اردو زبان کی اپنی مخصوص شناخت، جس کی بقا ناگزیر: فاروقی

دیوان غالب کی پہلی اشاعت کے ۱۷۵ سال مکمل ہونے پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقد دوروزہ سمینار اختتام پذیر

discussion seminar-10 april pic
مائک پرسید شاہد مہدی، ناظم اجلاس ممتازعالم رضوی اور ممتاز ناقد ومحقق پروفیسرشمس الرحمان فاروقی

نئی دہلی، ۱۰ اپریل (پریس ریلیز): دیوان غالب کی پہلی اشاعت کے ۱۷۵ سال مکمل ہونے پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقد دوروزہ سمینار بعنوان ”عہدِ حاضرمیں شاعری کی معنویت کا مسئلہ اور غالب“ آج اختتام پذیر ہوا۔ آج سمینار کے تین سیشنز ہوئے جس کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ ۱۷۵ سال دیوان غالب کی ترتیب کو مکمل ہوچکے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک سمینار فارسی دیوان کے حوالے سے بھی منعقد کیا جائے۔ غالب کی شاعری میں متعدد مقامات پر اسلامی تلمیحات بھی ملتی ہیں۔ ہمیں شاعری کی اہمیت و افادیت کو سمجھنا چاہئے۔ چوںکہ شاعری کی موت زبان کی موت ہے اورشاعری اردوکی زندگی ہے۔

اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر انیس اشفاق نے کہا کہ غالب کے تعلق سے تحقیق طلب چیزیں ابھی سامنے آتی رہیں گی۔ ابھی غالب پرتحقیق وتنقید کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ متن خوانی کے حوالے سے بہت اہم لوگوں سے بھی غلطیاں سرزدہوجاتی ہیں، جس کا اظہارغالب کے دیوان کی ترتیب وتدوین کے دوران بھی ہوتا رہا ہے۔ گہرائی کے ساتھ مطالعے کی شرط یہ ہے کہ متن اپنی اصل شکل میں موجود ہو۔ یہ مقام مسرت ہے کہ شمس بدایونی اور ظفر احمد صدیقی ہمارے درمیان موجود ہیں، بزرگوں کی عدم موجودگی میں ان حضرات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جو متن پرغوروخوض کرتے ہیں۔

دوسرے سیشن میں صدارتی تقریرکرتے ہوئے معروف ناقد وناول نگاراورمحقق پروفیسرشمس الرحمان فاروقی نے مقالہ نگاروں کی کاوشوں، ان کے مقالات اور غالب انسٹی ٹیوٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری زبان کی اپنی مخصوصی شناخت ہے، اس کے مطابق ادائیگی کو یقینی بنانا چاہئے۔ یہاں آکرمجھے خوشی ہوئی کہ مقالات آج اچھے پڑھے گئے میری سوچ غلط ثابت ہوئی۔ قصیدہ،غزل، رباعی کی شعریات ایک ہی ہے۔ شعربننے کا طریقہ ایک ہی ہے۔ کئی بارقصیدے کا شعرغزل میں ڈال دیا جائے اور غزل کا شعرقصیدے میں تو حیرت نہیں ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ متن پرغورکرنے والے افراد موجود ہیں۔ نئی نسل کے لوگ شاعرکے دماغ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ اس سے ان کی دلچسپی کا اظہارہوتا ہے اور یہ بھی سوچنے کا ایک طریقہ ہے۔

سمینارکے تیسرے اورآخری اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسرصادق نے کہا کہ ایک وقت تھاجب اردوکے فروغ اور اس کے ارتقا کے امکانات روشن ہونے کے باوجود ہمارا شاعر فارسی کو اہمیت دے رہا تھا اور فارسی کے کلام  کے زیادہ اہم گمان کرتا تھا۔ اس موقع پرانہوں نے شمس الرحمان کی علمی اورمشاہداتی صلاحیتوں کو بھی سراہا۔ پروفیسرصدیق الرحمان قدوائی نے اپنی صدارتی تقریرمیں کہا کہ غالب غیرمعمولی ذہن اور ذہنیت کا انسان تھا اور غیر معمولی باتیں غیر معمولی ذہنوں سے ہی نکلتی ہیں۔ غالب نے اپنے عہد کی تبدیلیوں کو محسوس کیا اور آئندہ دنیا کو بھی اپنی نگاہوں سے دیکھ لیا تھا۔ سمینارکے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ناقابل فراموش مقالات پیش کرنے کے لیے مقالہ نگاروں کو مبارک باد دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *