آگسٹا ویسٹ لینڈ کی دستاویزات چار مئی کو پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی

Defence Minister Manohar Parrikar

نئی دہلی، یکم مئی (نامہ نگار): وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا ہے کہ وہ آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید سے متعلق حقائق پر مبنی تمام دستاویزات تاریخ وار چار مئی کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے سے متعلق تفصیلی کرونولوجی حقیقی دستاویزات کے ساتھ ۴ مئی کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھوں گا۔‘‘

اس سے قبل ہفتہ کے روز پاریکر نے اس ہیلی کاپٹر سودے سے متعلق گزشتہ یوپی اے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دہرہ دون میں ایک پروگرام کے موقع پر انھوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ’’سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ آگسٹا ڈیل میں پیسے کس نے لیے۔ جو لوگ اس وقت حکومت میں تھے، انھیں اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔ اطالوی عدالت نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ۱۲۵ کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ اس نے بعض ناموں کا بھی انکشاف کیا۔ لہٰذا، اس وقت کی حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔‘‘

وزیر دفاع نے جمعہ کے روز یہ بھی وضاحت کی تھی کہ جنگی طیاروں کی خرید کے لیے کسی بھی ملک کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیا گیا ہے۔

Augusta Choppers

لوک سبھا میں جیتندر چودھری اور دیگر ممبران کے سوالوں کا تحریری جواب دیتے ہوئے پاریکر نے کہا ہے کہ ’’روس کے ساتھ جنگی طیاروں کی خرید کے لیے کسی معاہدہ پر دستخط نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ، روسی وفاق کے ساتھ پروسپیکٹیو ملٹی رول فائٹر ایئر کرافٹ کی ڈیزائن، ڈیولپمنٹ، پروڈکشن وغیرہ کے لیے ایک بین حکومت معاہدہ پر دستخط ضرور کیا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستانی فضائیہ کسی بھی موجود خطرے کا منھ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اسے جو بھی رول دیا جائے گا، وہ اسے پورا کرنے میں اہل ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کی جنگی تیاریوں کی جانچ وقت وقت پر ہوتی رہتی ہے، جو خطرات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ یو پی اے حکومت نے ہندوستانی ایجنٹوں کو رشوت دینے کی بات سامنے آنے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کو ۱۲ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹرس کی سپلائی کے لیے ۳۶۰۰ کروڑ روپے کے آگسٹا ویسٹ لینڈ سودے کو ردّ کر دیا تھا۔ منموہن سنگھ حکومت نے یہ سودا جنوری ۲۰۱۳ میں ردّ کیا تھا اور پھر سی بی آئی کو یہ جانچ کرنے کا حکم دیا تھا کہ کیا کسی ہندوستانی اہل کار کو اس سودے کے لیے رشوت دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *