اردو میں دوسری زبانوں کے گوہرِ نایاب لانے کی ضرورت: پروفیسر ارتضیٰ کریم

NCPUL_Social Science Panel Meeting

نئی دہلی، ۴ فروری: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف میرو غالب اور داغ پر کتابیں لائی جائیں بلکہ دوسرے علوم و فنون میں جو جواہرات ہیں اسے اردو زبان میں ترجمہ کرایا جائے تاکہ قارئین اردو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔ کونسل یہ بھی چاہتی ہے کہ ایسے علمی موضوعات جس کا اردو میں فقدان ہے اسے اوریجنل یا تراجم کے ذریعے اردو میں لایا جائے۔
یہ باتیں کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے سوشل سائنس پینل میٹنگ میں کہیں۔ اس پروگرام کا انعقاد قومی اردو کونسل کے صدر دفتر (جسولہ) میں کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابن خلدون کی ۱۴ جلدوں پر مشتمل عربی زبان میں جو کتاب ہے اس کا اردو میں ابھی تک ترجمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ کونسل کی پہل پر اس کی پہلی جلد شائع ہو چکی ہے جب کہ دوسری اور تیسری جلد زیر غور ہے۔
اس پروگرام کی صدارت محترمہ سیدہ سیدین حمید نے کی۔ انھوں نے کونسل کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ معینہ مدت میں ’تاریخ ابن خلدون‘ کی تمام جلدوں کے تراجم کرا لیے جائیں گے۔ اس موقعے پر پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ تاریخ ابن خلدون کی بڑی اہمیت و افادیت ہے۔ گرچہ انگریزی میں اس کے تراجم موجود ہیں لیکن اردو میں ناپید ہیں، اگر اس کا مکمل ترجمہ ہو جائے تو اردو والوں کے لیے یہ گوہر نایاب ہوگا۔ اردو زبان میں علمی موضوعات پر ایسی کتابوں کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ کونسل اس سمت میں جو اقدامات اٹھانے جا رہی ہے وہ قابل ستائش ہے۔
اس موقعے پر جناب نریش ندیم نے کہا کہ میں ادب مخالف نہیں ہوں، اردو میں لکھنے والوں کی اکثریت ادب اور تنقید تک محدود ہے۔ جبکہ سائنس ، سوشل سائنس، میڈیا اور جدیدعلوم و فنون جیسے موضوعات پر بھی ترجیحی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہم دوسری زبانوں کے مد مقابل کھڑے ہوپائیں گے۔ آج دوسری زبانوں میں ہر طرح کے موضوعات پر کتابیں یا تراجم دستیاب ہیں، اردو میں اس کی بہت کمی ہے۔
اس میٹنگ میں پروفیسر ایم ایچ قریشی، پروفیسر پیرزادہ فہیم الدین، جناب نریش ندیم، ڈاکٹر مظفر اسلام، محترمہ عذرا عابدی، جناب سجاد عالم رضوی، ڈاکٹر سلیم محی الدین غلام محی الدین، کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، محترمہ شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر اکیڈمک)، محترمہ ذیشان فاطمہ، جناب فیروز عالم (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر) اور ڈاکٹر شاہد اختر نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *