اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاست سے صدر راج ہٹایا

کانگریس خیمہ میں خوشی کی لہر، بی جے پی جائے گی سپریم کورٹ

Uttarakhand High Court

نینی تال، ۲۱ اپریل (ایجنسیاں): مرکزی حکومت کو آج اس وقت بڑا جھٹکا لگا، جب اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاست سے صدر راج کو منسوخ کرتے ہوئے مرکز کو زبردست پھٹکار لگائی۔ عدالت نے صدرِ جمہوریہ کی بھی جم کر تنقید کی اور کہا کہ وہ بادشاہ نہیں ہیں۔دوسری طرف، بی جے پی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نینی تال میں واقع اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے آج مرکزی حکومت کو بڑا جھٹکا لگا۔ ہائی کورٹ نے اتراکھنڈ میں لگائے گئے صدر حکومت کو ہٹا دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کانگریس کے ۹ باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کے اسپیکر کے فیصلے پر بھی مہر لگا دی ہے۔ عدالت نے ہریش راوت کی قیادت والی کانگریس حکومت کو ۲۹ اپریل کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا ہے۔ اتراکھنڈ میں ۲۷ مارچ کو صدر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ہریش راوت نے کہا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کا فیصلہ ریاست کے لوگوں کی جیت ہے۔

کورٹ نے اپنے تبصرے میں کہا کہ باغی ممبران اسمبلی کو آئین کے ساتھ کیے گئے گناہ کی سزا بھگتنی ہوگی۔ ایسے میں ہریش راوت کے لیے اکثریت ثابت کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ایوان میں اب صرف ۶۲ اسمبلی نشستیں ہی رہ گئی ہیں، جس میں سے اکثریت ثابت کرنے کے لئے ۳۱ سیٹوں کی ہی ضرورت ہو گی۔ کانگریس کے پاس فی الحال ۳۳ سیٹیں ہیں۔

Harish Rawat PC

اس سے پہلے ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا رویہ تکلیف دینے والا ہے کہ وہ صاف نہیں کر پا رہی کہ صدر راج ملتوی کیا جائے یا اسے برقرار رکھا جائے۔ صدر راج کو لے کر ہائی کورٹ کے سوال پر مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ وہ اسے ہٹانے کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتی۔ یہی نہیں، اس سے قبل بدھ کو بھی کورٹ نے مرکز کو پھٹکار لگائی تھی۔ کورٹ نے کہا تھا کہ یہ کوئی بادشاہ کا فیصلہ نہیں ہے، جس کا جوڈیشیل ریویو نہ کیا جا سکے۔ یکطرفہ پاور کسی کو بھی کرپٹ کر سکتا ہے۔ صدر بھی کبھی کبھی غلط ہو سکتے ہیں۔

ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ ہمارے آئین کی یہی خوبی ہے کہ صدر کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ کسی بھی جج کے فیصلوں کو ریویو کیا جاتا ہے، ویسا ہی صدر کے فیصلوں کو بھی کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *