بجرنگ دل کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے : شاکر پٹنی

ممبئی، ۳۰ مئی (پریس ریلیز): ’’نجی فوجی ٹریننگ کیمپ کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ ملک کے دیگر فرقوں میں خوف و ہراس پھیلایا جائے اور انہیں اس قدر کچل دیا جائے کہ وہ ملک میں سر اٹھا کر جینے کے قابل نہ رہیں‘‘۔ یہ باتیں ممبئی مجلس اتحادالمسلمین کے صدر عبد الرحمن شاکر پٹنی نے اخبار کو جاری ایک بیان میں کہی۔ وہ بجرنگ دل کے سوابھیمان سینا کی ٹریننگ پر بول رہے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھائے کہ توگڑیہ کے مطابق یہ ٹریننگ کیمپ جو کہ ایودھیا سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں چلایا جارہا ہے وہ پچیس سال سے جاری ہے ۔انہوں نے یا د دلایا کہ بابری مسجد کو شہید کئے ہوئے بھی تقریبا بائیس تئیس سال ہو گئے ۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اس قبل سے ملک میں فساد پھیلانے اور مسلمانوں کے قتل عام کے لئے تیاری شروع کردی تھی ۔ملک کا اپنا دستور ہے یہاں جمہوری نظام ہے عدلیہ ہے اور ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پولس ہے اور ملک کو بیرونی خطروں سے محفوظ رکھنے کے لئے بہترین پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والی فوج ہے پھر یہ سوابھیمان سینا اور دھرم سینا کس لئے؟ کیا اب وہ سرحد پر فوج کی جگہ لیں گے؟ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ہر چند کہ بجرنگ دل کے ٹریننگ کیمپ کے ذمہ داروں سمیت دیگر پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت کا جو رویہ رہا ہے اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض خانہ پری ہے ۔کیوں کہ اس قبل بھی اتر پردیش کے مختلف شہروں میں ٹریننگ کیمپ کا انکشاف ہوا تھا لیکن اتر پردیش کی سیکولر اکھلیش حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے کسی بھی ٹریننگ کیمپ کو فوراً بند کیا جائے اور اس کے لئے ذمہ دار اشخاص پرسخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ملک کے کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔

شاکر پٹنی کے مطابق یہ بات یقین کرنے کے قابل نہیں ہے کہ اتنے دنوں سے یہ غیر قانونی ٹریننگ کیمپ چلائے جارہے ہیں اور حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیاں اس سے ناواقف ہوں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی مرضی اس میں شامل ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی سیکولر زم ہے اور کیا یہی سیکولر پارٹیوں کا انصاف ہے کہ وہ سیکولرزم اور انصاف کے نام پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا خوف دکھا کر مسلمانوں کے ووٹ سے حکومت بناتے رہے، لیکن انہوں نے کبھی مسلمانوں کو ان کا جائز حق نہیں دیا۔فسادات ہوتے رہے ۔مسلمان لٹتے رہے لیکن زبانی ہمدردی کے علاوہ فساد کے مجرموں کو سزائیں نہیں دی گئیں۔شاکر پٹنی نے سوال کیا کہ اگر یہی ٹریننگ کیمپ مسلمان چلارہے ہوتے یا ان کی کوئی تنظیم اس طرح کے غیر قانونی اور ملک مخالف کام کررہی ہوتی جب بھی حکومتیں اسی طرح خاموش رہتیں ؟انہوں نے کہا کہ یہی سبب ہے کہ مجلس اتحا دالمسلمین نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی دوغلی پالیسی پر تنقید کرتی ہے تو ہمیں بی جے پی کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ۔لیکن اب مسلمانوں کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا اب مسلمان اور دیگر پسماندہ طبقات ایک پلیٹ فارم پر آکر نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے 67 سال کا حساب لیں گے ۔اب مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کی اپنی قیادت ہوگی جب ہی انصاف مل سکے گا اور مجرم کیفر کردار تک پہنچیں گے۔ہم ان لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو ٹریننگ کیمپ پچھلے پچیس سال سے چل رہا ہے اس میں صرف بی جے پی کی ہی حکومت تھی ۔ اس دوران مسلمانوں کی مسیحائی کا دم بھرنے والے ملائم سنگھ کی حکومت نہیں رہی ؟مرکز میں کانگریس کی حکومت نہیں رہی ؟پھر کیوں نہیں ان پر قدغن لگائے گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *