ایس پی جی کے کہنے پر سرکاری گھر میں رہتی ہوں: پرینکا گاندھی

Priyanka Gandhi
نئی دہلی، ۱۶ اپریل (نامہ نگار): میڈیا کے کچھ حلقوں میں اپنے سرکاری گھر کو لے کر اٹھائے جا رہے سوالوں کا آج جواب دیتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی بیٹی اور رابرٹ واڈرا کی بیوی پرینکا گاندھی نے کہا کہ وہ سرکاری گھر میں اس لیے رہ رہی ہیں، کیوں کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) نے انھیں ایسا کرنے کے لیے کہا تھا اور وہ اس کا کرایہ اسی کے حساب سے ادا کرتی ہیں۔
پرینکا کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دسمبر ۱۹۹۶ میں اپنے سرکاری گھر کو چھوڑ کرکسی دوسری جگہ پر پرائیویٹ گھر کرایے پر لے کر رہنا چاہتی تھیں، لیکن ان کی حفاظت پر مامور ایس پی جی نے انھیں اس کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ سیکورٹی کے مد نظر وہ سرکاری گھر میں رہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس وقت کے ایس پی جی ڈائرکٹر نے انھیں اطلاع دی تھی کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے ان کی حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھیں کسی پرائیویٹ گھر میں رہنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا ہے۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ سیکورٹی بنیادوں پر کسی سرکاری گھر میں رہنا شروع کردیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’وہ جو کچھ کرایہ ادا کرتی ہیں، اس کا تعین حکومت نے اسی کیٹیگری کے گھر کے کرایہ کے مطابق طے کی گئی ہے۔‘‘
پرینکا گاندھی نے سال ۲۰۰۲ میں حکومت ہند کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ لودی اسٹیٹ کے جس گھر میں وہ رہتی ہیں اس کا ۵۳،۴۲۱ روپے کا کرایہ بہت زیادہ ہے اور وہ اتنا کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
ابھی وہ لودی اسٹیٹ کے ٹائپ چار جس سرکاری گھر میں وہ رہتی ہیں، اس کا ماہانہ کرایہ وہ ۳۱ ہزار ۳۰۰ روپے ادا کرتی ہیں۔
میڈیا کی بعض رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے واجپئی حکومت کو بھی اس بات کے لیے منا لیا تھا کہ ان کے مکان کے کرایہ ۵۳ ہزار ۴۲۱ کو کم کرکے ۸ ہزار ۸۸۸ روپے کر دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *