اتراکھنڈ میں ۲۷ اپریل تک صدر راج نافذ رہے گا: سپریم کورٹ

The Supreme Court of India in New Delhi on Sept 1, 2014. The government Monday told the Supreme Court that they stood by its verdict holding allocation of coal blocks since 1993 as illegal, and was ready to auction these blocks if they are cancelled but sought exceptions for some mines which were operational.. (Photo: IANS)

نئی دہلی، ۲۲ اپریل (نامہ نگار): سپریم کورٹ نے آج اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ کل ریاست میں صدر راج کو منسوخ کرنے کے فیصلہ پر روک لگاتے ہوئے وہاں پھر سے صدر راج نافذ کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم اس معاملے پر آئندہ ۲۷ اپریل کو ہونے والی اگلی سماعت تک کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ سے جہاں ایک طرف کانگریس کے خیمہ میں اداسی چھا گئی ہے، وہیں مرکز کی بی جے پی حکومت کو تھوڑی راحت ملی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے کل مرکزی حکومت اور صدرِ جمہوریہ کی تنقید کرتے ہوئے ریاست سے صدر راج کو ختم کر دیا تھا، جس کے خلاف بی جے پی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی سپریم کورٹ کی بینچ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی دستخط شدہ کاپی جلد از جلد عدالت کو فراہم کرائے، تاکہ وہ اس مسئلہ پر اپنا حتمی فیصلہ سنا سکے۔ سپریم کورٹ نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر اسٹے اس لیے لگایا ہے، تاکہ اس معاملے کی اگلی سماعت، جو ۲۷ اپریل کو ہونی ہے، تک دونوں پارٹیوں میں توازن برقرار رہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عدالت سے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہریش راوت، جنھوں نے آج کابینہ کی دو میٹنگیں کی ہیں، انھیں عدالت کے تحریری حکم نامہ کے بغیر ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *