اٹل بہاری واجپئی: ایک عظیم رہنما

نئی دہلی: اٹل بہاری واجپئی نہیں رہے. تین بار ہندوستان کے وزیر اعظم رہے اٹل بہاری واجپئی نے جمعرات، 16 اگست کو مقامی وقت کے مطابق 5 بج کر 5 منٹ پر نئی دہلی میں واقع ایمس یعنی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 93 سال کی عمر میں آخری سانس لی. 25 دسمبر 1924 کو مدھیہ پردیش کے گوالیار میں جنم لینے والے اٹل بہاری واجپئی اس روایت کے لیڈر تھے، جس میں حکمراں اور اپوزیشن سبھی لیڈروں کا احترام کیا جاتا تھا. اٹل بہاری واجپئی پہلی بار 16 مئی 1996 کو ملک کے وزیر اعظم بنے. ان کی قیادت میں بی جے پی کی مرکز میں پہلی حکومت بنی. وہ حکومت صرف 13 دن تک چلی. واجپئی نے اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہونے کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا. اس کے بعد ایچ ڈی دیوگوڑا اور پھر اندر کمار گجرال کی قیادت میں حکومت بنی جو زیادہ دنوں تک نہیں چل پائی اور 1998 میں لوک سبھا کے انتخابات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں این ڈی اے کو دوبارہ اقتدار سنبھالنے کا موقع ملا. اٹل بہاری واجپئی پھر وزیر اعظم بنے. اس بار 13 ماہ تک ان کی حکومت رہی. ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش کی گئی جو ایک ووٹ سے کامیاب رہی. اس کے باوجود اٹل بہاری واجپئی نے ہمت نہیں ہاری.

اٹل بہاری واجپئی جب 19 مارچ 1998 کو دوسری بار وزیر اعظم بنے تو اقتدار سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر ہی 11 اور 13 مئی کو پوكھرن میں کامیاب جوہری ٹیسٹ کروایا. یہ اٹل بہاری واجپئی کا بہت ہی جرات مندانہ  فیصلہ تھا. اس کے نتیجے میں بھارت پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں، تب بھی واجپئی اٹل رہے. اسی کا نتیجہ تھا کہ 1999 کے لوک سبھا انتخابات میں ملک نے ایک بار پھر ان پر بھروسہ جتایا اور وہ زیادہ طاقتور رہنما بن کر ابھرے. لیکن اقتدار اور طاقت ملنے کے باوجود انہوں نے برصغیر ہند میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو ترک نہیں کیا. انہوں نے فروری 1999 میں دہلی اور لاہور کے درمیان بس خدمات شروع کروائی اور خود بس سے لاہور گئے. لاہور میں پاکستان کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا. اس سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا ایک نیا عمل شروع ہوا. اٹل بہاری واجپئی ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی پالیسیوں پر چلنے والے سیاستدان تھے، جو کسی سے سمجھوتہ کرنے میں ڈرتے نہیں تھے، لیکن کسی سے خوفزدہ ہوکر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے.

بھارت کے وزیر اعظم کے طور پر اٹل بہاری واجپئی ملک کی سلامتی کے ساتھ ساتھ سرحد پر تعینات جوانوں کی حفاظت کو بھی اہم سمجھتے تھے. وہ ایک ایک شخص کی جان کو قیمتی جانتے تھے. یہی وجہ ہے کہ کارگل جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد بھی انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی انتھک کوشش کی. ان کا خیال تھا کہ کشیدگی اور جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا. ملک کے جوانوں کی حفاظت کے ساتھ ہی ملک کی ترقی کے لیے بھی امن ضروری ہے. یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سرحد پر امن کے ساتھ ہی ملک کے اندر بھی امن اور خوشگوار ماحول برقرار رکھنے پر زور دیا. وہ “راج دھرم” پر عمل کرتے تھے اور اقتدار میں بیٹھے دوسرے لوگوں سے بھی یہی توقع کرتے تھے. اس کی سب سے بہترین مثال گجرات کے معاصر وزیر اعلی نریندر مودی کو راج دھرم نبھانے کی ان کی نصیحت ہے. وہ اپنے مخالفین کا بھی احترام کرتے تھے. مخالفین کی باتوں سے بہت ہی نرالے انداز میں اختلاف کرتے تھے. اٹل بہاری واجپئی کی اس تقریر کو شاید ہی کوئی بھول پائے گا، جو انہوں نے ایٹمی ٹیسٹ کے بعد پارلیمنٹ میں کی تھی. اس وقت سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے جوہری ٹیسٹ کی مخالفت کی تھی. اٹل بہاری واجپئی نے اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: ہمیں افسوس ہے کہ ہم سابق وزیر اعظم چندر شیکھر جی کی بات سے اتفاق نہیں کرتے.

پنڈت نہرو اور چندر شیکھر کے ساتھ اٹل بہاری واجپئی

اٹل بہاری واجپئی نے اس سے پہلے اپوزیشن میں رہتے ہوئے 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ میں پاکستان کو شکست دینے اور پھر 1974 میں پہلی بار پوكھرن میں جوہری ٹیسٹ کرنے کے لیے معاصر وزیر اعظم اندرا گاندھی کو نے صرف مبارکباد دی تھی بلکہ انہیں درگا کا لقب بھی دیا تھا۔ پہلی بار 1957 میں لوک سبھا کے رکن بننے والے اٹل بہاری واجپئی کل 10 بار اس ایوان کے لیے منتخب ہوئے. وہ 1962 اور 1986 میں راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے. وہ 1951 میں بننے والے بھارتیہ جن سنگھ کے بانی رکن رہے. جب 1977 میں جنتا پارٹی بنی تو اس کے بانیوں میں شامل رہے اور 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی صدر بنے. اپنی پارلیمانی زندگی میں انہوں نے پنڈت نہرو سے لے کر اندرا گاندھی اور نرسمها راؤ تک کی پالیسیوں کی مخالفت کی لیکن وہ صرف برائے نام مخالفت نہیں کرتے تھے. ان کے سامنے ملک اور قومی مفاد ہوتا تھا. اٹل بہاری واجپئی کے سیاسی قد کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ پنڈت نہرو بھی ان کی بات کو غور سے سنتے تھے. کہا جاتا ہے کہ پنڈت نہرو نے اٹل بہاری واجپئی کے لیے ایک بار کہا تھا کہ وہ ایک دن ملک کے وزیر اعظم ہوں گے. پنڈت نہرو کی بات 16 مئی 1996 کو سچ ثابت ہوئی. دسمبر 2014 میں بھارت رتن سے سرفراز  اٹل بہاری واجپئی کے دل میں پنڈت نہرو کا کتنا احترام تھا، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1977 میں وہ پہلی بار وزیر خارجہ بن کر وزارت خانہ میں اپنے دفتر میں گئے تو وہاں دیوار پر لگی پنڈت نہرو کی تصویر کو نہیں پایا. پوچھنے پر جواب بھی نہیں ملا، لیکن انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے پنڈت نہرو کی تصویر کو اسی جگہ پر دوبارہ لگانے کی ہدایت دی، اور وہ تصویر لگا دی گئی. پنڈت نہرو کے انتقال پر رونے والے اٹل بہاری واجپئی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا: مہارشی بالمیکی نے رامائن میں بھگوان رام کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ ناممکنات میں ہم آہنگی پیدا کرنے والے تھے، پنڈت جی کی زندگی میں مہا كوی کے اسی بیانیہ کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے. وہ امن کے پجاری تھے لیکن انقلاب کے علمبردار تھے. وہ عدم تشدد کے پرستار تھے لیکن آزادی اور احترام کی حفاظت کے لیے ہر ہتھیار سے لڑنے کے حامی تھے. وہ انفرادی آزادی کے حامی تھے لیکن اقتصادی مساوات لانے کے لیے مصروف عمل تھے. انہوں نے سمجھوتہ کرنے میں کسی سے خوف نہیں کھایا لیکن کسی سے خوفزدہ ہو کر سمجھوتہ نہیں کیا.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *