اروناچل پردیش میں صدر راج، اقتدار کا غلط استعمال ہے: ایڈووکیٹ شرف الدین احمد

نئی دہلی، ۲۹ جنوری (پریس ریلیز): سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کو بی جے پی کی قیادت والی مرکز کی این ڈی اے حکومت کے ذریعہ جمہوریت سے Adv. Sharfuddin Sbکھلواڑ اور اقتدار کا بے جا استعمال قرار دیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے ایک پریس بیان میں مودی سرکار کو آگاہ کیا ہے کہ مرکز کے ذریعہ اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کیا جانا ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو بنائے رکھنے کے خلاف ہے۔ آئین کی دفعہ ۳۵۶ کو نافذ کرنے میں اتنی جلد بازی کی گئی کہ ریاست کے معاملوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔
ایڈووکیٹ شرف الدین نے کہا کہ مرکزی حکومت اس غیر جمہوری قدم کو اٹھانے میں نہ صرف جلد بازی کر رہی ہے، بلکہ سیاسی عداوت سے بھی کام لے رہی ہے۔ یہ اروناچل پردیش کے عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہی نہیں، بلکہ ایک منتخب حکومت کو ہندوتواوادی آر ایس ایس کے گورنر کے ماتحت کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ این ڈی اے سرکار آئین کا کوئی احترام نہیں کرتی اور ’اقتدار کی بھوکی سرکار‘ بڑے پیمانے پر بدعنوان ہونے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ، مجرمانہ، دلت و اقلیت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ انھوں نے آگے کہا کہ آئین کے محافظ سپریم کورٹ کو ’جمہوریت کے قتل‘ کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ تانا شاہی سرکار خود کو آئین سے اوپر سمجھتی ہے اور اسی لیے نیشنل جیوڈیشیئری اپوائنٹمنٹ کمیشن (این جے اے سی) بناکر ججوں کو بھی اپنے قابو میں رکھنے پر تُلی تھی، لیکن ناکام رہی۔
ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اروناچل پردیش سیاسی ناٹک کرنے کے لیے صحیح پلیٹ فارم نہیں ہے۔ دو تہائی ریاست پر چین کے ذریعہ دعویٰ کیا جا رہا ہے اور خاموش ناگا بغاوت ہمیشہ واپس آنے کو بیتاب ہے۔ اس قسم کا سیاسی عدم استحکام کسی بھی ریاست کے لیے بہتر نہیں ہے اور سرحدی ریاستوں کے لیے تو بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ چین بے حد گہری نظر ہندوستان کی سرگرمیوں پر بنائے ہوئے ہے، جو کہ کھلی کتاب کی طرح ہے، لیکن ہندوستان چین کی سرگرمیوں کو جاننے میں ناکام رہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گورنروں کی تقرری ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ مرکزی حکومت کو گورنروں کی تقرری کے معاملے میں قانون میں تبدیلی کرنے کی بے حد ضرورت ہے، جس میں سب سے پہلے گورنر کسی بھی سیاسی پارٹی سے جڑا نہ ہو، بلکہ ہائی کورٹ کے جج، فوج کے کیپٹن یا کرنل رینک کے افسر کو ہی گورنر بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *