این ڈی اے کو بھاری پڑسکتی ہے راجیہ سبھا کی جیت

امت شاہ اور نتیش کمار

نئی دہلی: راجیہ سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو کے امیدوار ہری ونش نارائن سنگھ کی جیت پر این ڈی اے جشن منا رہا ہے۔ اس کو وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ اور نتیش کمار کی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ قومی سطح پر ایسا لگتا بھی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں جس طرح اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کی پارٹی بیجو جنتادل اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھرراؤ کی پارٹی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کےعلاوہ اودھو ٹھاکر ے کی قیادت والی شیوسینا نے جے ڈی یو کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیا ہے، اس سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ لوک سبھا کے اگلے انتخابات کے بعد اگر این ڈی اے کو کم سیٹیں ملیں تو یہ پارٹیاں اس کی مدد کے لیے آگے آسکتی ہیں۔ لیکن بی جے پی اور جے ڈی یو کے رشتوں میں بظاہر آنے والی مضبوطی کا بہار کی سیاست پر کیا اثر ہوگا، اس بارے میں سیاسی مبصرین خاموش نظر آرہے ہیں۔

بہار میں جے ڈی یو نتیش کمار کو چہرہ بنانے کی ضد کر رہی ہے۔ وہ این ڈی اے میں شامل پارٹیوں میں سب سے زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑنے کی خواہشمند ہے۔ بی جے پی نے اب تک اس کے مطالبے کو اعلانیہ تسلیم نہیں کیا ہے لیکن راجیہ سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے ذریعے اس نے ایک اشارہ ضرور دے دیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جے ڈی یو کو زیادہ اہمیت دینے سے این ڈی اے میں شامل رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی اور اوپندر کشواہا کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کا کیا ہوگا؟ لوک سبھا کے گزشتہ الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی نے سات سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے جن میں سے چھ کی جیت ہوئی تھی۔ اوپندر کشواہا کی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے تین امیدواروں نے جیت درج کی تھی۔ بی جے پی نے ۲۲؍ سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی جبکہ اکیلے الیکشن لڑنے والی جے ڈی یو دو سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔
لوک سبھا کے اگلے الیکشن میں اگر لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کی قیمت پر این ڈی اے میں جے ڈی یو کو اہمیت دی جاتی ہے تو یہ دونوں پارٹیاں بی جے پی کی قیادت والے اتحاد سے الگ ہوسکتی ہیں۔ ان کے پاس راشٹریہ جنتادل کی سربراہی میں مہاگٹھ بندھن میں جانے کا متبادل موجود ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو قومی سطح پر بھی اس کا اثر پڑسکتا ہے۔ این ڈی اے سے الگ ہونے کے لیے تیار پارٹیوں کو حوصلہ مل سکتا ہے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *