بدلتی حکمرانیت: قومی سیاست میں تبدیلی کی مظہر

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

۲۰۱۴ء میں ۱۶ویں لوک سبھا کے انتخابات مکمل ہوئے تیس ماہ گذر گئے۔ پندرہ سرکاریں اس سے قبل بھی قائم ہو چکی ہیں۔ کانگریس، جنتا پارٹی، جنتا دل، این ڈی اے کی سرکار ملک میں قائم رہی ہے۔ لمبے عرصے تک کانگریس حکمراں رہی۔ درمیان میں کئی غیرکانگریسی سرکاریں بھی بنیں جو سب کی سب مخلوط سرکاریں تھیں۔ لیکن سولہویں سرکارپہلی غیرکانگریسی سرکار ہے جس کے لیے مخلوط ہونا کوئی مجبوری نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص نظریہ رکھنے والی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی ہے اور یہ ملک میں پہلی بار ہوا ہے۔ دو فرق واضح طور پررونما ہوئے۔ پہلا، غیرکانگریسی سرکار اور دوسرا فرق واضح اکثریت۔ ہر چند کہ اس حکومت کو بھی این ڈی اے کی سرکار کہا جا رہا ہے لیکن پورا ملک جانتا ہے کہ یہ محض مروتاً این ڈی اے ہے وگرنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف یہ کہ بی جے پی کی سرکار ہے بلکہ بی جے پی کی نظریہ ساز آر ایس ایس کی سرکار ہے او ر اسی تناظر میں اسے حکمرانیت کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ ۱۹۸۹ کے بعد سے مخلوط سرکاروں کا جو چلن شروع ہوا تھا وہ ۲۰۱۴ میں ختم ہو گیا ہے۔ اس سے قبل جتنی بھی سرکاریں بنیں ان کے انداز کارکردگی میں کوئی نمایا ں فرق نہیں تھا۔ سرکاری پالیسی پارٹیوں کے بدلنے کے باوجود نہیں بدلی۔ تمام پارٹیوں کے زیر نگیں بابوؤں کی سرکاریں چلتی رہیں اسی لیے ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ سرکار چلانے والے ہاتھ بدلتے ہیں ذہن نہیں بدلتا، مگر سولہویں سرکار نے گذشتہ ایام میں ہی کامیابی کے ساتھ واضح کر دیا کہ اس مرتبہ محض ہاتھ نہیں بدلے ہیں بلکہ ذہن بھی بدل گیا ہے اور یہی فرق حکمرانیت میں تبدیلی کا اصل مظہر ہے۔
ملک میں اس بدلتی حکمرانیت کے نتیجے میں عوامی احساسات میں بھی تبدیلی کی آہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے نظریات، ان کی پالیسی، حکمت عملی ان کے لیڈروں کی زبان اور ان کی تحریکوں کے خط و خال میں بھی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ خود حکومت ہند کے اندازِ کار کردگی میں بھی نمایاں تبدیلی موجود ہے۔ سرکار کے بدل جانے سے پہلی مر تبہ ملک میں ہر سطح پر تبدیلی کا یہ شدید رجحان ملک کی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے جن کا براہ راست تعلق ان عوامی طبقات کے مستقبل سے بھی ہے اور خود ملک کی آئندہ تقدیر سے بھی وابستہ ہے۔ ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہو چکا ہے کہ کیا ملک میں سیکولر دستور کی عمل داری جاری رہے گی اور سوشلزم کی قدیم روایتیں جاری رہیں گی یا سماجواد کا سرخ رنگ یرقانی ہونے کی حد تک پھیکا پڑ جائے گا۔
آزادی کے بعد ۶۷ سال تک جس فسطائیت کو اقتدار سے دور رکھنے کے نام پر کانگریس کے وجود کو بادل نخواستہ برداشت کیا جاتا رہا اور فسطائی قوتوں کو شکست دینے کے نام پر جن نام نہاد سیکولر جماعتوں کو کندھے پر جنازے کی طرح اٹھا کر اقتدار کے گلیاروں میں بے لگا م چھوڑ رکھا تھا بالاخر وہی فسطائی قوت آج ارباب اقتدار بن چکی ہے اور اتنی طاقت کے ساتھ اقتدار میں ہے کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کا وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اہل اقتدار تو اپنے اقتدار کے نشے میں چور رہنے کے ساتھ اپنی پالیسی، اپنے نظریے اور اپنے پروگرام کو نافذ کر نے کی تگ و دو کر نے کے ساتھ ہم خیال اور ہم ذہن افراد کو موقع کی پوزیشن پر تعینات کر نے میں مصروف ہیں اور پڑوسی ممالک و دیگر اقوام و ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کے استحکام کے نام پر کچھ دور رس عالمی پالیسیوں پر عمل آوری کی پیش بندی کر رہے ہیں مگر شکست خوردہ اور لمبے عرصے کے لیے اقتدارسے بے دخل، خود کو سیکولر کہہ کر ملک کے سیکولر ووٹروں کو بے وقوف بنا کر اپنی ذات اور اپنے خاندان کو مسند اقتدار پر رکھنے والی جماعتوں کے لیے اپنا اپنا محاسبہ اور یہ تجزیہ ضروری ہے کہ آخر اچانک وہ کون سے حالات پیدا ہوئے کہ ملک میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ پانے والی پارٹی بھی لوک سبھا سے باہر ہوگئی اور یوپی جیسے سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی حکمراں جماعت کو چچا بھتیجو ں اور بہو کے سوا کوئی ایک سیٹ بھی ہاتھ نہیں لگی۔
یہ جماعتیں اپنا محاسبہ اور اپنا تجزیہ کب تک کریں گی یا نہیں کریں گی اس کا تو سر دست کوئی اندازہ نہیں ہے مگر قومی سیاست میں جو واضح تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں ان کے مظاہر یکے بعد دیگر ے محسوس ہو رہے ہیں۔ ابھی گذشتہ ہفتے عام آدمی پارٹی کے ایک بہت ہی قد آور اور بے حد سیکولر سمجھے جانے والے لیڈر کے ساتھ ایک ذاتی گفتگو میں جب میں نے سیکولرزم کو در پیش خطرات کی بات کی تو وہ اچانک بھڑک اٹھے اور فرمایا کہ یہ سیکولرزم وغیرہ کی باتیں اب بند کر دینی چاہیے کیونکہ جیسے ہی ہم سیکولر لفظ کا استعمال کر تے ہیں تو عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ مسلمانوں کی بات کی جا رہی ہے اس لیے اس لفظ کا استعمال اب ترک کر دینا چاہیے اور اب انسانیت کی بات کر نی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئی سیاسی صف بندی انسانیت کے اصولوں کے پیش نظر ہونی چاہیے نہ کہ سیکولر جیسے گھسے پٹے الفاظ کی دہائی دے کر۔ اسی طرح ایک دوسرے مو قع پر کمیونسٹ پارٹی کے ایک بہت مشہور و معروف لیڈر کو جب میں نے’’مشن‘‘ کے اجرائی پروگرام کے لیے مدعو کیا تو انتہائی غصے کے ساتھ انہوں نے کہا آپ لوگ ہمیشہ مسلمانوں کی بات کر تے رہتے ہیں کیا ملک میں دوسرے طبقات موجود نہیں ہیں۔ ہر وقت آپ لوگوں کے ذہن میں مسلمان، مسلمان کی بات رہتی ہے ملک میں یکساں ترقی اور بہبود کی بات آپ لوگ کر تے ہی نہیں ہیں۔ یہ دو وہ لیڈران ہیں جن کے بارے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ مسلم تنظیموں کے دفتروں میں گھنٹوں بیٹھ کر سیکولرزم اور سماجواد کو توانائی بخشنے کے منصوبوں پر بحث کر تے رہتے تھے اور انہی تنظیموں کے وسائل سے بہرہ ور ہو کر اپنی زندگی گزار رہے تھے مگر آج محض یرقانی حکمرانی نے ان جیسے لیڈروں کو اتنا حوصلہ دے دیا ہے کہ وہ سیکولرزم کا لفظ سننا بھی گوارا نہیں کر تے۔ ادھر عام لوگوں کے اندر گھروں میں، ریلوں میں، بسوں میں، کھیتوں میں کام کر تے کسانوں میں اور فیکٹریوں میں کام کرتے مزدوروں میں غریب سے غریب آدمی میں بھی یہ احساس سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ اب پہلی بار ’’ہماری‘‘ سرکار آئی ہے۔ گویا ملک کے غیر بھاجپائی سیاست داں اور عوام یکساں طور پر موجودہ سرکار کے قیام سے کسی نہ کسی حد تک مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ یہیں یہ سوال اجاگر ہوتا ہے کہ ۶۷ سال تک سیکولرزم کے نام پر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کر نے کے لیے سیکولرزم کی دہائی دیتے ہوئے فسطائی قوتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی خاطر مسلمانوں کے بیچ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے ان کے ووٹ کی گہار لگانے والی پارٹیاں اتنے کم عرصے میں اپنے نقاب کیوں اتاربیٹھیں۔ خود مسلمانوں کے لیے یہ لمحہ فکر ہے کہ کیا واقعی ۶۷ سال پہلے سیکولر بنیادوں پر ایک آزاد بھارت کی تشکیل کوئی فریب تھا یا اس وقت کے کانگریسی حکمرانوں کی کوئی طویل مدتی حکمت عملی تھی؟ جس نے اس وقت کی ہندوتووادی طاقتوں کو بھی نہ صرف خاموش رہنے پر مجبور کر دیا بلکہ کانگریس کے ساتھ مل کر ایک سیکولر بھارت کی تشکیل میں مدد پہنچانے پر مجبور کر دیا، اس سوال پر اگلے کسی مضمون میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ ابھی سیکولر جماعتوں کے رویے پر غور کر نا مقصود ہے۔
عام طور پر ملک کے مسلمانوں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ انتخابات کے موقع پر اپنے ووٹ تقسیم کر دیتے ہیں جس سے فسطائی قوتوں کو جیتنے کا موقع ملتا ہے۔ ۲۰۱۴ کے انتخاب میں یہ الزام مزید شدت کے ساتھ مسلمانوں کے سر تھوپا گیا اور اس کے لیے اتر پردیش میں ۷۳ سیٹوں پر بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی فتح کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بہار میں ۴۰ میں سے ۳۱ سیٹوں پر بھاجپا کی جیت کو مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ بجا طورپر یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی بی ایس پی دونوں سیکولرزم کے علم بردار ہیں اور دونوں صوبے کی وزارت اعلی کے دعوے دار بھی ہیں اور محض اقتدار کی سب سے بڑی کرسی کے حصول کی خاطر الگ پارٹیوں کی تشکیل کی ہے۔ تو کیا ان پارٹیوں کی تشکیل میں مسلمانوں نے کوئی رول ادا کیا ہے؟ بہار میں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو دونوں وزیر اعلیٰ بننے کے خواہش مند ہیں اور اس غرض سے جنتا دل توڑ کر دونوں نے الگ الگ پارٹیاں تشکیل کی ہیں۔ کیا جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے قیام میں بہار کے مسلمانوں نے کوئی رول ادا کیا ہے؟ بنگا ل میں محض وزیر اعلیٰ بننے کی خاطر ممتا بنرجی نے کانگریس سے کنارہ کشی اختیار کر کے ترنمول کانگریس کی بنیاد کسی سیاسی اصول کی خاطر ڈالی ہے یا محض ذاتی ہوس اقتدار کی خاطر؟ اسی ریاست میں لیفٹ پارٹیوں کے چار بڑے گروپ کیا کسی نظریاتی اختلاف کی خاطر قائم ہوئے ہیں یا صر ف اقتدار کی رسہ کشی کی خاطر؟ اور کیا کمیونسٹ پارٹیوں کی اس ٹوٹ پھوٹ میں مسلمانوں نے کوئی رول ادا کیا ہے؟ اسی طرح آندھرا پردیش میں تیلگو دیشم، ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس کا قیام کسی نظریاتی اختلاف کی خاطر ہے یا محض اقتدار کی خاطر؟ کرناٹک میں جنتا دل سیکولر، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اوراے آئی ڈی ایم کے نیز کیرل میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا جم غفیر کسی بھی نظریاتی اختلاف کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ محض چند لیڈروں کی ذاتی خواہش اقتدار کی جد و جہد کا شاخسانہ ہے اور ان میں سے کسی بھی معاملے میں مسلم عوام اور ان کی لیڈرشپ کا ذرہ برابر کوئی رول نہیں ہے۔ گویا سیکولر ووٹوں کی تقسیم خود کو سیکولر کہنے والے لیڈروں کی سیاسی دکانداری اور ان کے پیچھے کھڑے ہوئے کارپوریٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کی آپسی ملی بھگت کا نتیجہ ہے جس نے اس ملک کی سیاست میں سیکولرزم کو موضوع مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور انہیں کی آپسی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں مسلم ووٹ کنفیوژ ہو کر انہی میں سے کسی نہ کسی سیکولر لیڈر کے دام فریب کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی ووٹوں کی تقسیم کا مجرم بھی قرار پاتا ہے۔ آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ ملک کا تقریباً پندرہ فیصد مسلم ووٹ حاشیے پر کھڑا ہے اور ہر سیاسی جماعت اپنی اپنی برادری، ذات اور خاندان کی بنیاد پر طاقت حاصل کر چکی ہے اور مسلمانوں کو منھ لگانے کو تیار نہیں ہے۔ اسی طرح ملک کا ہر غیرمسلم لیڈر محض اپنی اپنی کرسی کا معاہد ہ کر کے آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو تقویت پہنچانے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ مہاراشٹر میں این سی پی کی سیاسی جست و خیز سے ظاہر ہے کہ شرد پوار اسمبلی انتخابات کے بعد شیو سینا اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر نے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے۔ ان حالات میں ملک کے مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یا تو وہ اپنی شناخت و تشخص پر اسرار بند کردیں اور انہی پارٹیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو قبول کر لیں اور اپنی داڑھیوں اور ٹوپیوں کو’’آب رود گنگا‘‘ میں بہا دیں یا پھر اپنی سیاسی شیرازہ بندی کر تے ہوئے ملک کے سیکولر اور سماجوادی ڈھانچے اور دستور کی بقاء کی خاطر تن تنہا خود کو متحد کر کے اسی طرح کھڑے ہو جائیں جس طرح جنگ آزادی کے وقت تنہا مسلمان قیادت نے کھڑے ہو کر انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور بعد میں دیگر اقوام ساتھ آ گئی تھیں۔ اسی طرح ایک بار پھر مسلمانوں کے سامنے یہ چیلنج موجود ہے کہ ملک کے جمہوری، سیکولر، سوشلسٹ کردار کو بچانے کے لیے وہ تمام دیگر سیاسی پارٹیوں سے صرف نظر کرکے خو د ایک سیاسی اکائی کی حیثیت سے اکٹھا ہو کر فسطائیت سے مقابلے کے لیے بر سر پیکار ہو جائیں۔
)مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *