اولڈ ایج ہوم ۔۔۔۔۔ ضرورت یا نقل

ڈیچن چورول، لیہہ (لداخ)
ڈیچن چورول، لیہہ (لداخ)

ہندوستان میں بزرگوں کے لئے کام کرنے والی تنظیم ہیلپ ایج انڈیا کی تحقیق کے مطابق اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے تقریباً ۴۰ فیصد بزرگوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت پورے ہندوستان میں ۷۲۸ اولڈ ایج ہوم (ضعیفوں کے لئے گھر) چلائے جا رہے ہیں جن میں سے ۱۲۴ کیرل میں موجود ہیں۔

۸۹ سال کی عمر، چہرے پر ڈھیر ساری جھریاں، منہ میں دانت بھی نہیں لیکن چہرے کی چمک ایسی جیسے کسی معصوم بچے کے چہرے پر ہوتی ہے۔ یہ ہنستا مسکراتا چہرہ لداخ میں واقع غیر سرکاری تنظیم مہابودھ، انٹرنیشنل میڈٹیشن سینٹر (ایم۔ آئی۔ ایم۔ سی) کی جانب سے چلائے جانے والے میتری اولڈ ایج ہوم میں گزشتہ کئی سالوں سے رہنے والی سونم پلکت کا خاکہ ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ عمر کے اس پڑاؤ میں بھی سونم میں جینے کا حوصلہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسے نوجوانوں میں ہوتا ہے۔ زندگی سے کوئی شکایت نہیں، وہ بھی تب جب اس دنیا میں ان کا کوئی اپنا نہیں۔ اگر کوئی ہے تواس اولڈ ایج ہوم میں رہنے والی ان جیسی ہی کئی عورتیں۔ یہاں رہنے والی ہر عورت کی اپنی اپنی کہانی ہے سونم کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں ہے اس بارے میں سونم بتاتی ہے کہ میں نے شادی نہیں کی۔ والدین اور بھائی بہن کے گزر جانے کے بعد یہ فکر ہمیشہ ستاتی رہتی تھی کہ کہیں بھائی بہن کے بچوں پر بوجھ نہ بن جاﺅں؟ اسی درمیان کسی کام سے اپنے گاؤں ہنیشکو سے لیہہ شہر آنا ہوا، تب ہی اس آشرم کے بارے میں پتہ چلا، جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب باقی کی زندگی یہیں گزاروں گی۔ زمانہ کے ساتھ لداخ میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ لیکن ان تبدیلیوں کی وجہ سے لداخ کی روایت اور رسم رواج بھی آہستہ آہستہ دم توڑ ر ہے ہیں، خاص کر بزرگوں کے معاملے میں۔ اس سلسلے میں لداخ سے ۸ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اسپوٹک گاؤں کی زیرین ڈولما بتاتی ہے کہ پہلے بزرگوں کو اپنے پاس رکھنے کے لئے ہر گھر کے قریب ایک اور چھوٹا سا گھر بنایا جاتا تھا جسے کو لداخی زبان میں ’’کھانگبو‘‘ کہتے ہیں۔ تاکہ جدید وقدیم نسلوں کے درمیان ایک رابطہ ہمیشہ بنا رہے۔ لیکن آہستہ آہستہ اس روایت نے دم توڑ دیا ہے اولڈ ایج ہوم اپنی مرضی سے کون جانا چاہتا ہے؟ لیکن جب آپ کے گھر والے ہی آپ کو نظر انداز کرے تو اور کوئی راستہ بھی تو نہیں بچتا۔

OLD P1

درج بالا باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف عورتوں کے لئے ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ کے مختلف معنی ہیں۔ مذکورہ اولڈ ایج ہوم کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ اس کی بنیاد س’’اسکوربوچان‘‘ گاؤں کی رہنے والی رگانٹوج روانگ نے ڈالی۔ جو کچھ سال پہلے بیماری کی حالت میں لداخ کے سرکاری ہسپتال سونم نربو میموریل میں علاج کروانے آئی تھی۔ علاج کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ گھر سے زیادہ دیکھ بھال تو ان کی ہسپتال میں ہی ہو رہی ہے اس لئے انہوں نے گھر والوں کے ساتھ جانے کے بجائے بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال میں ہی رہنے کا ارادہ کر لیا۔ اور اس طرح تقریبا سات سال گزر گئے اس وقت رگانٹوج روانگ نے ہسپتال میں علاج کے مقصد سے آئی اپنی ہی جیسی تین عمر دراز خواتین کے ساتھ مل کر آخر ۱۹۹۵ میں سنگسینا جو گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کی ترقی کے لئے کام کرتے رہے ہیں اور ایم ۔ آئی۔ ایم۔ سی کے صدر کے ساتھ مل کر اس اولڈ ایج ہوم کا آغاز کیا۔ اس آشرم کے بارے میں خود سگسینا کہتے ہیں کہ انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں اور ایسے لوگوں کی خدمت کرنا تو سب سے بڑے ثواب کا کام ہے۔ یہ آشرم یہاں رہنے والی خواتین کے لئے مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ کسی کے لئے یہ پورے خاندان کی طرح ہے تو کسی کے لئے بچے ہوئے زندگی کے ایام گزارنے کی اچھی جگہ ہے۔ ۷۲ سالہ راہبہ اشلے سپالڈن جو گزشتہ ۲۱ برسوں سے اس آشرم میں رہ رہی ہے، یہاں کا تجربہ اشتراک کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب یہاں دستیاب ہے۔ جب راقم الحروف نے سوال کیا کہ کیا کبھی یہاں آپ کو خوف یا تنہائی کا احساس ہوا تو مسکراتے ہوئے اشلے جواب دیتی ہے ’’ڈر کیوں لگے گا؟ اور میں ابھی مرنے والی بھی نہیں ہوں کیونکہ اب مجھے قلبی سکون ہے۔‘‘ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *