اردو صحافت میں سیکولرزم کو لانے کی ضرورت ہے: فاطمی

المنصور ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ’بہار میں اردو صحافت ۔ سمت ورفتار‘ پر قومی سمینار

21dar13

دربھنگہ، ۲۱ اپریل (فردوس علی): المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام ملت کالج دربھنگہ میں قومی سمیناربعنوان ”بہار میں اردو صحافت ۔ سمت ورفتار“ کا افتتاح سابق وزیر محمد علی اشرف فاطمی، پرو وائس چانسلر پروفیسر سید ممتاز الدین اور پرنسپل ڈاکٹر محمد رحمت اللہ نے کیا۔ افتتاحی تقریب کی صدارت ڈاکٹر عبد المنان طرزی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض عبد المتین قاسمی نے انجام دیے۔ ڈاکٹر عبد المنان طرزی نے استقبالیہ نظم پیش کرتے ہوئے تشریف آوری کے لئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرسٹ کے سکریٹری منصور خوشتر نے ٹرسٹ کی کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ۱۲۵ سے زائد ادبی وشعری نشست، ۶ کل ہند وریاستی سمینار، دربھنگہ ٹائمز کی اشاعت وغیرہ اس ٹرسٹ کا اہم کارنامہ ہے۔ وہیں مہمان خصوصی سابق وزیر محمد علی اشرف فاطمی نے ریاست میں تعلیم نسواں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زبان کسی مذہب کی نہیں ہوتی۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ اس ملک میں ایک سازش کے تحت اردو زبان کو ایک مذہب سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، جس پر ہم بھی بہت خوش ہیں۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ اردو زبان یہیں پیدا ہوئی اور اس سے خوبصورت زبان ہندوستان میں نہیں ہے۔ اردو ملک کو جوڑنے والی زبان ہے۔ اردو کو پورے ملک میں مرکزیت حاصل ہے۔ زبانیں وہی زندہ رہتی ہیں جن کو روزگار سے جوڑا جائے اور اس لیے میں نے اپنی وزارت میں اس کی پہل بھی کی۔

بہار اردو اکیڈمی کے سکریٹری مشتاق نوری نے کہا کہ اس وقت پورے بہار میں صحافت پر سیمینار کا انعقاد اس لئے کئے جارہا ہے کہ صحافت کو ۲ سو سال پورے ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صحافت صرف قلم کو کاغذ پر گھسیٹنے کا نام نہیں بلکہ ایک عبادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت نے ظلم کے خلاف آواز بلندی اور آزادی کی جنگ لڑی۔ آج کے صحافی اپنی اہمیت اور قوت کا اندازہ نہیں کر پارہے ہیں۔ اب صحافت مجبوری کا ایک نام ہوگیا ہے۔ یہاں صحافت میں استحصال بہت ہورہا ہے۔ اردو ہمارا تشخص ہے اور اگر ہم اردو سے محروم ہوگئے تو اپنے تشخص سے محروم ہوجائیں گے۔ اس لیے ہمیں اردو اخبار ضرور پڑھنا چاہئے۔

21dar14 (1)

پروفیسر سید ممتاز الدین نے کہاکہ بہار میں اردو صحافت کا سنہرا ماضی رہا ہے اور حال بھی روشن ہے لیکن اس کے باوجود تسلیم کرنا چاہیے کہ یہاں معیار میں کمی آئی ہے اور جس طرح سے ہر میدان کے بارے میں اور بطور خاص علمی وسائنسی پروگراموں کا کوریج ہونا چاہیے وہ اردو صحافت میں نہیں ہوپاتا ہے بلکہ ہر میدان کی رپورٹنگ کے لیے اردو صحافی بھی موجود نہیں ہیں۔ دربھنگہ میں اردو صحافی جس طرح سے محنت کرتے نظر آتے ہیں دوسرے اضلاع میں وہ محنت نہیں ملتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ضلع میں اسی طرح کے محنت کش صحافی سامنے آئیں۔ ہم دیکھ رہے کہ دربھنگہ میں سمینار ہوتے رہتے ہیں جس سے یہاں کے علمی مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ بہار میں اردو صحافت کی روایت کوئی نئی نہیں ہے۔ ۱۸۵۳ میں بہار سے اردو صحافی نکلنے لگے تھے، یہاں سے ہزاروں رسالے نکلے اور بند بھی ہوئے۔ ارد و صحافت جنگ آزادی اور تقسیم کے اثرات سے متاثر ہوئی اس کے باوجود اردو صحافت نے ہمیشہ حق کی علم بردار ی کی۔ اردو اخبارات بہت آگے نکل گئے۔ ہم لوگ وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اردو اخبارات کا معیار گھٹا ہے۔ یہی وجہ ہے لوگ دیگر زبانوں کے اخبارات پڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پروگرام کے منتظمین بطور خاص ڈاکٹر منصور خوشتر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں اسی طرح کی لگن اور دلچسپی کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمد رحمت اللہ نے کالج میں سیمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صحافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے غیر جانب دار ہونا چاہیے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ پروگرام کا اختتام المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر کے اظہار تشکر پر ہوا۔ پروگرام کی نظامت عبد المتین قاسمی نے انجام دیئے۔ پروگرام کے درمیان بہار اردو اکاڈمی پٹنہ کے سکریٹری مشتاق احمد نوری کے ہاتھوں ۲۰۱۴ میں کتابوں پر انعام پانے والے دربھنگہ کے ڈاکٹر منصور خوشتر اور ڈاکٹر قیام نیئر کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *