انیس ہارون پٹیل قوم کے مخلص خادم تھے: مولانا محمود مدنی

مولانا عبداللہ کاپودری کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری نے تعزیت کا اظہار کیا 
سورت (پریس ریلیز): جمعیۃعلماء ہند کے قدیم و مخلص رہنماء، عالم اسلام کے معروف عالم و مفکر حضرت مولانا عبداللہ کاپودری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادگان اور اہل خانہ سے جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی جانشین فدائے ملت مولانا سید محمود مدنی نے گجرات کے ضلع بھروچ میں واقع کاپودرہ گاؤں پہنچ کر تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے مولانا مرحوم کے وصال کو ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان قرار دیا۔ مولانا مدنی نے اس موقع پر مولانا کاپودروی مرحوم کے اوصاف و کمالات نیز جمعیۃ علماء ہند اور خانوادہ شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے دیرینہ و والہانہ تعلق کا ذکر کیا۔
واضح ہو کہ مولانا کاپودروی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الاسلام نوراللہ مرقدہ کے شاگرد تھے، ساتھ ہی بیعت و ارشاد کا بھی تعلق تھا۔ حضرت شیخ الاسلام کے وصال کے بعد جانشین شیخ الاسلام فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کرتے ہوئے آپ سے بیعت ہوئے۔ اس موقع پر ناظم عمومی کے ہمراہ جمعیۃ علماء ہند کے ناظم مولانا حکیم الدین قاسمی شریک تھے، جبکہ بڑودہ سے محمد عمربھائی، محمد یونس بھائی وغیرہ، اسی طرح کاپودرہ میں علاقے کے ذمہ دار علماء کرام بھی حاضر تھے۔
انیس ہارون پٹیل

مولانا محمود مدنی نماز عصر سے قبل کوٹھی گاؤں پہنچے اور انیس پٹیل کے والد محترم ہارون پٹیل سے ملاقات کر کے تعزیت مسنونہ پیش کیا۔ مرحوم انیس پٹیل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ مرحوم انیس ہارون پٹیل مخلص و متدین اور انسانیت نواز شخص تھے۔ انیس بھائی برطانیہ کے شہری تھے۔ ان کی عمر 46 سال تھی۔ 20 جولائی کو وہ اکیس سال بعد انڈیا آئے تھے اور 11 اگست کو ان کی واپسی تھی۔ 31،جولائی کی شام وہ بھروچ سے واپس اپنے گاؤں کوٹھی پہنچ کر نماز عصر ادا کر کے آرام کے ارادے سے سوگئے۔ نماز مغرب کے وقت ان کے چچا مشتاق پٹیل نے انہیں جگایا تو انہوں نے کہا کہ طبعیت بہت سست ہے اور مجھے کوئی اپنے پاس بلا رہا ہے۔ چنانچہ وہ اٹھنا چاہ رہے تھے لیکن اٹھ نہ سکے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے ایک طرف لڑھک گئے اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

جمعیۃ علماء ہند کے ناظم مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ انیس بھائی جمعیۃ علماء ہند یوکے ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے جمعیۃ علماء ہند کے فلاحی، سماجی و ملی کاموں کی انجام دہی کے لیے یوکے میں مسلسل سرگرم عمل تھے۔ موصوف گذشتہ پانچ سال پہلے شوگر کی بیماری میں مبتلا ہوئے جس کے بعد ان کی زندگی تنگ ہوتی گئی اور اس بیماری کے مسلسل علاج نے انہیں اپاہج بنا دیا۔ گذشتہ دو سال سے وہ وہیل چیئر پر زندگی گذار رہے تھے۔ اس حالت میں بھی وہ اپنے کاموں کی انجام دہی پوری تندہی سے کرنے کی کوشش کرتے نیز جمعیۃ علماء ہند یوکے کے بھی بہت سارے کام اسی حالت میں انجام دیتے رہے۔ مرحوم جمعیۃ علماء ہند یوکے ٹرسٹ کے انتہائی معتمد رضاکار تھے۔ آپ کو خانوادہ مدنی سے خصوصی قلبی تعلق تھا، بطور خاص جانشین فدائے ملت مولانا سید محمود مدنی کے عاشقوں میں سے تھے۔ آپ کے وصال سے جمعیۃ علماء ہند یوکے ٹرسٹ ایک مخلص و سچے خادم سے محروم ہوگیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو اجر عظیم عطا فرمائے، ان کی قربانیوں کو قبولیت سے نوازے اوران کے بوڑھے والدین اوربیوی بچے کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ مرحوم کے اہل خانہ میں والدین، اہلیہ، دو بہنیں اور ایک بیٹی ہے۔ مرحوم کے چھ سالہ صاحبزادہ محمد حمزہ پٹیل کا آٹھ سال قبل سانس کی بیماری میں انتقال ہو گیا تھا۔ 31 جولائی کی رات نو بجے انیس بھائی کے انتقال کی خبر دفتر جمعیۃ علماء ہند میں موصول ہوئی۔ ناظم عمومی مدظلہ نے فوری طور پر تجہیز و تدفین میں شرکت کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مولانا قاری احمد عبداللہ قاسمی کو بڑودہ روانہ کیا۔ یکم اگست کو دن میں گیارہ بجے مرحوم کی نماز جنازہ کوٹھی گاؤں کے قبرستان میں مولانا قاری احمد عبداللہ قاسمی کی امامت میں ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔ تجہیز و تدفین میں علاقے کے سیکڑوں ذمہ داران مدارس ومساجد،علماء کرام اور عوام کی کثیر تعداد حاضر ہوئی۔ حضرت ناظم عمومی صاحب دامت برکاتہم نے ملک کے جماعتی احباب اور دینی مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مرحومین کے ایصال ثواب کا خصوصی اہتمام کریں۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *