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس حادثہ کے بعد اخلاق کے اہل خانہ نے گھر میں گائے کے گوشت سے انکار کیا تھا۔ خبر کے مطابق، متھرا لیب کی رپورٹ کے بعد بھی اخلاق کے گھر والے اپنے پرانے دعوے پر قائم ہیں اور لیب کی اس رپورٹ کو خارج کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے گھر میں گائے کا گوشت نہیں تھا۔

اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اتر پردیش سرکار اورحکومت کی کارکردگی پر جم کر نشانہ سادھا جارہا ہے۔ سونی سانی نام سے فیس بک اکاؤنٹ چلانے والے ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ”صرف ۹ مہینے میں مٹن سے بیف بن سکتا ہے، بس سرکار اکھلیش الدین (اکھلیش یادو) جیسی ہونی چاہئے، ویسے جس دیش میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ۱۰۔۲۰ ہزار روپئے میں بدل جاتی ہو، گھوٹالوں کی فائلیں غائب ہوجاتی ہوں، ۲۴۔۲۴ لوگوں کے قاتل پی اے سی والوں کو زمین اور آسمان کھا جاتا ہو، وہاں پر دادری کے اخلاق کا ’مٹن‘ ۹ مہینے میں ’بیف‘ کیوں نہیں ہوسکتا؟ مٹن کا بیف بالکل ہوا ہے، کیوں کہ فارینسک لیب بیف کے ساتھ چمڑا بھی بتا رہی ہے، جو ناممکن ہے، چمڑا نکالنا ہر قصائی کو بہت اچھے سے آتا ہے، سیدھی سی بات ہے، یادو خاندان طوطے کو خوراک دے رہا ہے۔‘‘ ایک دوسرے فیس بک یوزر سمیر سیفی کہتے ہیں کہ ’’بکرے کے گوشت کو ’بیف‘ ثابت کرواکر اکھلیش سرکار نے دوبارہ اخلاق کا قتل کروا دیا، خونی سماجواد۔‘‘

بہرحال، بات ذرا پیچیدہ ہے، کیونکہ اس سے پہلے جو رپورٹ آئی تھی اس میں بکرے کے گوشت کی بات کہی گئی تھی۔ اکھلیش سرکار پر یوپی میں انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ ان کے کئی دوغلے چہرے عوام کو کھٹکنے لگے ہیں۔ راجیہ سبھا میں کسی بھی مسلمان کو نہ بھیجنا اور اعظم خان کی بات نہ مان کر امرسنگھ کی پارٹی میں گھر واپسی کرانا، ان باتوں سے لگ رہا ہے کہ اب ان کے دکھانے اور کاٹنے والے دانتوں میں عوام کو فرق دکھائی دینے لگاہے، جس سے آنے والا ۲۰۱۷ کا الیکشن کافی متاثر ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *