ایس ڈی پی آئی نے کرنول میں قائم کیا امپاورمنٹ سینٹر

SDPI Karnulکرنول ، (آندھراپردیش):
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے ملک کے طلباء و طالبات کی رہنمائی اور عوامی خدمات کی توسیع کرتے ہوئے ریاست آندھر ا پردیش کے کرنول ضلع میں انفارمیشن اور امپاورمنٹ سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری افسر پاشااور محمد الیاس تمبے اور قومی سکریٹری عبد الوارث بحیثیت مہمان خصوصی شریک رہے۔ریاستی صدر ڈی ایس حبیب اللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ مذکورہ سینٹر میں تعلیم، ملازمت اور صحت کے شعبوں میں طلباء و طلبات اور عوام کی مفت رہنمائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آندھر اپردیش میں اس طرح کا سینٹر قائم کرنے میں ایس ڈی پی آئی نے پہل کی ہے۔ اس کے تحت سب سے پہلے کرنول میںیہ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس میں طلباء و طالبات کی پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لیے آن لائن درخواست کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات اور ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے اوبی سی کو دی جانے والی قرضہ جات کی درخواستیں مفت میں آن لائن بھری جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ووٹر شناختی کارڈ، آدھار کارڈ، راشن کارڈ وغیرہ سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح عوام کی صحت کے تعلق سے بھی ہرممکن خدمات انجام دی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کا منصوبہ ہے کہ مستقبل قریب میں طلباء و طلبات کی رہنمائی اور عوام کی خدمات کے لیے اس طرح کے سینٹرس آندھرا پردیش کے تمام اہم علاقوں میں قائم کیے جائیں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی جنرل سکریٹری افسر پاشا نے کہا کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیانے ریاست کرناٹک میں بنگلور، گلبرگہ اور منگلور میں اس طرح کے تین سینٹرس قائم کیے ہیں۔ ان سینٹروں میں تعلیم ، ملازمت اور صحت کے میدان میں طلبا ء طالبات اور عوام کی مفت رہنمائی کی جارہی ہے۔ حق تعلیم ایکٹ کے تحت طلبہ کو اسکولوں میں داخلہ، اقلیتی اسکالر شپ اور حکومت کی جتنی بھی اسکیمیں ہیں، ہم ان طلباء و طالبات کو فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ہیلتھ کارڈ، خون عطیہ کیمپ ، کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے رہنمائی وغیرہ بھی کی جارہی ہے۔ کرناٹک میں قائم ان تینوں سینٹروں سے اب تک سوا لاکھ سے زیادہ افراد استفادہ حاصل کرچکے ہیں۔ افسر پاشا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کے مذکورہ سینٹروں کے ذریعے حق تعلیم ایکٹ آرٹی ای کے درخواست نامے بھیج کر تعلیمی سال ۱۵۔۲۰۱۴میں تقریبا ۸۰۰؍طلباء کو فائدہ ہوا ہے جو آج اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی سال ۱۷۔۲۰۱۶میں حق تعلیم ایکٹ کے تقریباً ساڑھے چھ ہزار درخواستیں بھیجی گئی ہیں، جس کا رزلٹ آنا ابھی باقی ہے۔قومی جنرل سکریٹری الیاس تمبے نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ اقلیتوں کو حاصل سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے رہنمائی کے لیے وہ ایس ڈی پی آئی کے کارکنان سے رجوع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سینٹر دیگر ریاستوں میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ انفارمیشن اور امپاورمنٹ سینٹر کے افتتاح کی تقریب میں ریاستی جنرل سکریٹری عرفان ملا اور ریاستی ورکنگ کمیٹی کے اراکین سمیت بڑی تعداد میں کارکنان نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *