ایس ڈی پی آئی نے روہت ویمولا کی ماں سے مل کر بلند کی انصاف کی آواز

نئی دہلی، ۲۷ جنوری (پریس ریلیز): سوشل ڈیموکریٹ پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے روہت ویمولا کے لیے جدوجہد کر رہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کی قیادت میں امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے ایس اے) کے ذریعہ انصاف کے لیے آواز بلند کرکے ان کے مطالبات کی پوری طرح حمایت کی ہے، جس کے مد نظر ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر ایڈووکیٹ شرف الدین احمد کی قیادت میں ایک وفد نے حیدرآباد پہنچ کر روہت ویمولا کی ماں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر قومی نائب صدر نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وہاں مولوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ایک انصاف کی لڑائی لڑنے والے لعل کو کھو دیا ہے، لیکن روہت ویمولا کی لڑائی کو ہمیں جاری رکھنا ہے اور ہم اے ایس اے کے بہادر سپاہیوں کی انصاف کی اس لڑائی میں ان کے ساتھ ہیں۔‘‘
SDPI_Rohith Vemula (6)
غور طلب ہے کہ ایس ڈی پی آئی نے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے دہلی میں وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی کے دفتر کے باہر ۱۸ جنوری کو بڑے پیمانے پر دھرنا دیا تھا اور ساتھ ہی کیرل، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش کے علاوہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں دلتوں، پچھڑوں، اقلیتوں اور سماجی خدمت گاروں کو سماج دشمن عناصر کے ذریعہ مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لیے بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے اور ہماری پارٹی ملک میں فاشسٹ طاقتوں کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے اور روہت ویمولا کو انصاف دلانے کے لیے ہماری پارٹی تب تک آواز اٹھاتی رہے گی، جب تک کہ ان کے اہل خانہ کو انصاف نہیں مل جاتا۔
SDPI_Rohith Vemula (3)
اس کے علاوہ، دہلی ریاستی ایس ڈی پی آئی نے ریاستی صدر ایڈووکیٹ اسلم احمد کی قیادت میں مشرقی دہلی کے ترلوک پوری علاقے میں روہت ویمولا کی یاد میں ایک کینڈل مارچ نکالا۔ اس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ خواتین نے بھی شرکت کی۔ یہ مارچ ۲۷ بلاک سے شروع ہو کر بلاک نمبر ۲۰، ۲۶، ۲۸، ۲۹ اور ۳۲ سے ہوتا ہوا ۲۷ بلاک بس اسٹینڈ پر ختم ہوا۔ اس موقع پر دہلی ریاستی نائب صدر عرفان احمد، ریاستی جنرل سکریٹری ڈاکٹر آئی اے خان، بی ایس گوتم، ڈاکٹر راہل، منوج گوتم، ترلوک بنسی وال، دھرمیندر اجین وال، مکیش گوتم، محمد عامر، محمد سرفراز، رئیس احمد اور محمد امجد کے ساتھ خواتین میں ساجدہ، سمی، رخسانہ، شبانہ اور گڈن کے علاوہ بھاری تعداد میں پارٹی کارکن شریک ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *