برسوں کی سیاسی غلامی اور بیمار ذہنیت

نہال صغیر
نہال صغیر

آزادی کے بعد ان لوگوں نے جنہیں ہم بہت احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں مسلمانوں کو احساس جرم اور غلام ذہنیت کا شکار بنادیا۔ در اصل حالات ایسے تھے کہ اس کے آگے ان بزرگوں نے اپنی بے بسی کو قبول کرلیا۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ ملک کی سب سے با اثر اور سب سے طاقتور سیاسی جماعت نے مسلمانوں کا کھل کر استحصال کیا اور انہیں یہ احساس بھی نہیں ہونے دیا کہ اس استحصال کی ذمہ دار وہی سیاسی جماعت ہے۔ ہمارے ان بزرگوں نے بھی جنکی قائدانہ صلاحیت پر ورق کے ورق سیاہ کردیے گئے ہمیں اس سے آگاہ نہیں کیا شاید وہ خود بھی آگاہ نہیں رہے ہوں کہ جن کی وہ حمایت کرتے ہیں یا جن کے بارے میں وہ مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ہمدرد یہی واحد سیاسی جماعت ہے اس کا درپردہ مقصد ہی مسلمانوں کا استحصال ہے۔

حال کے کچھ برسوں سے حیدر آباد کے افق سے ایک سیاسی جماعت نے ملک کے دیگر علاقوں میں اپنے پائوں پھیلائے ہیں۔ اس کے لیڈران مسلمانوں کو سیاسی طور پر بیدار ہونے کیلئے للکارتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ سے لے کر گلی محلوں اور بین الاقوامی سطح تک پر اپنی پہچان محض اپنی بیباکی کی وجہ سے بنا چکے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اور تنظیمیں یہ بات ہضم نہیں کرپارہے ہیں کہ وہ برسوں کی سیاسی غلامی سے مسلمانوں کو نکلتا ہوا دیکھیں۔ ایسے ہی ایک مذہبی جماعت جن کا آزادی کی جنگ میں نمایاں کردار رہا ہے اور بعد کے وقتوں میں بھی اس سیاسی جماعت کی حمایت میں وہ آگے آگے ہی رہے جس پر ثابت شدہ الزام ہے کہ اس نے مسلمانوں کا خوب استحصال کیا، کے مہاراشٹر کے ذمہ دار نے دوران گفتگو حیدرآبادی سیاسی جماعت کے خلاف اپنی سخت بیزاری کا اظہار کیا۔ انہوں نے حیدرآبادی جماعت کے ممبئی کے صدر کے بارے میں کہا کہ کتنا شریف اور اچھا انسان تھا کہاں اور کس پارٹی میں چلا گیا۔ میں بہار کا رہنے والا ہوں اور وہاں گائوں کی ایک کہاوت ’ساری رامائن پڑھ گئے سیتا کس کی بیوی‘ سارے حالات واقعات کے مطالعہ کے بعد بھی جب اس سے کوئی انجان بننے کی کوشش کرے تو اس وقت یہ کہاوت ایسے فرد کیلئے کہی جاتی ہے۔ ان صاحب کا کہنا یا ماننا شاید یہ ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو آپ اس سیاسی جماعت کا ساتھ نہ چھوڑیں جس پر آزادی کے بعد مسلمانوں کے استحصال کا ثابت شدہ الزام ہے۔ اس سے زیادہ
غلامی کی نشانی اور بیمار ذہنیت اور کیا ہوگی۔
ایک اور جناب ہیں انہوں نے بھی اس حیدرآبادی جماعت سے اپنی سخت بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہر چند کہ ’وہ مسلمانوں کی آواز مثبت انداز میں اٹھاتے ہیں، لیکن وہ ایک فرقہ پرست ہیں، ان کا انداز غیر اسلامی ہے۔ یہ جناب میڈیا کی دن رات کی جھوٹ پھیلانے کی مہم سے شاید ازحد متاثر ہیں۔ ویسے انہوں نے اپنے مراسلہ میں تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ کافی سمجھ دار ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل جانتے ہیں۔ ایک صاحب گوونڈی سے اسی سیاسی استحصالی جماعت سے کسی وارڈ سے امیدوار ہیں انہوں نے بغیر نام لئے حیدرآبادی سیاسی پارٹی کو فرقہ پرست کہا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ جناب فرقہ پرستی کی تعریف کیا ہے؟ تو یہ بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ قصور ان کا نہیں ہے قصور اس ستر سالہ سیاسی غلامی کا ہے جس نے ان کی ذہنی بالیدگی کو سخت متاثر کیا ہے۔ غلام اس سے آگے سوچ بھی کیا سکتا ہے کہ ’وہی سیاسی استحصالی جماعت ان کے مائی باپ ہیں‘۔ ہم نے گائوں میں دیکھا ہے کہ کس طرح مزدوروں کا استحصال کیا جاتا ہے پھر بھی وہ غریب ہاتھ جوڑے ان سے رحم کی امید رکھتا ہے۔ یہی کچھ حال یہاں مسلمانوں کا ہو گیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کی مذہبی جماعت ان کے قائدین سب کی ذہنیت ایک ہی نہج پر سوچتے ہیں۔ آخر غلاموں کی بھی کوئی آزاد سوچ ہو سکتی ہے کیا؟
حالانکہ مجھے امید تو نہیں ہے کہ غلاموں کی ذہنیت کو بدل سکوں لیکن اپنا کام کوشش کرنا ہے سو ہم کوشش کررہے ہیں۔ وامن میشرام وہی وامن میشرام جو دلتوں کے ایک لیڈر ہیں اور انہوں نے آزادی کے تعلق سے ایک بات کہی ہے کہ آزادی تو ہمارے لئے ایک افواہ ہے، نے ایک بار کہا تھا کہ مسلمانوں کو کچھ عرصہ کیلئے ووٹنگ کے عمل سے خود کو الگ کرلینا چاہئے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ مسلمان ایک دبائو کے تحت ووٹ دیتا ہے اور دبائو میں صحیح فیصلے نہیں لئے جاسکتے۔ ہمیں وامن میشرام کی باتوں میں صداقت نظر آتی ہے۔ لیکن ہم مسلمانوں کو ووٹنگ کے عمل سے الگ ہونے کا مشورہ تو نہیں دے سکتے ہاں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ دبائو میں کوئی کام نہ کریں۔ یہ دبائو کیا ہے؟ یہ دبائو ہے فرقہ پرستوں کے آجانے کا خوف جس کے آتے ہی مسلمانوں کو نیست نابود کردیا جائے گا جیسا کہ پچھلے ڈھائی سال میں مسلمانوں کا نام نشان مٹادیا گیا! یہی وہ حربہ تھا یا اب بھی ہے جس کو استعمال کرکے سیاسی استحصالی جماعت نے مسلمانوں کا آزاد ہندوستان میں وہ حال کیا کہ وہ سرکاری نوکریوں میں 35% سے سیدھا 2% پر آ گیا اور بقول سچر کمیٹی کے وہ دلتوں سے بدتر ہو گیا حالانکہ میں اس کو پورا سچ نہیں مانتا۔ مسلمان آج بھی اپنے بل بوتے پر اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے اس ملک میں اپنی معیشت کو کسی حد تک چلانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس خوف کے دبائو سے باہر آیئے سیاسی خود انحصاری کی طرف۔ یہ نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتیں اور وہ سب سے پرانی سیاسی استحصالی جماعت آپ کو سیاسی طور پر خود انحصار نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ان کی خواہش ہے کہ آپ بس ان کے ووٹ بینک کی حیثیت سے اس ملک میں رہیں۔ فیصلہ آپ کا کہ آپ کو کیا رہنا ہے سب سے پرانی سیاسی استحصالی جماعت کا سیاسی غلام بن کر یا نئی سیاسی صف بندی میں خود انحصار بن کر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *