این ای ای ٹی معاملہ پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ خوش آئند

الطاف حسین جنجوعہ
الطاف حسین جنجوعہ

۱۹۴۷ میں تقسیم برصغیر ہند کے وقت سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کا شکار بنی جموں و کشمیر ریاست، جس کے مستقبل کا فیصلہ ہنوز ہونا باقی ہے، کو آئین ہند کے تحت ہندوستان کے اندر ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ آئین ہند کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کی وجہ سے جموں وکشمیر ہندوستان کی واحد وہ ریاست ہے، جس کا علیٰحدہ آئین اور علیٰحدہ ریاستی پرچھم ہے۔ یہاں ہندوستانی آئین کے ساتھ ساتھ ریاست کا پرچم بھی لہرانا لازمی ہے۔ جموں وکشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق صرف تین نکات پر ہوا تھا، جن میں کرنسی، مواصلات اور دفاع کو چھوڑ کر باقی سب ریاست کے کنٹرول میں تھے۔ اس لئے یہاں پارلیمنٹ کے اندر پاس ہونے والا کوئی بھی قانون براہ راست لاگو نہیں ہوسکتا۔ پارلیمنٹ کے علاوہ مرکز کی کسی بھی اختیاری باڈی، کمیشن، آرگنائزیشن، کارپوریشن وغیرہ کے قواعد وضوابط اور ہدایات کابھی جموں وکشمیر ریاست میں براہ راست نافذ نہیں ہوسکتا۔ جموں وکشمیر کی قانون سازیہ کی توثیق اور مرضی و منشاء کے تحت ہی قوانین لاگو ہوسکتے ہیں۔ اس حوالہ سے جموں وکشمیر اسمبلی کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن بعض دفعہ ایسی کوششیں کی گئی ہیں کہ ریاستی قانون سازیہ کے بغیر ہی مرکز کے فرمان کو راست لاگو کیاجائے۔ لیکن نئی دہلی نے آہستہ آہستہ ریاست کی آئینی پوزیشن کو کمزور کرنے کے لئے رفتہ رفتہ ہراختیارات پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر مارچ ۲۰۱۳ میں بجٹ اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ایک ولولہ خیز اور جذباتی تقریر میں کہا تھا کہ ”جموں وکشمیر کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ جو رشتہ اس وقت بنا تھا وہ قائم ہے، لیکن خیانت دلی سرکار نے کی ہے۔ اگر کوئی رشتہ بنتا ہے تو یہ دونوں طرف سے بننا چاہے۔‘‘

مرکز میں بھاجپا قیادت والی سرکار آنے کے بعد سے جموں وکشمیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی پے در پے کوششیں کی گئی ہیں۔ دفعہ ۳۷۰ پر وار کے جاری سلسلہ کی کڑی حالیہ دنوں این ای ای ٹی کا معاملہ سامنے آیا، جس میں کل ہند پری میڈیکل ٹیسٹ (اے آئی پی ایم ٹی) نے ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلہ کے خواہشمند امیدواروں کے لئے قومی سطح پر یکمشت امتحان لینے کی بات کی۔ اے آئی پی ایم ٹی نے جموں وکشمیر میں طبی تعلیم کے خواہشمند امیدوار، جنہوں نے یکم مئی کو منعقد ہونے والے کل ہند سطح کے میڈیکل داخلہ امتحان کیلئے درخواست دی تھی یا اس امتحان میں شرکت کی، کو ۲۴ جولائی کو منعقد ہونے والے دوسر ے مرحلہ کے امتحان کیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امیدوار، جنہوں نے AIPMT-2016/NEET-II، جو یکم مئی کو منعقد ہونے والا ہے، کیلئے درخواستیں دی تھیں، وہ ۲۴ جولائی کو منعقد ہونے والے  NEETمرحلہ دوم کیلئے اپلائی کرنے یا اس میں شرکت کرنے کے مستحق نہیں ہیں۔ اس پیغام میں امیدواروں کو مزید ہدایت دی گئی کہ وہ پہلے سے مرتب شدہ شیڈول کے مطابق یکم مئی کواپنے متعلقہ امتحانی مراکز پر AIPMT امتحان میں شامل ہوجائیں۔ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلہ کے لئے جموں وکشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزام (BOPEE) کی طرف سے  JKCET لیا جاتا رہا ہے، لیکن یہ کوشش کی گئی کہ اس کو ختم کیاجائے۔  AIMPT کی یہ ہدایات ایک ایسے وقت میں آئیں جب ریاستی طلباء و طالبات نے پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے سے متعلق ریاستی بورڈ  BOPEEکے تحت لئے جانے والے امتحانات کیلئے تیاریاں کر رکھی تھیں۔ اس معاملہ پر فوری طور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ کہا کہ جموں وکشمیر کے طلباء کو  NEET کے دائرے میں لانا نہ صرف یہاں کے طلباء و طالبات کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن اور دفعہ ۳۷۰ کیلئے بھی ایک چیلنج ہے۔ ملکی سطح کے نیشنل ایلیجی بلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ میں پورے ملک کے طلباء کے ساتھ مقابلے میں ہمارے بچوں کے کامیاب ہونے کی امیدیں انتہائی کم ہیں، کیونکہ ہمارے بچوں نے  NEET کیلئے تیاری نہیں کی ہے، آخری وقت پر طلباء و طالبات کو کامن انٹرنس ٹیسٹ کے بجائے  NEET میں شرکت کیلئے مجبور کرنا کسی ناانصافی سے کم نہیں۔ عمر عبداللہ نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا جموں وکشمیر کی طالبات کو ریاست کے میڈیکل کالجوں میں ملنے والا پچاس فیصد ریزرویشن جاری رہے گا؟ یاد رہے کہ عمر عبداللہ کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس سرکار نے سال ۱۹۹۹ میں طبی شعبے میں خواتین کی قلت سے نمٹنے اور انہیں لوگوں کی خدمت کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ریاست کے میڈیکل کالجوں میں خواتین کے لئے ۵۰ فیصد ریزرویشن کا قانون نافذ کیا تھا۔ تاہم دفعہ ۳۷۰  کے تحت خصوصی پوزیشن رکھنے والی اس واحد مسلم اکثریتی ریاست کو این ای ای ٹی کے دائرے میں لانے کے بعد سے ریاست کے میڈیکل کالجوں میں خواتین کے لئے ۵۰ فیصد ریزرویشن پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

ریاستی سرکار کی وزارت قانون نے اس ضمن میں فوری اقدام اٹھاتے ہوئے نیشنل ایلیجی بلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (این ای ای ٹی) کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کی۔ عدالت عظمیٰ کے خصوصی بنچ کے سامنے پیش اس عرضداشت میں جموں وکشمیر ریاست کو خصوصی درجہ کی بنا پر فیصلہ میں ترمیم کی گذارش کی گئی۔ عدالت عظمیٰ میں اس کیس کی مضبوط اور مؤثر پیروی کو یقینی بنانے کے لئے سینئر ایڈوکیٹ اور سابق اٹارنی جنرل آف انڈیا گوپال سبرامنیم، سینئر ایڈوکیٹ اور سابق اسسٹنٹ سالسٹر جنرل وشوناتھن اور سنیل فرنانڈیز کی خدمات حاصل کیں، جبکہ ان کی معاونت کے لئے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینہ، لاء سیکریٹری محمد اشرف میر اور بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزیمنیشن (BOPEE)  کے چیئرمین جی ایچ تانترے بھی نئی دہلی روانہ کئے گئے۔ ان وکلاء نے عدالت عظمیٰ میں  NEET معاملہ کی سماعت کے دوران آئین ہند کی دفعات ۳۷۰ اور ۳۵ اے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے عرضداشت پیش کی کہ ریاست کو این ای ای ٹی کے دائرہ اختیار سے باہر ہی رکھا جانا چاہئے، کیونکہ آئینی طور پر قومی سطح کے ادارے کی عمل آوری ریاست کے شعبہ تعلیم پر نافذ العمل نہیں ہوسکتی۔ جموں وکشمیر دفعہ ۳۷۰ کے تحت خصوصی پوزیشن کی حامل ریاست ہے اور اسے ۳۵ اے کا تحفظ بھی حاصل ہے۔ خصوصی آئینی پوزیشن کی حامل ریاست جموں وکشمیر کو شعبہ تعلیم میں بھی آزادانہ اختیارات حاصل ہیں اور وہ براہ راست مرکزی شعبہ تعلیم کے اثر ونفوذ میں نہیں آتا ہے، لہٰذا این ای ای ٹی کے دائرہ اختیار میں جموں وکشمیر کے طلباء انٹرینس ٹیسٹ دینے کے مکلف نہیں بنائے جا سکتے ہیں۔ اس پر عدالت عظمیٰ نے یہ عندیہ دیا کہ جموں وکشمیر سرکار از خود مسابقتی امتحانات منعقد کرائے اس میں کوئی ہر ج نہیںلیکن نجی میڈیکل کالجوں کو ازخود امتحانات منعقد کرکے داخلے دینے کی قطعا اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اگر چہ اس معاملہ پر حتمی فیصلہ آنا باقی ہے لیکن یقینی ہے کہ جموں وکشمیر اس سے مستثنیٰ ہی ہوگا کیونکہ آئینی درجہ تو اسی کا متقاضی ہے۔ لیکن ریاست کے نجی اداروں کو بھی آئینی پوزیشن کی روح سے NEET کے دائرہ میں نہیں لایاجاسکتا، اگر ان پر سختی برتنی ہے تو انہیں JKCET اور BOPEE کے اختیار میں ہی لایا جا سکتا ہے۔

آئینی طور پر حاصل خصوصی پوزیشن کی وجہ سے NEET سے جموں وکشمیر کو مستثنیٰ رکھنے سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنا یقینی تھا جس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو اس خصوصی پوزیشن سے کافی چڑھ ہوتی ہے، اسی لئے آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا کام کیاجاتا ہے تاکہ جموں وکشمیر پر مکمل اختیار حاصل کیا جائے، جوکہ ممکن نہیں۔ بھاجپا ۱۹۴۷ سے ہی جموں وکشمیر کے حوالہ سے ’ایک نشان، ایک ودھان اور ایک پردھان‘ مطلب ’ایک پرچم، ایک آئین اور ایک سربراہ‘ کا مشن لئے ہوئے ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ اسی لئے شیاما پرساد مکھرجی نے مادھوپور میں قربانی دی تھی۔ بھاجپا کی ریاستی اکائی جوکہ پی ڈی پی مخلوط حکومت کی اتحادی پارٹنر ہے، نے بھی مرکز کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے  NEETفیصلہ کی تائید کی۔ اگر چہ بھاجپا سے وابستہ کابینہ میں شامل کسی وزیر یا اراکین قانون سازیہ (MLA/MLC) نے رد عمل ظاہر نہیں کیا البتہ سنگھ پریوار کے ترجمان بریگیڈیئر انل گپتا کا سہارا لیکر اپنے دل کی بات کہی، بریگیڈیئر انل گپتا نے اپنے بیان میں جموں وکشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرینس ایگزام (JKBOPEE) کے رول کو مشکوک قرار دیا اور کہا کہ جموں وکشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرینس ایگزام (JKBOPEE) کا مبینہ مشکوک رول رہتا ہے، اس کے تحت ہونے والے امتحانات میں کئی مستحق امیدواروں کے ساتھ حق تلفی ہوتی آئی ہے، جبکہ غیر مستحق امیدوار وں کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق  BOPEEسے ہمیشہ طبی تعلیم کے خواہشمند امیدواروں اور ان کے والدین کی شکایات رہی ہیں اور ماضی میں کئی ایسے اسکینڈل بھی سامنے آئے ہیں، جن سے ان خدشات، تحفظات وشکایات کی تصدیق ہوتی ہے۔ بھاجپا نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور کارگزار صدر عمر عبداللہ کو NEET معاملہ پرغلط بیانی کرنے اور گمراہ کن بیانات دینے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ عمر عبداللہ کا یہ بیان کہ اس سے لڑکیوں کے لئے ۵۰ فیصد ریزرویشن ختم ہوجائے گا، غلط ہے اور اس کا مقصد صرف نوجوان ذہنوں میں غیر ضروری غلط فہمی پیدا کرنا ہے، جوکہ گذشتہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی سراپا احتجاج ہیں۔ NEET معاملہ پر پی ڈی پی۔ بھاجپا مخلوط سرکار میں شامل قانون و انصاف کے وزیر ایڈووکیٹ عبدالحق خان نے جس طرح سے اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ لیکر عدالت عظمیٰ میں اس کی پیروی کے لئے محکمہ کے عملہ کو متحرک کیا وہ قابل تعریف ہے۔ اگر اسی طرح ماضی میں جب جب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے چھوٹی بڑی کوششیں کی گئیں، ان کا فوری طور دفاع کیا گیا ہوتا، ان کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہوتی تو آج جموں وکشمیر اس حالت پر نہ پہنچتی جہاں وہ بے بسی اور لاچارگی کے عالم میں دکھائی دے رہی ہے۔ اگر خصوصی مفادات کی تکمیل کیلئے سودا نہ کیا گیا ہوتا تو آج صدر سے گورنر اور وزیر اعظم سے وزیر اعلیٰ تک کی نوبت نہیں پہنچتی۔ بہرکیف، عدالت عظمیٰ نے  NEETمعاملہ میں جو فیصلہ دیا ہے وہ بھاجپا اور سنگھ پریوار کے لئے چشم کشا اور نوشتہ دیوار کی طرح ہے کہ جذبات، آئینی اختیارات پر مسلط نہیں ہوسکتے۔ فوری قانونی چارہ جوئی کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے حوالہ سے ریاستی سرکار کی مثبت پہل قابل ستائش ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی جب جب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو چیلنج کرنے والے معاملات سامنے آئیں گے، ان کا اسی طری فوری مضبوط دفاع کیاجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *