اردو کے نام پر یہ ایوارڈ پانے والے!

nehal 3

نہال صغیر

مسلمانوں کی طرح اردو بھی مصیبت کی ماری زبان ہے۔ جس طرح  بھوکا انسان کھانا دیکھنے کے بعد صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے، ٹھیک اسی طرح اردو زبان کے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کا حال ہو گیا ہے۔ اگر وہ ایوارڈ کے لئے منتخب ہوتے ہیں، تو سمجھتے ہیں جیسے ہفت اقلیم کی دولت ہاتھ آگئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ایوارڈ وصول کرتے وقت یہ دھیان تک نہیں دیتے کہ اس ایوارڈ کے ساتھ ساتھ ان کی اور ان کی مادری زبان کی کتنی تضحیک کی گئی ہے۔ اس سال مہاراشٹر اردو ادبی ایوارڈ تقسیم کرتے ہوئے بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ روایت سے ہٹ کر شیلڈ پر وزیر برائے اقلیتی امور ایکناتھ کھڑسے اور ان کے محبوب نظر اکیڈمی کے کارگزار صدر عبد الرؤف خان صاحب جنہوں نے ایکناتھ کھڑسے کی محبت میں اپنے نام کے ساتھ بھی کھڑسے لگا رکھا ہے، کی تصویریں نمایاں طور پر چھپی تھیں۔ این سی پی یو ایل کے وائس چیئرمین مظفر حسین کے مطابق، یہ انتہائی ذلیل، سطحی اور گھٹیا حرکت ہے۔ اس کے خلاف اردو داں حلقہ کو احتجاج کرنا چاہئے، تاکہ آئندہ اس طرح کی حرکت کرکے اردو والوں کو ذلیل نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ جس کو دیا جارہا ہے، وہ اہم ہے یا جس کے ذریعے دیا جارہا ہے وہ شخصیت اہم ہے۔ یہ ایک بری روایت ہے، جس کو رواج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس وقت ایوارڈ دیا جارہا تھا، اسی وقت ایوارڈ یافتگان اس تضحیک پر احتجاج کرتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے۔ اسی سلسلے میں آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے دفتر میں منعقد ایک میٹنگ میں دوران گفتگو ایک اردو اخبار کے صحافی نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’بھلا ایوارڈ وہ کیوں واپس کرتے، کتنی مشکلوں سے، جد وجہد و بھاگ دوڑ اور سفارشوں کے بعد تو ایوارڈ ملتا ہے !‘

ہمیں زیادہ کچھ نہیں کہتے ہوئے صرف اتنا کہنا ہے کہ پورے مہاراشٹر کا تو نہیں، ہاں البتہ ممبئی میں جن لوگوں کو ایوارڈ دیا گیا، اس پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی یہ احساس جاگ جاتا ہے کہ ان کے علاوہ بھی کئی قابل اور مخلص افراد موجود تھے، جن کی خدمات بہت زیادہ ہیں وہ اس ایوارڈ کے زیادہ مستحق تھے۔ لیکن بہرحال، جو فرد اپنے آپ میں انجمن ہوتے ہیں وہ اس کی خواہش ہی نہیں رکھتے کہ کوئی انہیں ایوارڈ دے یا ان کے کاموں کی ستائش کرے۔ وہ تو ستائش اور صلے کی پرواہ کئے بغیر بے تکان اپنی دھن میں اپنا ادبی اور صحافتی سفر طے کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ ضرور چاہیں گے کہ کم از اکم ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جائے جو اردو کی تحقیر کا ذریعہ بن جائے اور غیر اردو داں طبقہ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہے کہ اردو والوں میں بس اب اسی معیار کے لوگ رہ گئے ہیں۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ اردو مصیبت کی ماری زبان بن چکی ہے۔ اس کی تعریف سب ہی کرتے ہیں، لیکن صرف مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے، کیوں کہ مسلمانوں کی ایسی باتیں خوش کرتی ہیں۔ وہ کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں یا حالات نے انہیں جذباتی بنا دیا ہے۔ کوئی اردو کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دے تالیوں کی گونج سے آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ لیکن نہ عملی طور پر کچھ ہونا ہے اور نہ ہوگا۔ اس کے لئے جب تک ہم نہ جاگیں اور جذباتی باتوں سے بچتے ہوئے ہم اپنی زبان جو ہماری ایک تہذیب کی ترجمان بھی ہے اور جس میں ہمارا دینی سرمایہ بھی محفوظ ہے، کو خود سے ہی اپنے گھروں اپنے محلوں اور اپنی انجمنوں میں رائج نہ کریں۔ یہاں تو حالات یہ ہے کہ ہم نے خود ہی اپنے گھروں سے اپنے خاندان سے اور آنے والی نسلوں سے اردو کو نکال دیا ہے۔ پوچھنے پر کہتے ہیں کہ بھائی روز گار کا معاملہ ہے کیا کریں۔ لیکن دنیا کے سارے علوم و فنون حاصل کرنے کے ساتھ ایک اردو بھی پڑھ لیں جہاں اردو نہیں ہے وہاں والدین یا تو اسکول کو مجبور کریں کہ وہ اردو اساتذہ کا تقرر کریں یا پھر اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں اور گھر میں عام بول چال میں اردو میں ہی گفتگو کریں ۔لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ اردو کے اساتذہ ،صحافی جو اردو سے ہی اپنی روزی روٹی حاصل کررہے ہیں انہوں نے بھی اپنی نئی نسلوں سے اردو کو دور کردیا ہے ۔اب تام جھام والے انگریزی اسکولوں میں پڑھانا اسٹیٹس کا معاملہ بن گیا ۔ان کے سامنے میونسپل اسکولوں میں پڑھانا شان کے خلاف ہے ۔جبکہ ہم ملک اور دنیا میں کامیاب ترین لوگوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ انہوں نے سرکاری اسکولوں سے ہی تعلیم حاصل کی ہے ۔دو تین سال قبل ممبئی کے صابو صدیق کالج میں اردو کتاب میلا کا انعقاد ہوا تھا ۔دس روزہ اس میلے میں جو کتابیں بکی تھیں وہ غالباً ستر اسی لاکھ کی تھیں ۔ جسے ایک ریکارڈ بتایا گیا تھا ۔ٹھیک اس کے اختتام کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے کسی شہر میں مراٹھی ساہتیہ میلہ بھی منعقد ہوا تھا اس تین روزہ میلہ میں دو کروڑ سے زیادہ کی کتابیں بکی تھیں ۔غور کیجئے دس روز تک اردو والے جھک مارتے رہے تب ستر اسی لاکھ کی کتابیں بکیں اور مراٹھی والوں نے صرف تین روز میں تین گنا سے زیادہ کی کتابیں بیچیں۔اب ہم یہاں رونے اور سینہ کوبی کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ کریں ۔اسی اردو میلہ کی ہمارے پاس دو مثالیں ہیں ۔ایک صاحب اردو میں بہت مضامین اور مراسلے تحریر کیا کرتے ہیں اور اردو کے لئے کیا کیا جانا چاہئے اس پر خوب اپنے زریں مشوروں سے نوازتے ہیں ۔حکومت مہاراشٹر میں ایک اہم افسر ہیں اچھی تنخواہ پاتے ہیں خوشحال زندگی گزارتے ہیں ۔اس وقت بھی ان کے جیب ہزاروں روپئے سے بھرے تھے جو کہ باہر سے نظر آرہے تھے لیکن ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں دیکھ کر پوچھا کہ کوئی کتاب نہیں خریدی ۔اب بیچارے کیا جواب دیتے کہنے لگے بیگم لے گئی ہیں ۔اسی طرح ایک دوسرے صاحب ہیں انہوں نے بہت تیر مارا تو انہیں پورے کتاب میلہ سے صرف ایک پچیس روپئے کی کتاب ہی ملی ۔اس کے برعکس کئی ایسے لوگ جن آمدنی انتہائی قلیل لیکن وہ نصیحت کو دوسروں پر لادنے کا حق نہیں سمجھتے بلکہ اس پر عمل کرتے ہیں تاکہ دوسرے بھی نصیحت پکڑیں انہوں نے کتابیں خریدیں اپنی بساط سے اوپر اٹھ کر خریدیں اور دوسروں کو بھی تحفہ کے طور پر پیش کی۔

سچ پوچھئے تو ہندوستان میں اردو اکیڈمیاں اردو کی قتل گاہیں ہیں ۔کیا اردو اکیڈمیوں کے ذریعہ چند صحافیوں ،شاعروں ادیبوں کو ایوارڈ دے دینے یا مشاعرہ کروانے مہنگے شاعروں کو مدعو کرکے بھیڑ اکٹھا کرنے اور اس سے اردو کی ترویج و اشاعت کے نام پر جاری ہونی والی رقومات کی بندر بانٹ سے اردو کی بقا ممکن ہے ؟اول تو اگر اردو کی ترویج و اشاعت میں جن کا اصل میں کام ہے جنہوں نے اس کے لئے محنت کی ہے اس کو بغیر سفارش کے ایوارڈ کے لئے منتخب کیا جانا چاہئے ۔لیکن یہاں سفارشوں اور رشوت پر سارا معاملہ چل رہا ہے ۔جس سے اردو کے اصل خادم محروم ہو جاتے ہیں ۔دوم یہ کہ اگر آج اردو ہندوستان میں جس قدر بھی اپنا وجود منوائے ہوئے ہے وہ محض مدارس اسلامیہ کے رہین منت ہے ۔ جس کو کوئی گرانٹ نہیں ملتا بلکہ ملت کے چندوں پر ہی چلنے والے ان مدارس اسلامیہ نے کبھی اردو کے خادم ہونے کا اور اس کے عوض موٹی کمائی شہرت و ناموری حاصل کرنے کی کوئی سعی کی ۔اس لئے اگر ایوارڈ ملنا ہی چاہئے تو اس میں مدارس اسلامیہ کا حصہ زیادہ ہونا چاہئے ۔اردو کے تئیں مدارس اسلامیہ کی خاموش خدمات سے متاثرایک اسلام بیزار ادیب نے جھلا کر لکھا تھا ’’یہ اردو کے اخبار والے ان ملاؤں کی چاپلوسی اس لئے کررہے ہیں کیوں کہ اب یہی مدارس اردو کی بقا کی ضمانت ہیں ‘‘۔اسی طرح جشن ریختہ میں جاوید اختر نے کہا کہ اردو مولویوں کی نہیں شریفوں کی زبان ہے۔لیکن اللہ ان کی اسلام دشمنی میں ہی ان سے ان کے خبث کی نفی کروادی کہ آج اردو صرف اور صرف مدارس اسلامیہ کی وجہ سے زندہ ہے اور آئندہ بھی یہی جبہ و دستار والوں کے سایہ میں ہی اردو کے زندہ رہنے کی امید ہے۔جادو وہی جو سر چڑھ کر بولے ۔یعنی آپ کا سخت ترین دشمن بھی آپ کی خدمات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے ۔اردو کی ترویج و ترقی کے لئے سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اردو اسکولوں کو معیاری اردو اساتذہ مہیا کرایا جائے ۔جہاں جہاں اردو اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں انہیں پر کیا جائے ۔ہائی اسکول اور ہائر سیکنڈری کے امتحانوں میں اردو مضامین میں بہتر نمبر لانے والے طالب علموں کو انعامات سے نوازا جائے ۔پہلے مغربی بنگال اردو اکیڈمی دسویں کے امتحان میں اردو مضمون کے ساتھ اول پوزیشن حاصل کرنے والوں انعامات سے نوازتی تھی ۔

یوں تو اردو اکیڈمی کے ذمہ دار کا عہدہ پوری طرح سیاسی داؤ ں پیچ کا شکار رہتا ہے ۔لیکن اس بار کے ذمہ دار کا انتخاب نہیں ہوا ہے بلکہ انہیں اردو داں طبقہ پر مسلط کیا گیا ہے ۔اردو کے ایک مشہور صحافی سے دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ میرے خلاف لکھ کر ہی کیا ہوگا ۔اب سے پہلے لوگوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ پایا تو اب میرا کیا ہوگا۔ان کی اس بات سے ایک بات تو صاف کردینا ضروری ہے کہ ہم صحافیوں کا کام صرف پوچھنا اور اس سے جو معلومات حاصل ہو اسے عوام تک پہنچانا ہے ۔ہمارا کام نہ تو فیصلہ کرنا اور نہ ہی کسی کاکچھ بگاڑنا یا بنانا ہے ۔یہ خبر جو عوام تک پہنچی ہے کہ بھساول اور جلگاؤں کے سہ روزہ اردو میلہ میں 23 یا 26 لاکھ خرچ ہوئے یہ بھی ایسے ہی سوال کی وجہ سے ممکن ہو پایا ۔ورنہ اردو اکیڈمی کو تو ہوش ہی نہیں کہ اکیڈمی کے اخراجات اور اس کی کارگزاریوں میں اتنی شفافیت ہو کہ عوام اس سے پوری طرح واقف ہوں لیکن یہاں کا معاملہ یہ ہے کہ عوام کو نہ تو اس کے بجٹ کا اور نہ ہی اس کی کارکردگی ،دائرہ کار اور ذمہ داری کے بارے میں معلومات ہوتی ہے ،سب کچھ اندھیرے میں ہے ۔کبھی کسی صحافی نے سوال کردیا تو کچھ معلومات مل گئی ورنہ نہیں۔

اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ایک پروگرام بات چیت میں اشوک چوان نے کہا کہ اردو اکیڈمی کو وزارت اقلیتی امور میں دینے کے لئے آپ کے ہی لوگوں نے دباؤ دیا تھا ۔’معیشت ‘کے مطابق یہ اشارہ ان کا عارف نسیم خان کی طرف تھا ۔حالانکہ عارف نسیم خان کی طرف سے کچھ صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں اردو اکیڈمی کا بجٹ ایک کروڑ کیا گیا ۔لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ آخر اردو اکیڈمی کو وزارت ثقافت سے نکال کر وزارت اقلیتی امور میں ملانے سے اردو والوں کا یا اقلیت یعنی مسلمانوں کا کیا فائدہ ہو گیا ۔الٹا اس سے یہ نقصان ہو ا کہ نام نہاد اقلیتی بجٹ میں سے ایک اور بندر بانٹ والا خرچ نکل آیا ۔اگر اردو اکیڈمی وزارت ثقافت کے زیر نگیں ہو گی تو اس کا بجٹ وزارت ثقافت میں سے جائے گا ۔لیکن اقلیتی امور کے ماتحت آنے سے اقلیتی بجٹ میں ایک اضافی تصرف ہوا۔بے شک ہمیں اپنوں نے ہی برباد کیا ہے ۔ہمارے ہی لوگوں نے نام نہاد مختص کی گئی بجٹ کا تیا پاچا کرکے مسلمانوں کے لئے زیادہ مفید اور بہتر کام نہیں ہونے دیا ۔صرف چند صحافیوں کو خوش کردینے اور فرضی پیڈ نیوز شائع کرنے سے کیا مسلمانوں کا بھلا ہو جائے گا ؟اس لئے اردو داں طبقہ کو پورے زور شور سے ایوارڈ کی شیلڈ پر غیر ضروری تصاویر کی اشاعت اور ایوارڈ کی بندر بانٹ اور اردو اکیڈمی کے بجٹ کو غیر ضروری مصارف میں استعمال کرنے کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانا چاہئے اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں انہیں عوام کے سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *