ایس وی میڈیکل کالج کو کیا گیا سیل، پروفیسر سمیت کئی ٹیچر حراست میں

تمل ناڈو میں تین طالبات کی خودکشی کے بعد ہنگامہ کا سلسلہ جاری

suicidestudents

چنئی، ۱۱ فروری (منصور عالم عرفانی): تمل ناڈو کے ضلع ولپرم میں واقع ایس وی ایس میڈیکل کالج میں ایک ہی ساتھ تین طالبات کی خود کشی کے بعد سے پورے تمل ناڈو میں بھونچال سا آیا ہوا ہے۔ عوام کے ذریعہ شہر در شہر احتجاج کرخاطیوں کے خلاف کڑی سے کڑی سزا کی مانگ کی جارہی ہے۔
اس بیچ پولیس نے کالج کو پوری طرح سے سیل کردیا ہے۔ کالج کے پروفیسر سبرامنیم سمیت چار ٹیچروں کو حراست میں لے کر ان سے سخت پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ آج ایک بار پھر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ کئی سیاسی پارٹیوں نے زبردست احتجاجی مارچ کیا ، احتجاج کے دوران سی پی ایم کے نیتا جی- راما کرشنن کو پولیس نے حراست میں لے لیا ،اس سے لوگوں میں اور غم و غصے کا ماحول بن گیا ہے۔ پچھلے دس دنوں سے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور پولیس پر کاروائی کرنے کا دباﺅ بنا رہے ہیں ۔
واضح ہوکہ ابھی چند دن پہلے ایس وی ایس میڈیکل کالج کے دوسرے سال کی تین طالبات نے ایک ہی ساتھ پاس کے ایک کنویں میں چھلانگ لگاکر خود کشی کرلی تھی، ساتھ ہی ایک سوسائڈ نوٹ بھی لکھ کر اپنے دستخط کے ساتھ اوپر چھوڑا تھا، جس میں کالج کے پروفیسر سبرامنیم پر سنگین الزامات عائد کرنے کے ساتھ اپنی موت کا ذمہ دار پروفیسر کو ہی بتایا تھا۔ سوسائڈ نوٹ میں تینوں طالبات نے انتظامیہ پر لاکھوں روپئے کی فیس میں اضافہ کا بھی ذکر کیا ہے، جس کا بل انہیں اس سے پہلے کبھی ملا ہی نہیں تھا۔ ساتھ ہی تینوں طالبات نے سوسائڈ نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”نہ تو کالج میں کلاس لگتی ہے، نہ اساتذہ ہیں اور یہاں سیکھنے کو کچھ نہیں ہے۔ ہماری خود کشی کے بعد کالج کے پروفیسر ہمارے کردار پر سوال اٹھائیں گے، مگر آپ لوگ ان کی باتوں پر یقین نہیں کرنا اور اسے پکڑ کر سخت سے سخت سزا دلوانا۔“
خود کشی کرنے والی تینوں طالبات کے والدین نے کہا کہ ہماری لڑکیاں کالج انتظامیہ کی بے حسی کی شکار ہوئی ہیں۔ کالج کے پروفیسر کے ساتھ ساتھ کئی اساتذہ بھی ان کی موت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے خلاف پولیس سخت سے سخت کارورئی کرے اور حقیقت کو عوام کے سامنے لائے ۔ خود کشی کرنے والی تینوں لڑکیوں کی عمر ۱۸ تا ۱۹ سال تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *