اسکالر شپ کے منتظر ہیں طالب علم

نورانی فاطمہ
مظفر پور،بہار

گزشتہ دنوں منظر عام پر آئی خبرکے مطابق مرکزی انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ” جس ملک میں تعلیم کی فروانی ہوتی ہے وہ ملک تیزی سے ترقی کرتا ہے”، انہوں وضاحت کے ساتھ کہاکہ ” آج ملک میں 15 لاکھ اسکول، 38 ہزار ہائی اسکول اور 700 یونیورسٹیاں اپنا کام بخوبی کررہے ہیں “۔ظاہر ہے کہ تعلیم کی بنیاد پر ہی ملک ترقی کر سکتا ہے. جسے آسان بنانے کے لئے اسکالر شپ جیسی امداد بھی فراہم کرائی گئی ہے۔ تاکہ طالب علم تعلیم سے براہ راست منسلک ہوسکے،لیکن اس ضمن میں بات بہار کی،کی جائے تو صورت حال کچھ اچھی دکھائی نہیں دیتی۔
مثال کے طور پر ہے سیتامڑھی کے پوپری بلاک کے دھرم پور بھیٹھا پنچایت کے کوشیل گاؤں میں واقع میڈل اسکول کے طالب علموں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ بڑی تعداد میں یہاں طالب علم تو ہیں لیکن ان کے لئے مناسب اسکالر شپ کا انتظام نہیں ہے۔ اس ضمن میں جب نویں جماعت کی طالبہ مدھو کماری سے بات کی تو مدھو نے بتایا” دو سال سے مجھے اسکالرشپ نہیں مل رہی ہے ہر بار یہی سنتے ہیں کہ اب آئے گی، اب آئے گی، لیکن آتی ہی نہیں ہے”، چھٹی جماعت کی پوجا کماری کا بھی یہ کہنا ہے کہ ہم لوگو کو وقت پر اسکالر شپ نہیں مل رہی ہے صرف انتظار ہی انتظار ہورہاہے”۔ ساتویں جماعت کی طالبہ کرشمہ کماری نے بتایاکہ ” جب بھی میڈم سے اسکالر شپ کے بارے پوچھتی ہوں تو کہتی ہیں کہ مل جائے گی”۔ جماعت ششم کے طالب علم پنکج کمار ولدکمیش رائے نے کہا کہ ” ہم لوگ پوشاک کی رقم 700 روپئے اور اسکالر شپ کی رقم 1200روپئے ملتی ہے،. لیکن ہم لوگ کو آدھا پیسہ ہی دیا جاتا ہے میڈم سے پوچھتے ہیں کہ باقی رقم کب ملے گی تو ٹھیک سے جواب بھی نہیں ملتا ہے”۔
طالب علموں کے ساتھ ساتھ والدین بھی اس وجہ سے پریشان ہیں ایک سرپرست نے کہا کہ” ہمارا بچہ چار سال سے زیر تعلیم ہے،مگر پیسہ محض دو مرتبہ ہی ملا ہے “۔. اسی ضمن میں لکشمن مہتو نامی ایک سرپرست نے بتایا کہ” کچھ بچوں کو اسکالر شپ اور پوشاک کی رقم ملتی ہے، اور کچھ کو نہیں ملتی، یہ بات ناقابل فہم ہے”۔ اسماں خاتون کے والد نے کہا کہ ہماری بچی تین سال سے پڑھ رہی ہے مگر اسکالر شپ صرف ایک ہی مرتبہ ملی ہے”۔ایک دیگر سرپرست نے بتایا” میرا بچہ 4 سال سے پڑھ رہا ہے. مگر پیسہ دو بار ملا ہے”۔. کچھ سرپرستوں نے یہ بھی کہا کہ” جو بچہ کبھی اسکول نہیں جاتا اس کو بھی پیسہ ملتا ہے”۔ ساٹھ سالہ خاتون ریتا دیوی کے مطابق” پرنسپل میڈم نے ہم لوگوں سے بھی یہ کہاہے کہ پیسہ آئے گا تو آپ لوگوں کے بچوں کو بھی مل

قلم کارہ اسکول میں بچوں سے باتیں کرتی ہوئی۔
               قلم کارہ اسکول میں بچوں سے باتیں کرتی ہوئی۔

جائے گا،مگر دوسال کا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک کوئی بھی اسکالرشپ کا پیسہ نہیں ملا ہے “۔
معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جب اسکول کی خاتون پرنسپل منجودیوی سے بات کی گئی تو انہوں نے صاف لفظوں میں بتایا کہ ” میں اکتوبر سال2015 سے یہ عہدہ سنبھالا ہے اور اسکول کی دیکھ بھال کر رہی ہوں، ابھی اسکالر شپ کی 50 فیصد رقم بچوں کو دی جاتی ہے. اور باقی کی 50 فیصد رقم بچوں کے اکاؤنٹ میں جائے گی،. میری تو یہ خواہش ہے کہ یہاں ہائی اسکول بھی ہو جائے تاکہ بچوں کو پڑھنے کے لئے دور دراز کی مسافت طے نہ کرنی پڑے، تاکہ بچوں کو تعلیم کی پوری سہولت آسانی سے مل سکے، باقی کے تمام بچوں کو اسکالر شپ مل جائے اس کے لئے میں پوری کوشش کروں گی، آپ چاہیں تو بلاک ایجوکیشن افسر سے بھی بات کر سکتی ہیں کیونکہ اصل صورت حال سے تو وہی آگاہ کرائیں گے”۔ آخر کاربلاک ایجوکیشن افسر رگھو جی سے درج بالا مسئلے پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی،لیکن انہوں نے کوئی معلومات نہ دیتے ہوئے فون پر رابطہ منقطہ کردیا۔
قارئین کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے یہ بھی واضح کرنا بجانہ ہوگا کہ گزشتہ کئی دنوں سے بہار کے موجودہ وزیر اعلی اپنی “نسچئے یاترا” میں بہار کے تعلیمی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے پر زور دے چکیں ہیں،انہوں نے اس سمت میں عملی کام بھی کیا ہے جس سے کسی بھی طرح انکار کی گنجائش نہیں ہے، لیکن درج بالا اسکول کی حالت اور بلاک کے موجودہ تعلیمی افسران کے رویہ سے یہ تو نہیں لگتا کہ تعلیم کے میدان میں ریاست بہار بہتر سے بہترین کا سفر طے کرپائے گی۔(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *