اردو زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی امین ہے : پروفیسر عبدالغفور

اردو ایک ہندوستانی زبان ہے اور اس نے عالمی سطح پر لسانی شناخت مستحکم کی ہے :پروفیسر کشواہا
بہار کے ادبا وشعرانے ہر عہد میں اردو زبان وادب کی آبیاری کی ہے : پروفیسر سید ممتاز الدین
(مارواڑی کالج دربھنگہ میں دوروزہ قومی سیمینار کا افتتاح )

National Seminar by Bihar Urdu Academy

دربھنگہ، 9 فروری : ہندوستانی تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اردو زبان نے ملک میں قومی ہم آہنگی اور حب الوطنی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیاہے ۔ اورعالمی سطح پر یہ حقیقت تسلیم کی جاچکی ہے کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی امین ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر عبدالغفور، وزیر برائے محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود حکومت بہار نے کیا ۔ موصوف مقامی مارواڑی کالج دربھنگہ میں دوروزہ قومی سیمینار9-10 فروری بعنوان ’اردو زبان وادب کے فروغ میں بہار کا حصہ ‘کے افتتاحی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بہار کی موجودہ حکومت نہ صرف اقلیتی طبقہ کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے کئی ٹھوس اقدامات کررہی ہے ، بلکہ لسانی مسائل کے حل کے لیے بھی فکر مند ہے ۔پروفیسر عبدا لغفور نے کہا کہ اردو کی ترقی اس لیے ضروری ہے کہ اس سے ہماری گنگا جمنی تہذیب زندہ ہے ۔ اردو کے ادبا وشعرانے ملک وقوم کے لیے جو خدمات انجام دی ہےں ، وہ ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اسے کسی بھی طرح فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کا فروغ اس کے بولنے والوں پر منحصر ہے ۔ اردو آبادی کو اپنی زبان کے تحفظ کے تئیں بیدار ہونا ہوگا ۔ اس وقت بہار حکومت ترقیاتی کاموں میں کسی بھی طرح تفریق نہیں کرتی ، بالخصوص ہمارا محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود اقلیتی طبقے کے من جملہ مسائل کو حل کرنے کو شش کررہاہے اور اس میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی بھی مل رہی ہے ۔ پروفیسر عبدا لغفور نے کہا کہ آج کا یہ سیمینار نہ صرف بہار کی ادبی اور علمی تاریخ میں گراں قدر اضافہ کرے گا، بلکہ نئی نسل کے لیے مشعل راہ بھی ثابت ہوگا کہ وہ اپنے اکابرین شعر اوادبا کی خدمات کی واقف ہو سکیں گے۔انھوں نے کہا کہ بہار حکومت اردو کے فروغ کے تعلق سے پابند عہد ہے ۔ اس لیے ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جمہوری طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔
National Seminar by Bihar Urdu Academy (2)

جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر ساکیت کشواہا ، وائس چانسلرللت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ نے کہا کہ اردو ایک ہندوستانی زبان ہے اور اس نے عالمی سطح پرہمار لسانی شناخت مستحکم کی ہے ۔ آج پوری دنیا میں اردو شاعری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مارواڑی کالج میں اس اردو سیمینار کا ہونا ایک تاریخی واقعہ ہے ، کیوں کہ اب تک یہاں اردو کا کوئی سیمینار نہیں ہوا تھا ۔ میں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوںنے کالج میں اکیڈمک ماحول کو سازگار بنانے کے لیے اس طرح کی علمی کوشش کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آج معیار ی تعلیم کی اہمیت ہے اور معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ نصابوں کے علاوہ طلبا کو باہری سے دنیاسے بھی باخبر رکھا جائے اور اس کے لیے سیمینار اور مذاکرات ضروری ہیں کہ ان سے نہ صرف اساتذہ اپ ٹو ڈیٹ ہوتے ہیں بلکہ طلبا بھی مستفید ہوتے ہیں۔
جلسہ کے مہان ذی وقار پروفیسر سید ممتازالدین ، پرووائس چانسلر للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ نے کہا کہ سیمینار کا موضوع ’اردو زبان وادب کے فروغ میں بہار کا حصہ ‘نہ صرف اچھوتا ہے بلکہ بہار کے ادبا اورشعرا کی خدمات کا اعتراف ہے ۔ کیوں کہ بہار کے اکابرین اور عصر حاصر کے قلمکاروں نے اردو زبان وادب کے پودوں کی اپنے خون دل سے آبیاری کی ہے ۔ پروفیسر موصوف نے کہا کہ ہر عہد میں یہاں کے شعرا،افسانہ نگار ، ناول نگار ، انشائیہ نگار اور صحافیوں نے قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے ۔ عہد حاضر میں ہندوستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں بھی لکھنے پڑھنے والے اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں میں بہار سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد قابل رشک ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس سمینار میں جو مقالات پڑھے جائیں گے اور پھر کتابی شکل میں شائع ہوں تو اس سے بہار کی ادبی اہمیت کے باب کھلیں گے ۔
روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر شاہد لطیف نے کہا کہ بہار کی تاریخ کا ہر ورق روشن ہے ۔ بہار سے لوگوں کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ فروغ اردو کے لیے بہار کو وہ مثال پیش کرنی چاہئے کہ دوسری ریاست بھی اس سے سبق حاصل کریے ۔
مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل ڈاکٹرمشتاق احمد نے کہا کہ مارواڑی کالج دربھنگہ کا قیام 1958میں ہوا لیکن اب تک یہاں شعبہ اردو نہیں تھا ، اس کالج میں میری آمد بحیثیت پرنسل جون 2014میں ہوئی اور میں نے عہدہ سنبھالتے ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ کالج میں شعبہ اردو اور شعبہ ہوم سائنس کھولے جائیں گے ۔ الحمداللہ اب ان شعبوں کے کھلنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے اور اسی اکیڈمک سیشن سے پڑھائی شروع ہوجائے گی۔ اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد بہار کی ادبی اور لسانی خدمات کو اجاگر کرنا ہے اور نئی نسل میںاردو زبان وادب کے تئیں رغبت دلانا ہے ۔ ڈاکٹر احمد نے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اور بہار اردو اکادمی پٹنہ نے جو جزوی تعاون دیا ہے ، اس کے تئیں ہم اظہار تشکر کرتے ہیں اور تمام شرکائے اجلاس کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں کہ انھوں نے ہماری دعوت پر لبیک کہا ہے ۔واضح ہوکہ اس دوروزہ سیمینار میں دودرجن سے زائد ادبا اور ریسرچ اسکالر س شامل ہیں۔ ان میں جناب شاہد لطیف(ممبئی)، پروفیسر کوثر مظہری ، ڈاکٹر ندیم احمد (جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی )، ڈاکٹر ابوبکر عباد ، ڈاکٹر محمد کاظم (ڈی یو ،دہلی )، جناب مشتاق احمد نوری (سکریٹری بہاراردو اکادمی، پٹنہ )، جناب ایس ایم اشرف فرید (پٹنہ)،احمد جاوید (پٹنہ )، ڈاکٹر صفدر امام قادری (پٹنہ )، ڈاکٹر سید شہباز (پٹنہ )، ڈاکٹر ریحان غنی (پٹنہ )، جناب محبوب رضا (کولکاتا)، پروفیسر شہاب الدین ثاقب ، ڈاکٹر محمد علی جوہر (اے ایم یو علی گڑھ)، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی (پٹنہ یونیورسٹی )، ڈاکٹر شائستہ انجم (پٹنہ ) ، ڈاکٹر ابوبکر رضوی (پٹنہ )، پروفیسرمحمد فیروز احمد ڈاکٹر عالم گیر شبنم (دربھنگہ)وغیرہم کے ساتھ ریسرچ اسکالر س بھی اپنامقالہ پیش کریں گے ۔ ان میں سلمان عبدالصمد (جے این یو ،نئی دہلی)عبدالرحمن ارشد ،شاہنواز ہاشمی(ڈی یو ، دہلی )، جاوید اختر (جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی) مسرور فیضی (ایل این ایم یو ، دربھنگہ)، ارشاد مقصود (بڑودہ یونیورسٹی ،گجرات) شمشیر علی (ایم اے یو ،علی گڑھ) وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔آج افتتاحیہ کے بعد ایک خصوصی اجلاس ہوا ، جس میں بہار کی موجودہ صحافت کی سمت ورفتار اور زبان وادب پر کئی فاضل نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *