بجرنگ دل دے رہا ہے ہندو نوجوانوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت

Bajrang-Dal-620x400 (1)

نئی دہلی، ۲۵ مئی (حنیف علیمی): مرکز میں جب سے بی جے پی سرکار برسر اقتدار آئی ہے، ہندو شدت پسند اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ ملک بھر میں جابجا گئو کشی، لوجہاد اور بھارت ماتا کی جئے کے نام پر راہ گیروں کو مارنا پیٹنا، گھروں میں آگ زنی کرنا اور دنگے بھڑکانا روز کا معمول ہو گیا ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال اخلاق کا قتل ہے۔

اس کے علاوہ تحفظ گائے کے نام پر لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے جیسے معاملات سوشل میڈیا پر آئے دن دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے موصول خبر کے مطابق اترپردیش کے ضلع اجودھیا میں بجرنگ دل نے ایک کیمپ قائم کیا ہے، جس میں وہ اپنے کارکنان کو رائفل چلانے، تلوار بازی اور لاٹھی چلانے کی تربیت دے رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ تربیت ہندوؤں کو ان لوگوں سے حفاظت کے لئے دی جارہی ہے جو ہمارے بھائی نہیں ہیں۔ ابھی یہ کیمپ اجودھیا میں ہے اور ایسے ہی پانچ جون کو سلطان پور، پیلی بھیت، نوئڈا اور فتح پور میں کیمپ لگا کر ہندو نو جوانوں کو تربیت دی جائے گی۔

واضح ہو کہ اس تنظیم پر کئی بار دنگے فساد کرانے کے معاملے بھی درج ہوئے ہیں اور یہ ہتھیارر چلانے کی تربیت بھی کئی سال سے کرا رہی ہے۔ ۲۰۰۲ میں بھی اس تنظیم نے اجودھیا میں اس طرح کی تربیت دی تھی۔ ملک بھر میں مذہبی منافرت کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے دنگے آئے دن ہو رہے ہیں اور اس وقت یوپی کا اعظم گڑھ فساد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ ایسی صورت حال کے باوجود اتر پردیش سرکار کی ناک کے نیچے اس طرح کی تربیت دینا کسی خاص مقصد سے خالی نہیں ہے۔ اگر جلد ہی اتر پردیش حکومت نے اس طرح کے پروگرام پر لگام نہیں لگائی تو ہو سکتا ہے اس کا بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *