اردو دنیا اپنے ایک سچے عاشق سے محروم

عبد الرؤف خان کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر کا اظہار تعزیت

نئی دہلی: مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے کارگزار صدر ، اردو کے سچے عاشق اور شیدائی عبد الرؤف خان کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ عبد الرؤف خان نے اردو کے فروغ اور حقوق کے لیے جو جدو جہد کی ہے، اسے اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ وہ ہمیشہ اردو کے فروغ کے لیے سرگرم اور کوشاں رہتے تھے۔ انہیں اردو سے اتنا عشق تھا کہ انہوں نے بھساول میں اپنی ذاتی زمین پر اردو اسکول اور جونئیر کالج قائم کیے۔اردو کی فلاح و بہبود کے لیے جو کچھ بھی ہو سکتا تھا، وہ انہوں نے کر کے دکھایا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے مزید کہا کہ ان کے دور صدارت میں مہاراشٹر اردو اکادمی بہت ہی فعال اور سرگرم رہی۔ مختلف ادبی اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے انہوں نے اردو اکیڈمی میں ایک نئی جان ڈال دی تھی۔ اسی لیے انہیں مہاراشٹراسٹیٹ اردو اکیڈمی کے سب سے فعال کارگزار صدر کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔
قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹرنے عبد الرؤف خان کی وفات کو اردو دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اردو کے فروغ کے لیے بہت سے اداروں اور تنظیموں کے سربراہوں سے بھی ملاقات اور تبادلۂ خیال کرتے رہتے تھے۔ قومی اردو کونسل کی تقریبات میں بھی انہوں نے شرکت کی ہے اور اس ادارے سے انہیں ایک خاص لگاؤ تھا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کے انتقال پر اردو کا سماجی ادبی ثقافتی حلقہ سوگوار ہے، وہ ایک اچھے انسان تھے۔ اولیاء کرام سے انہیں خاص عقیدت تھی۔ ناگپور کے بابا تاج الدین سے ان کا ایک خاص لگاؤ تھا اور انہیں کے آستانے میں حاضری کے دوران حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ خدا مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *