المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذریعہ ’’آنکھوں دیکھی‘‘ کا اجرا

trust

رونگٹے کھڑے کر دینے والی نظمیں اور ان پر نثری تنقیدی تحریریں اس لئے بھی یادگار ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں بھاگلپور فساد پہلا فساد تھا: منصور خوشتر

دربھنگہ (بہار)، ۲۹ اپریل (نامہ نگار): احمد معراج کی کتاب مناظر عاشق ہرگانوی کی ”آنکھوں دیکھی: تجزیہ“ کا رسم اجرا المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام مورخہ ۲۹ اپریل کو ڈاکٹر عبد المنان طرزی کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا۔ اس میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا استقبال پروفیسر طرزی نے کیا۔

اس موقع پر ٹرسٹ کے سکریٹری منصور خوشتر نے کہا کہ اس کتاب میں ایسے مضامین اور آراء شامل ہیں جو بھاگلپور فساد سے متعلق مناظر عاشق ہرگانوی کی ۶۴ نظموں کے مجموعہ ”آنکھوں دیکھی‘ پر لکھے گئے تھے اور ہندو پاک کے بیشتر رسائل میں شائع ہوچکے تھے۔ احمد معراج نے بڑا کام کیا کہ مشاہیر کی ویسی تحریروں کو یکجا کرکے خوبصورت کتاب کی شکل میں ترتیب دی ہے۔ فساد کیا ہوتا ہے، کتنے لوگ آدھے ادھورے ہوتے ہیں۔ کس کس طرح سے نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کی جاتی ہے اور بربریت کا کیا مشاہدہ اور تجربہ سننے کو ملتا ہے۔ ان سب کی تفصیل اس کتاب میں موجود ہے۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والی نظمیں اور ان پر نثری تنقیدی تحریریں اس لئے بھی یادگار ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا فساد تھا جس میں شہر کے ساتھ ۱۰۶ گاﺅوں متاثر ہوئے۔

اس موقع پر ڈاکٹر احسان عالم نے کتاب کی نوعیت بتاتے ہوئے فرمایا، ’’پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی نے ۶۴ نظموں پر مشتمل کتاب ”آنکھوں دیکھی“ تحریر کی۔ اس پر مختلف مشاہیر ادب اور دانشوروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ مشاہیر ادب کے اظہار خیال کو احمد معراج، جن کا تعلق کولکاتا سے ہے، نے ایک کتابی شکل ”مناظر عاشق ہرگانوی کی آنکھوں دیکھی: تجزیہ“ کے نام سے ترتیب دے کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔‘‘ اس موقع پر حیدر وارثی صاحب نے فرمایا، ’’فرقہ وارانہ فسادات پر یوں تو کئی ادبی شخصیات نے کتابیں رقم کی ہیں۔ ملک میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فساد پر اہم شعراء و ادباء نے اپنی اپنی تخلیقات پیش کی ہیں۔ ان آراء کو کتابی شکل دے کر احمد معراج نے دو سو صفحات میں ترتیب دے کر ایک قیمتی سرمایہ پیش کیا ہے، وہ تاریخی اور دستاویزی نوعیت کا ہے۔‘‘

ڈاکٹر جمال اویسی نے کہا کہ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی جدید اردو ادب میں جس طرح کے کارنامے انجام دے رہے ہیں وہ متنوع ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اند رمعنی خیزی بھی رکھتے ہیں۔ میں انہیں جدید ادب میں رمز شناس ادیب اور نقاد سمجھتا ہوں۔ میں ان کی تنقید کا زیادہ قائل ہوں۔ ۱۹۸۹ میں بھاگلپور میں جو انسانیت سوز فسادات برپا ہوئے اور یہ فسادات متواتر پھیلتے چلے گئے اس سے چوٹ کھا کر مناظر صاحب نے تسلسل کے ساتھ نظمیں لکھیں اور ان نظموں کا عنوان ’آنکھوں دیکھی‘ رکھا۔ یہ نظمیں مختلف ادبی رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتی رہیں، جن کو بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ ان نظموں کے تعلق سے مشاہیر ادبا و نقاد نے اپنی قیمتی رائے مناظر صاحب کو بھیجیں۔ احمد معراج نے مناظر صاحب پر لکھنے ان مضامین اور تاثرات کو یکجا کرکے کتابی صورت میں شائع کیا ہے جو آنکھوں دیکھی کے تعلق سے پیش کئے گئے۔

ڈاکٹر عبد المنان طرزی نے کہا، ’’عہد ساز عظیم آبادی نے عظیم آباد سے ایک بڑا قیمتی موقر جریدہ ”گلدستہ بہار“ نکلتا تھا جس میں ایک طریقہ تھا کہ گذشتہ شمارے کے حوالے سے قارئین سے ایک پسندیدہ شعر پوچھا جاتا تھا اور ایک کمیٹی تھی جو سب سے اچھے شعر پر انعام دیتی تھی۔ ایک شمارے کا ایسا ہی ایک شعر جو انعام کا مستحق قرار پایا ، وہ یہ تھا:

ہائے وہ ظلم جو کہنے میں نہ آئے ظالم   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ بھی اس پر جسے آتا نہیں شکوہ کرنا

ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کی منظوم کہانی ”آنکھوں دیکھی“ اسی ایک شعر کی تفسیر ہے اور اس تناظر میں ملک کے مشہور و معروف ادباء و شعرا کے پس مطالعہ جو تاثرات پیش کئے گئے ان کو نوجوان شاعر احمد معراج (کولکاتا) نے کتابی حیثیت دی ہے۔ یقیناً ان کی یہ کاوش پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *