بارہویں کے رزلٹ نے لی دو طلبہ کی جان

images (4)

نئی دہلی، ۲۳ مئی (حنیف علیمی): کہتے ہیں زندگی امتحان لیتی ہے، مگر یہاں تو امتحان ہی نے زندگی لے لی۔  جی ہاں، بارہویں کے دو طالب علم جن میں سے ایک کے نمبر کم آئے اس لئے اس نے زہر کھا لیا اور دوسرا انگلش میں فیل ہونے کے بعد زندگی سے مایوس ہو گیا اور خود کشی کر بیٹھا۔

واقعہ گڑگاؤں کے لکشمی گارڈن میں رہنے والے روہن کا ہے۔ روہن کو ۳ بجے کے قریب گھر والوں نے جب بیہوشی کی حالت میں دیکھا تو فوراً اسپتال لے گئے جہاں اس کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ روہن (۱۶) بارہویں کلاس کا طالب علم تھا۔ کل سی بی ایس سی بورڈ کا رزلٹ آیا تھا اوروہ انگلش میں فیل ہوگیا تھا، اسی وجہ سے اس نے زہر کھا لیا۔ گھر والوں نے جب اس کو بیہوشی کی حالت میں دیکھا تو فوراً اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ گھر والوں نے پولس کو بتائے بغیر ہی اس کی آخری رسومات ادا کردیں۔ پولس پی آر او ہوا سنگھ کا کہنا ہے کہ معاملے کے سبھی پہلوؤں پر تحقیق کی جارہی ہے۔ پولس روہن کے گھر والوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

ماں باپ نے ڈانتا تو بارہویں کے طالب علم نے لگائی پھانسی

hanging-20

دوسرا واقعہ جنوب مغرب دہلی کے نرینا علاقے کا ہے۔ سی بی ایس سی بورڈ سے بارہویں کے امتحان میں کم نمبر آنے کی وجہ سے والدین نے بچے کو ڈانٹا۔ اس سے ناراض ہوکر ۱۷ سالہ بیٹے نے پھانسی لگا کر خود شی کر لی۔ پولس نے بتایا کہ خودکش ودیاراج جنوب مغرب دہلی کے نرینا علاقے میں اپنے گھر کے پاس ہی ایک سرکاری اسکول میں پڑ ھتا تھا۔ سی بی ایس سی بورڈ کے امتحانات کے نتائج کا اعلان ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اس نے یہ قدم اٹھایا۔ ایک سینئر پولس افسر نے بتایا کہ شروعاتی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اس پر اسکول کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کا دباؤ تھا۔ ودیاراج سائنس کا طالب علم تھا اور اس نے بارہویں کے بورڈ کے امتحان میں ۶۰ فیصد نمبرات حاصل کیے تھے۔ مبینہ طور پہ کم نمبر آنے کی وجہ سے گھر والوں نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ وہ کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا، جس سے ناراض ہوکر کچھ دیر بعد طالب علم نے ایک بیلٹ کے سہارے خود کشی کرلی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *