امریکہ کے ساتھ فوجی سہولیات شیئر کرنے پر انٹونی نے مرکز کو آگاہ کیا

A K Antony

نئی دہلی، ۱۴ اپریل (نامہ نگار): سابق وزیر دفاع اور کانگریس لیڈر اے کے انٹونی نے مرکزی حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ فوجی سہولیات شیئر کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کا ہندوستان کی آزاد خارجہ پالیسی اور حربی خود مختاری پر برا اثر پڑے گا۔

موجودہ این ڈی اے حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے سابق وزیر دفاع نے کہا کہ ’’ہندوستان کی ہمیشہ سے ایک آزاد خارجہ پالیسی اور اسٹریٹیجک خود مختاری رہی ہے۔ ہندوستان ہمیشہ سے کسی بھی فوجی گروپ کا حصہ دار بننے سے گریز کرتا رہا ہے۔ لیکن، امریکہ کے ساتھ لوجسٹک سپورٹ کے معاہدہ پر دستخط کرنے سے، ہندوستان امریکی ملٹری بلاک کا ایک حصہ بن جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ فیصلہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے اور کسی بھی کونےسے چاہے کتنا بھی دباؤ ہو، وہ تین بنیادی معاہدوں پر ہرگز دستخط نہ کرے۔‘‘

انٹونی نے کہا کہ ’’یہ قدم ہماری اس پالیسی کی خلاف ورزی ہے، جس پر ہم آزادی کے وقت سے ہی عمل کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان امریکی ملٹری بلاک کا ایک حصہ بن جائے گا۔ اگر آپ اس معاہدہ پر دستخط کریں گے، تو امریکی فوج، خاص کر اس کی بحریہ اور فضائیہ کو اپنے طیاروں اور جہازوں کو ہندوستانی سرزمین سے ایندھن بھرنے کی سہولت حاصل ہو جائے گی اور اگر انھوں نے ضروری محسوس کیا، تو وہ اپنے فوجی ساز و سامان بھی ہندوستانی سرزمین پر رکھنا شروع کردیں گے۔‘‘

’’جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، تو ہماری فوج شاذ و نادر ہی غیر ملکی سرزمین کا رخ کرتی ہے۔ ہم لوگ اپنی سرحد کے اندر آپریٹ کرتے ہیں۔ اس معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد، اس کا سب سے زیادہ فائدہ امریکی فوج کو ہوگا۔ امریکہ پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ تین سالوں کے اندر، اس کی ۶۰ فیصد بحریہ ایشیا پیسیفک خطہ میں تعینات ہو جائے گی۔ لہٰذا، آہستہ آہستہ، امریکہ کی بحریہ اور ان کی فضائیہ کا ایک بڑا حصہ ایشیا پیسیفک خطہ میں کام کرنے لگے گا۔‘‘

انٹونی نے موجودہ مودی حکومت سے کہا کہ ہندوستان کے اس قدم سے اس کے پرانے ساتھی اس سے ناراض ہو جائیں گے، جس کا خمیازہ ہندوستان کو ہی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے این ڈی اے حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اس قسم کے کسی بھی معاہدہ پر دستخط نہ کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *