بدعنوانی کے دلدل میں ڈوبے ملک میں ’ہیلی کاپٹر‘ کی کیا اوقات

پونیہ پرسون باجپئی
پونیہ پرسون باجپئی

چار سو ۶۲ ارب ڈالر۔ آزادی کے بعد سے ساٹھ برس کی بدعنوانی کی یہ رقم ہے۔ یہ رقم ایسے کالے دھن کی ہے جو ٹیکس چوری، جرم اور بدعنوانی کے ذریعے نکلی۔ واشنگٹن کی گلوبل فائنینشیل انٹیگریٹی کی رپورٹ کے مطابق، آزادی کے بعد سے ہی بدعنوانی ہندوستان کی جڑوں میں رہی، جس کی وجہ سے ۴۶۲ ارب ڈالر، یعنی ۳۰ لاکھ ۹۵ ہزار ۴۰۰ کروڑ روپے ہندوستان کی اقتصادی ترقی سے جڑ نہیں پائے۔ اور ۱۹۹۱ کی اقتصادی بہتری نے اس رقم کا ۶۸ فیصد حصہ، یعنی قریب ۲۱ لاکھ کروڑ مختلف طریقوں سے بیرون ملک چلا گیا۔ یعنی جو سوال آج کی تاریخ میں کالے دھن سے لے کر بدعنوانی کو لے کر اس کی بنیاد آزادی کے وقت ہی ملک میں پڑی اور بدعنوانی کو لے کر جو سوال ہیلی کاپٹر گھوٹالہ کے ذریعہ پارلیمنٹ میں اٹھ رہے ہیں اس کا اصل سچ یہی ہے کہ دفاعی سودے میں گھوٹالے ملک کے دیگر علاقے کے گھوٹالوں میں کافی پیچھے ہیں۔ اور اسے ہر سیاست داں بخوبی سمجھتا ہے۔

یعنی بدعنوانی کو لے کر پارلیمنٹ میں بحث بھی کوئی نئی عبارت نہیں لکھی جا رہی ہے، بلکہ نہرو کے دور میں جیپ گھوٹالے سے لے کر مندڈا گھوٹالہ، اندرا کے دور میں ماروتی گھوٹالے سے لے کر تیل گھوٹالہ، راجیو گاندھی کے دور میں بوفورس سے لے کر سینٹ کٹس، پی وی نرسمہا راؤ کے دور میں هرشد مہتہ سے لے کر جے ایم ایم رشوت خوری، واجپئی کے دور میں براک میزائل سے لے کر یوٹی آئی اور سب سے مشہور تابوت گھوٹالہ، تو منموہن کے دور میں ٹو جی سے لے کر کوئلہ کو کوئی بھول نہیں سکتا۔ اور یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اب جب راجیہ سبھا میں ہیلی کاپٹر گھوٹالہ کو لے کر بحث میں ہنگامہ مچا ہے، تو اسی راجیہ سبھا میں اب تک چھوٹے بڑے ۶۰۰ سے زیادہ بدعنوانی و گھوٹالوں کو لے کر الزام تراشی کا سلسلہ بحث کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ آزادی کے بعد سے پارلیمنٹ میں ۳۲۲ گھوٹالوں پر بحث ہو چکی ہے۔ اس سے نکلا کیا، اس پر نہ جائیے۔ اس کا اثر ہوا کیا، یہ كے ایم پی جی کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ اربابِ اقتدار کے بدعنوان ہونے سے ترقی کی راہ میں ملک کا نظام ناقابل بنا دیا گیا۔ جو قابل نہیں تھے، ان کا غلبہ بازار پر ہو گیا۔ گھریلو مالیاتی بازار ملک کی ضرورتوں سے نہیں، بلکہ کالے دھن سے جڑ گیا۔ اور اثر اس کا یہ ہوا کہ اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کے لگانے اور نکالنے سے جڑ گیا۔

ریئل اسٹیٹ اور كسٹركشن کالے دھن کا سب سے بڑا اڈہ بنا۔ تو ٹیلی كام کی ترقی کے راگ میں گھوٹالے سے جڑ گیا۔ تعلیم، غربت جیسے سماجی ترقی کے سوال بدعنوانی سے جڑ گئے اور اسی دائرے میں بینک سے لے کر بیمہ اور ميوچوئل فنڈ تک بدعنوانی کے دائرے میں آئے، جن میں مالیا نیا چہرہ ضرور ہیں، لیکن كرونی كیپٹلزم کے کھیل میں ملک کے مالیاتی وسائل کس طرح جڑے اور کس طرح ۲۰۰۸ تک جو رقم ۳۰ لاکھ کروڑ کی تھی وہ کالے دھن کی شکل میں ۲۰۱۴ کے انتخابات سے ٹھیک پہلے ۵۰ لاکھ کروڑ کے ہونے کا ذکر کیسے کر رہی تھی، یہ کسے سے چھپا نہیں ہے۔ یعنی ایک طرف مودی حکومت کی انکوائری تو دوسری طرف کٹہرے میں گاندھی خاندان اور سوال یہی کہ ۳۶۰۰ کروڑ کے آگستا ہیلی كاپٹر کے کھیل میں کس نے کتنی کمیشن کھائی۔ اور گزشتہ ہفتے بھر سے سیاست کے گلیارے میں بحث اسی سچ کو ٹٹولنے کو لے کر ہو چلی ہے کہ اٹلی کی عدالت کے فیصلے نے یہ بتا دیا کہ رشوت کس نے دی، لیکن رشوت کس نے لی یا کس کو ملی اس پر ابھی تک ملک کی تمام جانچ ایجنسیاں صرف پہلے سابق فضائیہ چیف تیاگی اور گوتم کھیتان سے پوچھ گچھ کے آگے بڑھ نہیں پائی ہیں، لیکن پارلیمنٹ کے اندر کا ہنگامہ کانگریس کے لیڈروں کو کٹہرے میں کھڑا کر رہا ہے اور سیاسی رومانس اسی بات کو لے کر ہو چلا ہے کہ سونیا گاندھی کا نام ہے یا نہیں اور اے پی ہے کون شخص۔ تو کیا سیاسی طور پر سوال پھر مجرم قرار دے کر کٹہرے میں کھڑا کرنے کا ہے یا ملک کے تفتیشی ایجنسیاں یا عدالت بدعنوانی کرنے والوں کو کوئی سزا بھی دے گی، کیونکہ ملک کا سچ تو یہ بھی ہے کہ ہر برس ۵ لاکھ کروڑ کی رعایت اب بھی کارپوریٹ اور صنعت کار کو ملتی ہے۔ سوا لاکھ کروڑ سے زیادہ سے زیادہ این پی اے کے باوجود بینکوں کا کارپوریٹ لون دینا جاری ہے۔ کاشت اور سینچائی کے نام پر اوسطاً سالانہ ۵ ہزار کروڑ کہاں جاتے ہیں، یہ کسی کو نہیں معلوم۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہر برس ملک کے باہر ۳۰ ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم چلی جاتی ہے۔ یعنی چلتے ہوئے نظام کو کس طرح تبدیل کیا جائے جس سے ملک ترقی کی راہ پر چلے۔ کیا ان مسائل سے ہر کسی نے آنکھیں موند لی ہیں۔ اور پارلیمنٹ میں سب سے تجربہ کار شرد یادو بھی اگر کھلے طور پر کہتے ہیں کہ راجیہ سبھا میں صرف گال بجایا جا رہا ہے، نکلے گا کچھ نہیں۔ اگر ایسا ہے تو یاد کیجئے ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کی آدھی رات کو دی گئی اپنی مشہور تقریر میں ملک کے پہلے وزیر اعظم نے ہندوستان کی خدمت کا مطلب کروڑوں غریبوں اور مظلوم کی خدمت قرار دیا تھا، جس کا مطلب غربت اور عدم مساوات کو ختم کرنا تھا۔

اور غریبوں کو حق ملے تو ملک صنعتی ترقی کی راہ پر بھی چل پڑے- یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے ملک نے مخلوط معیشت کا ماڈل اپنایا، جس میں سرکاری اور نجی شعبے دونوں کی شرکت ہو۔ لیکن، گزشتہ ۶۸ سالوں میں مخلوط اقتصادیات سے کھلی معیشت کے دور میں آنے تک ملک نے ترقی کی جو چال چلی، اس سے حاصل ہوا کیا۔ یا کہیں کہ کیا وہ مقصد حاصل ہوئے، جن کا خواب ملک نے آزادی کے سورج کے ساتھ دیکھا تھا۔ کیونکہ اعداد و شمار پر غور کریں تو آزادی کے وقت خط افلاس سے نیچے ۱۵ کروڑ لوگ تھے۔ تب آبادی ۳۳ کروڑ تھی۔ آج آبادی تقریبا ۱۳۰ کروڑ ہے، اور خط افلاس سے نیچے ۴۲ کروڑ ہے۔ یعنی غربت کم کرنے میں حکومتیں ناکام رہیں۔ لیکن سوال غربت کا نہیں ترقی کا ہے۔ اور ترقی کا مطلب وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر پر رشوت لینے بھر کا نہیں ہے۔ سمجھنا یہ بھی ہوگا کہ ملک میں ۴۰۰ لوگوكے پاس اپنا چارٹرڈ ہوائی جہاز ہے اور ۲۹۸۵ خاندانوں کے پاس جتنی جائیداد ہے، اس میں ملک کے ۱۸ کروڑ کسان مزدوروں کے خاندان زندگی بھر اپنے حساب سے پانچ ستارہ زندگی زندگی جی سکتے ہیں، کیونکہ ایک طرف ۵۲ فیصد کاشت پر ٹکے خاندان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، جن کا کل قرض ڈھائی ہزار کروڑ کا ہے تو دوسری طرف ملک کے ۶ ہزار صنعت کار بینکوں سے سوا لاکھ کروڑ کا قرض لے کر اب بھی پانچ ستارہ زندگی جی رہے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ جو سچ پارلیمنٹ کے اندر باہر نہرو کے دور میں سیاسی طور پر اقتدار کو پریشان کرتا تھا وہی حالات منموہن سے ہوتے ہوئے مودی کے دور میں بھی ملک کو پریشان کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا آیا ہے کہ اس وقت لوہیا پارلیمنٹ کے اندر باہر یہ سوال اٹھاتے تھے کہ نہرو پر روزانہ کا خرچہ ۲۵ ہزار روپے ہے، جبکہ ایک عام آدمی تین آنے میں جیتا ہے۔ اور اب پارلیمنٹ کے اندر باہر کوئی سیاست داں نہیں کہتا کہ ۸۰ کروڑ لوگ تو اب بھی ۲۰ روپے میں جیتے ہیں، تو پھر پارلیمنٹ میں بیٹھے ۸۵ فیصد لوگ كروڑپتی کیسے ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *