اردو اساتذہ امیدواروں کی مکمل بحالی: ٹھوس اقدامات کی ضرورت

عبدالغنی شیخ، ارریا
عبدالغنی شیخ، ارریا

اردو ریاست بہار کی ثانوی سرکاری زبان ضرور ہے مگر سرکاری دفاتر میں اس کا استعمال اور نفاذ ہنوز نا مکمل ہے۔ ۱۹۸۰ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا تھا مگر افسران کے تعصب اور اپنوں کی بے توجہی کی وجہ سے اردو کو بہار میں آج تک جائز مقام نہیں مل سکا ہے۔ عرصہ دراز سے اردو میڈیم پرائمری و مڈل اسکولوں اور گورنمنٹ اسکولوں میں اردو اساتذہ کے ہزاروں عہدے خالی پڑے ہیں جس سے کئی نسلوں کو اردو تعلیم سے محروم ہونا پڑا ہے گزشتہ ایام میں اردو کی حق تلفی کی بھر پائی کے لیے معزز وزیر اعلا بہار مسٹر نتیش کمار کی. قیادت والی حکومت نے ۲۰۱۳ میں ۲۷ ہزاراردو کے خالی عہدوں  کے لیے خصوصی اردو اساتذہ اہلیتی امتحان کا انعقاد کر وایا تھا جس میں پہلے پہل  صرف ۵۳۱۰ امیدواروں نے کامیابی حاصس کی تھی۔ بہار ایگزامنیشن بورڈ کی لا پرواہی کے سبب کئی بار رزلٹ شائع ہوا۔ آخری رزلٹ کے مطابق صرف ۱۶۸۸۱ امیدوار اہل قرارپائے جبکہ ۱۲۰۰ ہزار کامیاب امیدواروں کو بورڈ کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہزار کوشش اور تگ و دو کے بعد ۲۰۱۵ میں صدیوں پرانا نیموالی (سروس شرائط ) کے ساتھ بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں پورے بہار کے ۳۸ اضلاع ۹ ڈویزن  ۱۰۱ سب ڈویژن ۵۳۴ بلاک اور ۸۴۴۳ پنچایت کو نیوجن اکائی بنایا گیا امیدواروں نے برف کو پگھلا دینے والی سخت گرمی کے دنوں میں دوڑ بھاگ کر کے حتی المقدور  ضلع اور بیرون ضلع درخواست ڈالا۔ اس دوران بہار اسمبلی الیکشن ۲۰۱۵ کے ضابطہ اخلاق کی وجہ سے بحالی پر روک لگ گئی۔ بہار اسمبلی الیکشن سے قبل عظیم اتحاد کے سر کردہ رہنماؤں  نے اردو آبادی کو یہ یقین دلایا کہ :اگر عظیم اتحاد کی فتح ہوئی تو اردو کے تمام لا ینحل مسائل کو تر جیحی بنیاد پر حل کر وایا جائے گا۔  یہی وجہ ہیکہ بہار کے مسلمانوں نے نے نہایت خاموشی سے عظیم اتحاد کو یکمشت ووٹ دیکر فتح دلائی اور اس طرح بہار میں ک بار پھر نتیش کمار نے زمام اقتدار سنبھالتے ہی اردو کے فروغ کے لیے دل خوش کن فیصلے اور اعلانات کیے۔ یہ اور بات ہے کہ ان اعلانات کو عملی جامہ مستقبل قریب میں نہیں پہنایا جائے گا۔ اردو اور اقلیت کے تئیں ان کے سابقہ رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۰۱۶ کے فیصلے اور اعلانات کی عملی نفاذ میں کئی برس لگ سکتا ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں وہ انہیں وعدوں اور اعلانات کی دہائی دیکر اقتدار پر براجمان ہو سکے اردو اساتذہ امیدواروں نے دینے کے بعد نیمرالی کی پیچیدگی کو محسوس کرتے ہوئے ضلعی سطح پر کیمپ لگانے کے مطالبہ پر متعدد بار دھرنا اور مظاہرہ کیا کئی بار پولس سے تصادم ہونے کی صورت میں ایک عدد نوکری کے لیے پولس کی لاٹھی بھی کھائی ہے۔ موجودہ حکومت نے امیدواروں کے مطالبات سنجیدگی سے لیکن نہایت عیاری کے ساتھ تسلیم کر تے ہوئے ۲۵ جنوری ۲۰۱۶ کو دس روزہ کیمپ کا شیڈیول جاری کیا اس میں ایک عہدہ (سیٹ) پر اسی کٹیگری کے صرف ۱۰ امیدواروں کے شامل ہونے کی قید لگا دیا جس سے کیمپ کا انعقاد بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ کیمپ کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ سیٹیں رہنے کے باوجود امیدواروں کو تقرر نامہ نہیں مل پایا ہے۔ آخرش امیدواروں کو بھوکا پیاسا نامراد لوٹنا پڑتا ہے۔ کیمپ کے مطالبہ کے دوران امیدواروں نے وزیر تعلیم ڈاکٹر اوک چودھری سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ بحالی عمل کو نہایت سہل بناتے ہوئے خواتین ایس سی اور ایس ٹی زمرہ کے امیدواروں کی عدم موجودگی میں جنرل و دیگر زمرہ کے امیدواروں کا تقرر ہونا چاہیے۔ اس کیمپ میں ان اہم مطالبات کو بھی سرے سے رد کر گیا۔

پورے بہار کے روسٹر (عہدوں کی فہرست) کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تعصب پسند افسران اور نا اہل عوامی نمائندوں کی وجہ سے روسٹر غیر متوازن ہے۔ حتی کہ ریزرویشن کی آڑ میں مسلم اکثریتی علاقوں میں زیادہ سیٹیں ایس سی، ایس ٹی کی کٹیگری میں شامل کر دیا گیا ہے جس سے ۲۷ ہزار خالی عہدہ ہونے کے با وجود صرف ۱۶ ہزار ۸۸۱ امیدواروں کے لیے سیٹیں کم پڑ رہی ہیں۔ شمالی مشرقی بہار کا مسلم اکثریتی اضلاع کٹیہار پورنیہ، ارریہ اور کشن گنج میں اکثریت اردو آبادی کی ہے۔ اس لیے یہاں امیدواروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ان اضلاع میں پاس آؤٹ امیدواروں کے لیے کٹیگری (زمرہ) کے تناسب سے سیٹیں نہیں ہیں۔  صورت حال یہ ہے کہ امیدوار ہے تو سیٹ نہيں، سیٹ ہے تو امیدوار نہیں۔
دس روزہ کیمپ کو چار مرحلوں میں بانٹا گیا ہے۔ تحریر لکھے جانے تک تین مرحلوں میں ۳۰ ضلعوں میں کیمپ کا انعقاد ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیمپ کے دوران صرف ۵ فیصد امیدواروں کا تقرر ہو سکا ہے آخری مر حلے کے کیمپ میں بھی بحالی کا تناسب کچھ زیادہ اد افزا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہیکہ بحالی سے محروم امیدواروں میں شدید بے چینی و اضطراب پایا.جا.رہا ہے۔ ان کو اس بات کا غم ہے کہ دو ڈھائی سال تک جس ملازمت کے لیے خون پسینہ بہایا انتظار کیا اس کی ملنے کی کوئی یقینی پہلو نظر نہیں آرہا ہے۔ حیرت کی بات ہیکہ ریاست کو تعلیم میں اول مقام دلانے کا دعوا کر نے والے آئی ٹی و ایجوکیشن منسٹر اردو اساتذہ کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامت کر نے کے بجاۂے بحالی عمل میں تر میم کے نام پر بیجا پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں۔ مروجہ بحالی نظام سے مکمل بحالی محض مونگیری لال کا سپنا بن کر رہ جا ئے گا جبکہ وزیر تعلیم اپنے اخباری بیان کے ذریعہ اردو آبادی کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ : ہم اردو اساتذہ کی مکمل بحالی کے لیے پابند عہد ہیں . بہار کی سیاست کا مکروہ چہرہ یہ بھی ہیکہ یہاں کے تعلیمی اداروں اور معلمین کی بحالی میں تخریبی سیاست داں رخنہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں
انفارمیشن اون ٹیکنالوجی کے  تیز رفتار عہد میں کسی ویکنسی کی بحالی کے لیے ہزاروں نیوجن اکائیوں میں درخواست ڈالنے کا طریقۂ کار نہایت ناقص اور نا مکمل ہے۔ موجودہ دور میں امتحانات کے فارم پر کرنے سے لے کر ایڈمٹ کارڈ اور رزلٹ کی اشاعت سب آن لائن ہو رہا ہے۔ کیا اساتذہ کی بحالی صرف ایک درخواست سے ممکن نہیں ہے؟ کیا مستقبل کے معزز اساتذہ کو گلیوں، محلوں اور شہروں میں دوڑانا شرافت ہے؟ ملازمت کے لیے امیدواروں کو ایک میدان میں جمع کرنا، چند کو تقرر نامہ سونپنا بقیہ کو بیرنگ واپس کرنا، بے روزگاروں کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ کسی کا استحصال جائز ہے؟ کسی کے عزت نفس کو تار تار کرنا کہاں تک درست ہے؟ تعلیم پاکر باعزت شہری بننے کاارمان لیے ان ہزاروں امیدواروں کی ذہنی، جسمانی اور معاشی کرب ناکیوں کو حکومت کو محسوس نہیں کرنا چاہیے؟

ان چند سوالات کو حکو مت اپنے لیے آئینہ تصور کرتے ہوئے مستقبل کے معماران قوم و ملت پر منصفانہ رویہ اختیار کر ے۔ معزز وزیر اعلا نتیش کمار کا مساراتی نعرہ “انصاف کے ساتھ ترقی” تبھی با معنی ثابت ہوگا جب دیگر با شندگان بہار کے ساتھ مسلم اور اردو آبادی کو ان کا جائز حق ملے گا۔ چونکہ سیکولرازم کے چراغ سحری کو بہار کے مسلمانوں نے جس دانش مندی اور خاموشی سے لو بڑھائی ہے یہ ملک و ملت و قوم پر اہل بہار کا بڑا احسان ہے۔ بر سراقتدار جماعت کی سیاسی قوت بھی انہیں کی رہین منت ہے۔ لہذا حکومت ترجیحی بنیاد پر اقلیت کے دیگر مسائل کے ساتھ اردو اساتذہ بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات  بحالی کو سہل بنانے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہیکہ مقررہ میعاد کے اندر ضلع کو مرکز بناکر امیدواروں سے صرف ایک درخواست طلب کرے جن زمروں کے امیدوار نہیں ہیں ان عہدوں پر موجود دوسرے زمرہ کے امیدواروں کو موقع فراہم کر ے علاوہ اس کے موجود ہ بحالی نظام میں نیموالی کے ضابطوں کے مطابق چند ترمیم کے ساتھ ایک اور کیمپ کے لیے جلدازجلد لائحۂ عمل طے کیا جائے۔ اردو اساتذہ کی مکمل بحالی کا مطالبہ ‘وعدہ ‘کو عملی جامہ پہنا کر معزز وزیر اعلا نتیش کمار اردو نوازی کا ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ اردو انجمنوں و دیگر ملی تنظیموں کے سر براہان کو بھی اردو کے فروغ، ترقی اور نفاذ کے لیے مجاہدانہ کر دار ادا کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جا نا چاہیے تا کہ اردو کی بقاء یقینی ہو سکے اردو سے وابستہ ادیبوں، قلمکاروں اور معلموں کا مستقبل روشن ہو سکے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *