اسلوب احمد انصاری کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کا اظہارِ تعزیت

13166048_557518811074661_2875385923301817633_n

نئی دہلی، ۴ مئی (پریس ریلیز): ممتاز ادیب و دانشور اور ماہرِ اقبالیات پروفیسر اسلوب احمد انصاری کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے اپنے تعزیتی پیغام میں دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر اسلوب احمد انصاری کی پُروقار شخصیت اردو اور انگریزی کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے ہمیشہ قابلِ احترام رہی ہے۔ آپ کا شمار اردو کے ان اکابر نقادوں میں ہوتا ہے، جنہوں اپنی کاوشوں سے اردو تنقید کو مغربی تنقید کے جدید رجحانات اور ترقی پذیر معیاروں سے آشنا کیا۔ مشرق و مغرب کے تنقیدی افکار کی آمیزش سے جس معیار نقد کا تصور خواجہ الطاف حسین حالی اور شبلی نعمانی نے اب سے ایک صدی قبل پیش کیا تھا، اس کی جدید تشکیل آپ کی وقیع تحریروں میں نظر آتی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے آپ کی ایک طویل عرصے سے وابستگی رہی ۱۹۸۶ میں ادارے نے آپ کو اپنے سب سے اہم انعام ”غالب انعام برائے اردو نثر“ سے سرفراز کیا۔ ۲۰۰۸ میں غالب انسٹی ٹیوٹ نے علی گڑھ میں اُن کے اعزاز میں ایک اعلیٰ جلسہ کیا تھا، جس میں اُن کی زندگی اور علمی کارناموں کے تعلق سے ۲۰۰ صفحے کی کتاب بھی اہل علم کو نذر کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ غالبیات کے تعلق سے کئی اہم مضامین اور دو کتابیں بھی غالب انسٹی ٹیوٹ نے شائع کیں۔

ہم سبھوں کے لیے یہ نہایت ہی غم کا وقت ہے کہ ہم ایک جیّد عالم سے محروم ہوگئے۔ موت برحق ہے اور ہر شخص کو اُس کی گرفت میں آناہے مگر اسلوب احمد انصاری کی موت کا احساس ہم سبھی کے دل و دماغ پر مدتوں رہے گا۔ ہماری دعا ہے کہ پروردگارِ عالم مرحوم کے درجات میں اضافہ کرے اور ان کے اعزاء کو صبر عطا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *