’’اردو میں طبی تراجم کا لسانیاتی جائزہ‘‘ پر بین الاقوامی سیمنار

اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کے ذریعہ تمام تیاریاں مکمل

نئی دہلی، ۱۷ فروری: دنیا کے مختلف علوم و فنون سے استفادہ حاصل کرنے میں ترجمہ کو ایک اہم آلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ترجمے کے فن نے ہی عربوں کے ذریعہ سب سے پہلے طب و جغرافیہ، سائنس و حسابیات کے میدان میں کی گئی متعدد ایجادات کا علم یونانیوں تک پہنچایا۔ پھر وہاں سے یہ علم انگریزوں کے پاس اور پھر پوری دنیا تک پہنچا۔ طب یونانی کا علم ہم ہندوستانیوں تک ترجمے کے ذریعہ ہی پہنچا۔ ہم نے عربی اور فارسی زبانوں میں موجود یونانی طریقہ علاج کی کتابوں کا سے نہ صرف استفادہ کیا، بلکہ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی کرائے۔

اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن (آئی ایچ ایف) اس اہم کام میں شروع سے ہی بنیادی رول ادا کرتا رہا ہے۔ ترجمے کی اسی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے آئی ایچ ایف نے اِس بار منعقد کیے جانے والے اپنے دو روزہ بین الاقوامی سیمنار کا عنوان ’’اردو میں طبی تراجم کا لسانیاتی جائزہ‘‘ رکھا ہے۔ فاؤنڈیشن کے ذریعہ یہ سیمنار ۱۹ اور ۲۰ فروری، ۲۰۱۶ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایف ٹی کے سی آئی ٹی ہال میں منعقد کیا جائے گا۔ آئی ایچ ایف کو اس سیمنار کے انعقاد میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) اور شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تعاون حاصل رہے گا۔ قومی اردو کونسل اردو کے فروغ کے تعلق سے ملک بھر میں اس قسم کے سیمنار کو منعقد کرنے میں ہر سال متعدد اداروں و تنظیموں کو مالی تعاون فراہم کرتی رہے ہے۔

اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کی یہ کوشش اس لیے بھی قابل تحسین ہے کہ دوسری زبانوں کی طرف سے اردو پر اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ اصطلاح سازی کے معاملے میں اردو کافی کمزور ہے اور اردو میں انگریزی الفاظ و اصلاحات کو جوں کا توں اختیار کر لیا جاتا ہے۔ قومی اردو کونسل نے دو تین دہائی قبل اردو میں اصطلاح سازی پر کافی زور دیا تھا اور متعدد مضامین کی اصطلاحات کے لغت تیار کروائے تھے، لیکن اُن لغات پر دوبارہ کام نہیں ہوا، جب کہ تب سے لے کر اب تک ہزاروں نئی اصطلاحات ہمارے سامنے آ چکی ہیں اور اردو میں ہمارے پاس ان کے متبادل موجود نہیں ہیں۔

اب جب کہ اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نے بھلے ہی اردو میں طبی تراجم کا لسانیاتی جائزہ لینے کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کو اس بین الاقوامی سیمنار میں دعوت دی ہے، لہٰذا ہمیں امید ہے کہ قومی اردو کونسل کو بھی اس سے حوصلہ ملے گا اور وہ اس سمت میں نئے سرے سے اردو میں اصطلاح سازی پر ضرور غور کرے گی۔

آئی ایچ ایف کے ذریعہ منعقد کیے جانے والے اس دو روزہ بین الاقوامی سیمنار کی تفصیل یہ ہے کہ اس کا آغاز ۱۹ فروری بروز جمعہ دوپہر ڈھائی بجے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایف ٹی کے سی آئی ٹی ہال میں شاہنواز فیاض کے ذریعہ تلاوتِ قرآن پاک سے ہوگا۔ اس کے بعد منتظمہ کمیٹی کے چیئرمین محسن دہلوی تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے خیر مقدمی کلمات پیش کریں گے۔ پھر دہلی اردو اکیڈمی کے سابق وائس چیئرمین پروفیسر الطاف احمد اعظمی کا کلیدی خطبہ ہوگا۔ کلیدی خطبہ ختم ہونے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر وہاج الدین علوی اپنے تاثرات پیش کریں گے۔ سیمنار کے کنوینر جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد ہیں۔

اس افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ملک کے وزیر زراعت جناب رادھا موہن سنگھ ہوں گے، جن کے ہاتھوں چند کتابوں کا اجراء ہوگا اور ایوارڈ دیے جائیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن ہر سال طب یونانی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے حضرات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیتا ہے۔ اِس سال تین افراد کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو وزیر زراعت جناب رادھا موہن سنگھ کے ہاتھوں اسے حاصل کریں گے۔ افتتاحی تقریب کے خاتمہ پر صدارتی تقریر وزارتِ زراعت میں سکریٹری کے عہدہ پر فائز آئی اے ایس افسر، سراج حسین کریں گے، جب کہ مہمانانِ گرامی کا شکریہ منتظمہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی ادا کریں گے۔ یہ پروگرام شام کے ساڑھے پانچ بجے تک چلے گا۔

اگلے دن، یعنی ۲۰ فروری بروز ہفتہ ملک و بیرونِ ملک سے تشریف لانے والے ماہرین سیمنار میں اردو میں طبی تراجم پر اپنے بیش قیمتی مقالات پیش کریں گے۔ مقالہ نگاروں کے نام یوں ہیں : بحرین سے فیضی علی صدیقی، قطر سے ڈاکٹر عبیدالرحمٰن اعظمی، ہندوستان سے ڈاکٹر عابد معز، حیدر آباد؛ حکیم وسیم اعظمی، لکھنؤ؛ ڈاکٹر مقبول احمد خاں، لکھنؤ؛ ڈاکٹر تابش مہدی، نئی دہلی؛ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، نئی دہلی؛ ڈاکٹر خورشید آفاق، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ ڈاکٹر عبدالناصر فاروقی، قرول باغ طبیہ کالج، نئی دہلی؛ ڈاکٹر محمد اکرم، دہلی یونیورسٹی؛ ڈاکٹر بدرالدجیٰ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی؛ حکیم محمد طارق اصلاحی، ممبئی؛ ڈاکٹر فیاض احمد، بنگلور؛ ڈاکٹر جاوید احمد، مالے گاؤں؛ ڈاکٹر وسیم احمد، بنگلور؛ ڈاکٹر شمیم ارشاد، دیوبند؛ ڈاکٹر امان اللہ، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی؛ سہیل انجم، نئی دہلی؛ حکیم خورشید احمد، شفقت اعظمی، نئی دہلی؛ حکیم عبدالباری، ڈاکٹر اشہر قدیر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی؛ ڈاکٹر شاہنواز فیاض، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی؛ ڈاکٹر فضیل احمد، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی؛ پروفیسر محمد تاج الدین، ڈاکٹر تابش خان، زبیریہ نیریہ، کولکاتا اور ڈاکٹر اورنگ زیب، دہلی۔

مہمانِ اعزازی کے طور پر ڈاکٹر راشداللہ خاں، وائس چیئرمین سی سی آئی ایم؛ ڈاکٹر عبدالرحمٰن، قونصلر سفارت خانہ مصر؛ پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور رزمی یونس، ڈائرکٹر اِرم یونانی میڈیکل کالج، لکھنؤ شرکت کریں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *