اعظم خاں کے بہانے اصلی رنگ میں نظر آئے امر سنگھ

نئی دہلی: امر سنگھ  اگلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اور خاص طور سے وزیر اعظم نریندر مودی کو جتانے کے لیے زمین ہموار کرنے میں مصروف ہیں. اس کے لیے انہیں بہترین ہتھیار سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خاں کی صورت میں ملا ہے. امر سنگھ  اور اعظم خاں میں سیاسی برتری کی جنگ جگ ظاہر ہے. اعظم خاں سماجوادی پارٹی میں امر سنگھ  کے بڑھتے اثر سے ناراض تھے، لیکن اس وقت ملائم سنگھ  کو الیکشن  لڑنے کے لیے پیسوں کی بڑی ضرورت تھی. کہا جاتا ہے کہ امر سنگھ  نے ملائم سنگھ  کی اس ضرورت  کو پورا کرنے میں بڑا رول ادا کیا تھا. ملائم سنگھ  اور سماج وادی پارٹی پر امر سنگھ  کا کتنا اثر تھا، اس کا اندازہ  وہی لوگ لگا سکتے ہیں، جن کی 1999 کے لوک سبھا انتخابات پر نظر رہی ہو.

بات پرانی ہے، لیکن امر سنگھ  جب منگل کو لکھنؤ میں اعظم خاں کے بہانے ملک کے دو بڑے فرقوں کا نام لے کر معاشرے میں کشیدگی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے، اور کچھ  لوگوں کو ملک میں رہنے کے حق سے محروم  کر رہے تھے، تب ایک سینئر لیڈر کی بات یاد آ گئی. بات 1999 کے لوک سبھا انتخابات کی ہے. امر سنگھ  راجیہ سبھا کے رکن تھے. ساؤتھ ایونيو میں ان کی رہائش گاہ تھی. انتخابات  کی حکمت عملی بنانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے تیار کیے جا رہے تھے. اسی کڑی میں ایک  صحافی کے ہفتہ وار مضامین پر مبنی کتاب بھی شائع کی گئی. اس کے کے لیے 3.25 لاکھ روپے خرچ ہوئے. وہ پیسے امر سنگھ  نے دیے تھے. اتنا ہی نہیں سماج وادی پارٹی کی انتخابی تشہیر کے لیے جو فلم بنی تھی، اور سیکڑوں کی تعداد میں جس کی کیسٹ تیار کی گئی تھی، اس کی ادائیگی بھی امر سنگھ  نے ہی کی تھی، لیکن کسی کی بھی رسید نہیں لی گئی تھی. کتاب نارائنا انڈسٹریل ایریا میں چھپی تھی جبکہ کیسٹ نوئیڈا میں واقع ایک بڑی کمپنی میں تیار ہوئی تھی. ان باتوں کے ذکر کی ضرورت صرف اس لیے پڑی کیونکہ امر سنگھ  محب وطن ہونے کا راگ الاپ رہے تھے.

سیاست میں کوئی بھی شخص کسی بھی پارٹی کی حمایت کرنے کے لیے آزاد ہے. امر سنگھ  بھی اور اعظم خاں بھی، لیکن اس کے لیے معاشرے اور ملک کے پرامن ماحول کی قربانی دینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ملنی چاہیے. امر سنگھ  چھیڑخانی کے ایک واقعہ کو بھی ہندو مسلمان بنا کر پیش کر رہے تھے. وہ منجھے ہوئے سیاستداں ہیں، اور لوگ خوب سمجھ  رہے ہیں کہ اپنی بیٹی کے بہانے امر سنگھ  کہاں نشانہ لگا رہے تھے. امر سنگھ  سماج وادی پارٹی سے راجیہ سبھا کے ممبر ہیں. انہیں پارٹی سربراہ اکھلیش یادو پر حملہ کرنے سے پہلے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دینا چاہیے تھا. لیکن ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں سیاست میں کب کیا ہوجائے کچھ پتہ نہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *