اسپتالوں کی من مانی کے خلاف یکم دسمبر سے بھوک ہڑتال

پٹنہ:
گرام سبھا اور محلہ سبھا ابھیان کمیٹی اور آل انڈیا جرائم مخالف مورچہ کے مشترکہ بینر تلے قومی کنوینر پروین امان اللہ کی قیادت میں سیکڑوں کارکنوں نے بہار کے اسپتالوں میں ہو رہی من مانی کے خلاف کینڈل مارچ نکالا. کینڈل مارچ یہاں کے کارگل چوک سے شروع ہو کر گاندھی میدان کے مغربی سرے پر واقع مہاتما گاندھی کی مورتی تک پہنچ کر ایک جلسہ میں تبدیل ہوگیا، جہاں بھوک ہڑتال میں بیٹھنے والوں نے خطاب کیا.

پروین امان اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم دسمبر 2016 سے گردنی باغ میں دھرنا دینے کی جگہ پر ہونے والی بھوک ہڑتال بہار کے عام لوگوں کے حق کی لڑائی ہے. عوام کو سستی صحت سروس پہنچانے کے لیے اس مہم کو بہار کے کونے کونے میں پھیلانے کا وقت آ گیا ہے تاکہ مریضوں کے استحصال کو روکا جا سکے. موم بتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا جرائم مخالف مورچہ کے قومی صدر دھنبت سنگھ راٹھور نے کہا کہ ہم اس تاریک نظام میں اجالا پھیلانے آئے ہیں اور عام لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ استحصال سے پاک صحت خدمات کے بہتر انتظام کے لیے اس مہم میں حصہ لیں۔ گرام سبھا اور محلہ سبھا مہم کمیٹی کی بہار یونٹ کے صدر آنند پٹیل نے کہا کہ پبلک سب جانتی ہے کہ کس طرح سرکاری اسپتالوں کو بدحال کرکے پرائیویٹ اسپتال میں مریضوں کا اقتصادی استحصال ہو رہا ہے. انہوں نے بہار میں ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ -2013 کو جلد سے جلد لاگو کروانے کے لیے لوگوں سے اس بھوک ہڑتال میں بڑھ چڑھ کر شامل ہونے کی اپیل کی. اس ریلی میں 102 ایمبولینس سے آئے راجیو جھا نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر غریبوں کو سستی صحت سروس سے محروم کرکے اس پورے نظام کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے. انہوں نے کہا کہ ہمیں غریبوں کے حق کے لیے اس کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے. اس کے ساتھ ہی مقررین نے ہر محلے میں محلہ کلینک کی تعمیر پر زور دیا. موم بتی مارچ میں دیوچند منڈل، گورو یادو، محمد شاہد حسین، سنجو دیوی، سنیل جھا اور نفیس حیدر کے ساتھ سیکڑوں کارکنوں اور سماجی کارکنوں نے حصہ لیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *