امت شاہ کا تکبر اور حضرت امام حسین کی شہادت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی ۱۴ ستمبر کو جب مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اندور کی ایک مسجد میں گئے تو نہ صرف اس دن بلکہ بعد میں بھی اس پر چرچہ ہوتا رہا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کسی مسجد میں گئے ہوں، لیکن بحث اس لیے زیادہ ہے کہ اس سے پہلے مودی کو ملکی نہیں بلکہ غیرملکی مساجد میں جاتے دیکھا گیا ہے. یہ بھی پہلی بار ہوا ہے جب ملک کے وزیر اعظم نے بوہرا سماج کے کسی پروگرام میں شرکت کی ہے.

وزیر اعظم کے مسجد میں جانے پر سوشل میڈیا میں طرح طرح کی باتیں ہوتی رہیں، زیادہ تر لوگوں نے اسے آنے والے انتخابات کی ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا ہے۔ دو ماہ بعد مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی کے لیے انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد لوک سبھا کا الیکشن ہے۔ اندور کی سیفی مسجد میں وزیر اعظم کی ملاقات بوہرا سماج کے 53 ویں مذہبی پیشوا سیدنا مفضدل سیف الدین سے ہوئی۔ وزیراعظم  مودی جب بوہرا سماج کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ان کا اس معاشرے سے رشتہ بہت پرانا ہے تب کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ پورے مسلم سماج کی بات کر رہے ہیں۔ بوہرا سماج عام طور پر باقی مسلمانوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور گجراتیوں کی طرح ہی اس کمیونٹی کے زیادہ تر لوگ بھی بزنس میں ہیں.

ادھر کچھ دنوں سے راہل گاندھی کا مندروں میں جانا بھی خبروں کی سرخیوں میں رہا ہے۔ بھارت کی سیاست میں دلت کے گھر پر کھانا کھانا، درگاہ یا مزار پر جانا کوئی نئی بات نہیں ہے. وہ بھی تب جب ملک میں انتخابات کا وقت ہو۔ اس لحاظ سے بھی مودی کی مسجد میں حاضری پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ نریندر مودی نے سیفی مسجد میں بوہرا کمیونٹی کے رہن سہن اور ان کی خوشحالی کی بہت تعریف کی لیکن کیا اس وقت ان کے ذہن میں ملک کے باقی مسلمانوں کی حالت کا بھی کوئی خیال آیا، یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ سوال مسلمانوں سے زیادہ ملک کے لیے اہم ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم کے تاریخی واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین کی شہادت غرور کے خلاف جنگ کی علامت ہے اور امام حسین امن اور ایمان کے لیے شہید ہو گئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین کی شہادت اور ان کے اصولوں کو عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے.

جس دن وزیر اعظم نریندر مودی انا اور غرور و تکبر کے خلاف حضرت امام حسین کی شہادت کا ذکر کر رہے تھے اس کے ٹھیک دو دن پہلے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے کہا تھا کہ ہم اخلاق کے قتل کے الزام کے بعد بھی جیتے اور آگے بھی جیتیں گے۔ امت شاہ راجستھان کی راجدھانی جے پور میں بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو بتا رہے تھے کہ ماب لنچنگ کے خلاف جو آواز اٹھائی جا رہی ہے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ بی جے پی کے انتخابی نتائج پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امت شاہ کے اس تکبر میں امام حسین کی شہادت کو یاد کرنا کسی ایک کمیونٹی کا ماتم ہے یا پورے ملک کے لیے ایک ناقابل برداشت صدمہ، یہ طے کرنا ضروری ہے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *