اندریش کمار کے دوستوں سے۔۔۔!

ایم ودود ساجد
آپ اندریش کمار کو کس حیثیت سے جانتے ہیں؟ شاید آر ایس ایس کے لیڈر کے طور پر۔۔۔۔کچھ لوگ انہیں آر ایس ایس کے اس لیڈر کے طور پر بھی جانتے ہوں گے جسے ان کی تنظیم نے مسلمانوں کے معاملات کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے- لیکن میں ان کی ایک تیسری حیثیت سے بھی واقف ہوں- ان سے ہمارے کئی نوجوان اور بزرگ قائدین اور علماء کے بھی اچھے خاصے خفیہ تعلقات ہیں- میں جب علماء اور قائدین کہتا ہوں تو میری مراد بڑے علماء اور قائدین سے ہوتی ہے- ان سے نہیں جو سنگھیوں کے آگے دن رات جھکتے ہوئے نظر آتے ہیں- ان کے تو ایمان کی بھی کوئی ضمانت نہیں-
اندریش کمار کا یہ بیان تو آپ کی نظروں سے گزرا ہوگا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ “اگر لوگ گائے کھانا چھوڑ دیں تو موب لنچنگ کے واقعات بھی رُک جائیں گے۔۔” اِس شاطرانہ اور زہر آمیز بیان کے جواب میں کیا آپ کو کسی مسلم قائد کا بیان بھی نظر آیا۔۔۔؟ مجھے تو نظر نہیں آیا- اندریش کمار کے بیان کا واضح ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ ہجوم کے ذریعہ گھیر کر مارے گئے ہیں وہ گائے کا گوشت کھاتے تھے- اس لئے گھیر کر ماردئے گئے، اور جب تک مسلمان گائے کھانا نہیں چھوڑیں گے مارے جاتے رہیں گے-
کانگریس کے قابل ترین لیڈر ڈاکٹر ششی تھرور نے ایک طویل مضمون “دی پرنٹ” کے لئے لکھا ہے- اس میں انہوں نے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا ہے کہ موب لنچنگ کے گزشتہ 8 برسوں کے واقعات میں 97 فیصد واقعات 2014 سے 2018 کے درمیان رونما ہوئے ہیں- اس سے یہ واضح ہوگیا کہ کانگریس کے دور میں یہ واقعات محض تین فیصد رونما ہوئے تھے- یہ اعداد و شمار ان مسلم قائدین کے لئے چشم کشا ہیں جو بی جے پی اور اسی قبیل کے “قاتل گئو رکشکوں” کے گناہ کی شدت یہ کہہ کر کم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ واقعات تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں- ۔ششی تھرور نے یہ بھی بتایا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار کے دوران جن 86 افراد کو گائے کشی کے الزام میں ہلاک کیا گیا ہے ان میں زیادہ بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے اور وہ سب بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں مارے گئے ہیں- ششی تھرور نے اپنے مضمون کی سرخی یہ لگائی ہے: “ہندوستان میں مسلمان ہونے کے مقابلے میں گائے ہونا زیادہ تحفظ کی ضمانت ہے”
تھرور کے علاوہ پچھلے چار برسوں سے جن بڑے ناموں نے جان کی پروا کئے بغیر قاتل گئو رکشکوں اور حکومت کے خلاف صحافتی مہم چلا رکھی ہے ان میں ونود دوا، شیکھر گپتا، راجدیپ سردیسائی، سگاریکا گھوش، گورو سی ساونت، یوگیندر یادو، رویش کمار، برکھادت، سدھارتھ ورداراجن، ہرش مندر اور اسی قبیل کے درجنوں نام شامل ہیں- ان میں سے بیشتر کو ہر روز بلکہ ہر گھنٹے سیکڑوں دھمکیاں اور گالیاں ملتی ہیں- کیا اندریش کمار کے اِس خطرناک اور دھمکی آمیز بیان کے بعد اب بھی ان کے خفیہ مسلم دوستوں کے بیان کی آس نہ رکھی جائے؟
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *