ادیب، صحافی اور سماجی خدمت گا ر اودھ رتن ایوارڈ سے سرفراز

13124442_10209321592705262_2514119965359272313_n

لکھنؤ، ۸ مئی (راغب دیشمکھ): سنگم فاؤنڈیشن لکھنؤ کے زیرِ اہتمام جے شنکر پرساد ہال، قیصر باغ میں اودھ رتن ایوارڈ ۲۰۱۶ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ فاؤنڈیشن نے اردو اورہندی ادیبوں، صحافیوں اور سماجی خدمت گاروں کو اودھ ترن ایوارڈ سے نوازا۔ اردو تنقید کے لیے پروفیسر شارب ردولوی کو احتشام حسین اودھ رتن ایوارڈ، اردو ادب میں کار ہائے نمایاں انجام دینے کے لیے سید امتیاز اشرفی کے نام سے موسوم ایوارڈ سے پروفیسر اعجاز علی ارشد کو، ہندی ادب کی خدمات کے لیے ملک محمد جائسی کے نام نامی سے منسلک ایوارڈ پروفیسر بھگوان شرما کو، اردو روزنامہ اودھ نامہ کے مدیر وقار رضوی کو صحافت کے میدان میں جرأت مندانہ اقدام کے لیے سید منظور احمد اشرفی ایوارڈ اور سماجی خدمات کے لیے ڈاکٹر چندر موہن جین کو مولانا نعیم اشرف ایوارڈ اور ندیم اشرف جائسی کو ملک زادہ منظور احمد اودھ رتن ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی نے ایوارڈ یافتگان کا تعارف اور ساتھ ہی ان کی ادبی، سماجی اور صحافی خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ تقریب کی صدارت قومی کونسل برائے اردو زبان کے وائس چیرمین مظفر حسین نے کی۔ مہمان خصوصی کے طور پر خواجہ معین الدین اردو عربی فارسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خان مسعود احمد اور مہمانان ذی وقار میں خواجہ اکرام الدین اور نعیم صدیقی نے شرکت کی۔

صدارتی تقریر میں مظفر حسین نے سنگم کی کوششوں کو سراہا اور قومی کونسل کی اردو زبان کے فروغ میں کی جانے والی کاوشوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں اردو اور اردو والوں کا درد سنا، وہ پورے ملک کا درد ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسم الخط کے جھگڑے کو سمجھنے کے لیے لینگویج کمیٹی کی بحث کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنی وراثت کو سنوار اور سنبھال کے رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ میرؔ کا مزار ریل کی پٹری کے نیچے ہے۔

پروفیسر شارب ردولوی نے احتشام حسین ایوارڈ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب میری ذمہ داری میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے سنگم کی ستائش کی اور اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ یہ ایوارڈ اردو اکادمی یو پی کو شروع کرنا چاہیے تھا۔ پروفیسر بھگوان شرما نے اودھ رتن ایوارڈ کے حصول پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی ادیبوں کا ایک اسٹیج پر آنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات اردو ہندی بہنوں کو مزید قریب لانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ انہوں نے ملک محمد جائسی کی ادبی ثقافت کو آگے بڑھانے کی بات کہی۔

اودھ نامہ کے مدیر وقار رضوی نے اخبار اور خصوصی طور پر اردو کو درپیش مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے اردو کے لئے انفرادی کوششوں پر زیادہ توجہ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کوشش سے لامارٹ کالج لکھنؤ نے اپنے یہاں اردو کو داخل کر لیا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر خواجہ اکرام نے ملک زادہ منظور احمد کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا ملک زادہ نے مشاعروں اور نظامت کو معتبریت بخشی۔ انوار جلاپوری نے ملک زادہ کو شاعری کا درویش، ادب کا قلندر اور نظامت کا سکندر بتایا۔ وائس چانسلر اعجاز علی ارشد نے کہا سماج کو آج رواداری ،مثبت فکر، قوت برداشت کی بہت ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *