اردو رسم الخط کو عام کریں: پروفیسر ارتضٰی کریم

چنئی میں تمل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام دو روزہ سیمینار

بائیں سے: سید ابراہیم، عامر علی خان، پروفیسر ارتضیٰ کریم، موسیٰ رضا، ملک العزیز (مائک پر)
بائیں سے: سید ابراہیم، عامر علی خان، پروفیسر ارتضیٰ کریم، موسیٰ رضا، ملک العزیز (مائک پر)

چنئی، ۱۰ مئی (شاہنواز بدر قاسمی): شہر مدراس میں تمل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی کا دو روزہ سیمینار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تعاون سے منعقد ہوا، جس کا عنوان ’دور جدید میں اردو زبان کی اہمیت اور افادیت‘ تھا۔ رابطہ کمیٹی کے صدر وسینئر صحافی ملک العزیز کاتب نے صدارت کی۔ پدم بھوشن موسیٰ رضا آئی اے ایس (ریٹائرڈ) نے جلسہ کا افتتاح کیا۔ قومی کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ دیگر مہمانان اعزازی میں سید محمد ابراہیم، ایم نذر محمد، محمد امان اللہ شاہ اور روزنامہ سیاست حیدرآباد کے نیوز ایڈیٹر عامر علی خاں شریک رہے۔ حیدر آباد کے ڈاکٹر مختار احمد فردین کی کتاب ”پرورش لوح و قلم“ کا اجراء بھی پروفیسر ارتضٰی کریم کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

اس موقع پر سیمینار کے کنوینروتمل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی کے صدر ملک العزیز کاتب نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے رابطہ کمیٹی اردو کے سلسلے میںمسلسل کوشاں و سرگرداں رہی ہے۔ سیاسی و سماجی سطحوں پر اس کی خدمات قابل قدر ہیں۔ ہمارے جلسوں میں کرناٹک کے وزیر جناب قمر الاسلام، آندھراپردیش کے سابق وزیر جناب بشیر الدین بابو مرحوم کے علاوہ کئی غیر ملکی ادیب و شعراء شرکت کر چکے ہیں۔ انھوں نے تمل ناڈو کے سرمایہ دار طبقہ سے گذارش کی کہ وہ تمل ناڈو کو درپیش اردو زبان کے مسئلہ کو حل کر نے کے لئے مزید قوت کے ساتھ آگے آئیں۔ اردو رابطہ کمیٹی اسی سال ایک بین الاقوامی سیمینار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے لئے ریاست کے سرمایہ داروں اور تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے علاوہ قومی اردو کونسل سے بھی گذارش کی کہ اس سیمینار کے انعقاد میں بھرپور تعاون کرے۔

حیدر آباد             یونیورسٹی کے اردو پروفیسر محمد زاہد الحق نے خوبصورت زبان میں جلسہ کی نظامت فرمائی اور جابجا برجستہ اشعار کے ذریعہ حاضرین کا دل موہ لیا۔ چنئی کے مشہور تعلیمی ادارہ سدرن انڈیا ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین پدم بھوشن موسیٰ رضا آئی اے ایس (ریٹائرڈ) نے سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو میں اردو کے فروغ کا کام کرنا بہت ہی دشوار گذار اور دقّت طلب کام ہے۔ ایسے میں اردو کے لئے کوئی بھی کوشش قابل ستائش ہے۔ گورنمنٹ کی سطح پر زیادہ توقعات رکھنے کے بجائے پرائیویٹ سطح پر ہمیں کوششوں کو جاری رکھنی چاہیے۔ ہر اردو داں یہ کوشش کرے کہ وہ غیر اردو داں کو اردو زبان سکھائے۔ انھوں نے رابطہ کمیٹی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ مسلم ایجوکیشن ایسوسی ایشن آف سدرن انڈیا کے نائب سکریٹری محمد امان اللہ شاہ نے کہا کہ ان کے ادارہ کی جانب سے اردو کے لئے ہر قسم کی تائید جاری رہے گی۔ مظہر العلوم کالج آمبور کے سکریٹری و کرسپانڈنٹ ایم نذر محمد نے کہا کہ ابتدائی درجوں سے ہی بچوں کو اردو زبان پڑھائی جانی چاہیے، تبھی ایک طالب علم اچھی طرح سے اردو سیکھ سکتا ہے۔ ا نھوں نے کہا کہ عدالت میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس کے لئے ہم سب مل کر ایک جٹ ہو کر کام کرنا چاہیے اور ہم کام کریں گے۔ شہر کے مشہور سماجی کار کن سید محمد ابراہیم، سکریٹری تمل ناڈو ڈیولپمنٹ ٹرسٹ نے کہا کہ ہمارے بزرگ فارسی اور اردو میں لکھتے پڑھتے تھے، مگر موجودہ نسل ان دونوں زبانوں سے کنارہ کش ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر گلی کوچہ میں اس سلسلے میں بیداری پیدا کریں۔ انھوں نے یقین دلایا کہ وہ اپنے ادارہ کے ذریعے اگلے مہینے سے اردو کے فروغ کے لئے میدان میں اتر جائیں گے۔

حیدر آباد کے مشہور روزنامہ ’سیاست‘ کے نیوز ایڈیٹر عامر علی خاں نے کہا کہ اردو کو عملی طور پر برتنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے اخبار اور ادبیات اردو کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو اردو لکھنا پڑھنا سکھا چکے ہیں اور ان کا یہ مشن جاری و ساری رہے گا۔ اب سوشل میڈیا میں اردو کا فی استعمال ہونے لگی ہے، اس لئے اب نوجوان نسل سوشل میڈیا میں اردو کا استعمال کرے۔ انھوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں اردواخبار کی اشاعت یا اردو کے تعلق سے کسی بھی تعاون کے لئے تیار ہیں۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ وہ ایک بین الاقوامی سیمینار کے لئے تمل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اردو والے صرف بولنے کی حد تک اردو زبان بولتے ہیں، مگر لکھنے پڑھنے کے معاملے میں کافی کمزور ہیں۔ آج اردو کی زبوں حالی کے لئے صرف اردو والے ہی ذمہ دار ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ اردو رسم الخط کو عام کریں اور اردو زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھیں۔ ہر اردو پڑھا لکھا شخص کم از کم ایک غیر اردو داں کو اردو لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اردو کا بو ل بالا ہوسکتا ہے اور اردو کے فروغ کے لئے نوجوان نسل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اور تمل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی جیسے اداروں کو مزید اعلیٰ سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اگلے دن ’دور جدید میں اردو زبان کی اہمیت و افادیت ‘ کے عنوان پر پرمغز مقالے پڑھے گئے۔ مقالے پڑھنے والوں میں ڈاکٹر زاہد الحق حیدر آباد، جناب سراج زیبائی شیموگہ، ڈاکٹر مختار احمد فردین حیدرآباد، ڈاکٹر امان اللہ ایم۔ بی، مدراس یونیورسٹی اور ڈاکٹر ایم سعید الدین اسلامیہ کالج وانمباڑی وغیرہ شامل ہیں۔ اس نشست کی صدارت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کی اور کونسل کی مرکزی گورننگ کونسل کی رکن محترمہ منوری بیگم نے بھی شرکت کی اور اردو کے کام کے لئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *