اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ

ہریش راوت کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا

ہریش راوت
ہریش راوت

نئی دہلی، ۲۷ مارچ (نامہ نگار): اتراکھنڈ میں تقریباً ایک ہفتہ تک کانگریس اور بی جے پی کے درمیان چلی آ رہی زبانی جنگ کا آج اس وقت خاتمہ ہوگیا، جب وہاں کے گورنر کے کے پال کی رپورٹ پر صدرِ جمہوریہ پرنب مکھرجی نے ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا۔

کل وزیر اعلیٰ ہریش راوت کے اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی کے منظر عام پر آنے کے بعد یہاں دہلی میں دیر شام کابینہ کی میٹنگ بلائی گئی، جس کے بعد سے ہی کانگریس کو ایسا لگنے لگا تھا کہ اب اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کر دیا جائے گا۔ اُس سی ڈی میں ہریش راوت باغی ممبرانِ اسمبلی کی خرید و فروخت کی بات کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔ حالانکہ ہریش راوت نے اس سی ڈی کو پوری طرح فرضی بتایا تھا، لیکن بی جے پی نے تبھی سے ہریش راوت کو ہٹاکر ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ زور و شور سے کرنا شروع کر دیا تھا۔

آج صدر راج کے نافذ ہونے کے بعد بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کل جب کانگریس حکومت کو اتراکھنڈ اسمبلی میں گورنر نے اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع دے ہی دیا تھا، تو پھر صدر راج نافذ کرنے میں اتنی جلد بازی کیوں کی گئی۔ یہی سوال کانگریسی خیمہ کی طرف سے بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ کانگریس کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ بی جے پی نے یہ قدم خوف کی وجہ سے اٹھایا ہے اور اس نے ایسا کرکے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ خود وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے کل کہا تھا کہ ’’مرکز ایک چھوٹی ریاست کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بی جے پی ریاستوں کے اندر اسٹیبلشڈ اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

دراصل، اتراکھنڈ میں سیاسی بحران ایک ہفتہ قبل اس وقت پیدا ہو گیا تھا، جب حکمراں کانگریس کے ۹ ممبرانِ اسمبلی اپنی پارٹی اور وزیر اعلیٰ سے بغاوت کرتے ہوئے بی جے پی کے خیمہ میں چلے گئے تھے۔ کچھ دنوں بعد اسمبلی کے اسپیکر گووند سنگھ کنجوال نے ان باغی ایم ایل ایز کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا اور کانگریس نے بھی ان کی رکنیت ردّ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ لیکن ان سب باتوں کا ان باغی ممبرانِ اسمبلی پر کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ اسپیکر کے نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے وہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ تک پہنچ گئے تھے، لیکن عدالت نے ان کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *