بنگلہ دیش: بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

Bangladesh_Jamaat Chief hanged

عمر فراہی

کچھ اردو اخبارات اور ہم جیسے مسلم قلم کار لکھ رہے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمٰن نظامی کو تختہ دار پر چڑھا کر حسینہ واجد نے سرکاری دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری طرف ایک زمانے سے ہمارا خیال یہ بھی ہے کہ  القاعدہ اور طالبان جیسی شدت پسند تحریکیں جو امریکہ کی پیداوار ہیں  دہشت گردی کی اصل شروعات یہیں سے ہوتی ہے اور 9/11 کی واردات اسی دہشت گردی کی ایک ایسی انتہا ہےجسے بہانہ بنا کر امریکہ اور یورپ نے افغاستان اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی- مگر کیا یہ بات سچ ہے؟ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ  دہشت گردی کی اس انتہا سے پہلے بھی سب سے بڑی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی واردات فلسطینیوں کی سرزمین پر یہودی ریاست قائم کر کے انجام دی گئی ہے اور پھر  1947 سے اسرائیل مسلسل فلسطینیوں کیلئے خوف اور  دہشت کا سبب بنا ہوا ہے- مغربی ممالک اور امریکہ نہ صرف اسرائیل کی اس دہشت گردی میں  شامل رہے ہیں اس کے بعد بھی انہوں نے مسلم ممالک میں مسلمانوں پر ایسے اسلام دشمن حکمرانوں کو مسلط کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے جنھوں نے  مسلم ممالک میں نہ تو کبھی آذادانہ انتخاب ہونے دیا  تحریکات اسلامی کی جدوجہد کے راستے میں ابوجہل اور ابو لہب کا کردار بھی  ادا کرتے رہے ہیں  – بیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد پاکستان سے لیکر افغانستان ایران عراق مصر اور ٹرکی جیسے طاقتور مسلم ممالک میں سارے حکمراں کم و بیش مصطفیٰ کمال پاشا کی طرح لبرلسٹ اور دین بیزار ہی رہے ہیں – حسینہ واجد بھی اسی قبیل کی ایک حسینہ جس کی تربیت ہی فحاشی اور کفر کے ماحول میں پروان چڑھی ہے – پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھٹو اور مجیب الرحمٰن کی ضد نے ایک ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا دوبارہ ملک کے ان دونوں مجرموں کی بیٹیوں کو اقتدار سونپ دیا – شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں حکمراں عوام کی اکثریت سے منتخب ہوتے ہیں اور اکثریت جاہل اور جذباتی ہوتی ہے – جس طرح ہندوستان میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے خون نے کانگریس کے مردہ جسم میں روح پھونک دی بنگلہ دیش اور پاکستان کی سیاسی عمارت بھی بھٹو اور مجیب کے قتل سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی جبکہ حقیقت میں ان دونوں سیاست دانوں نے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا تھا اور انہیں اس کی سزا ملنی بھی چاہئے تھی – پاکستان کی فوج کو چونکہ ضیاء الحق نے کسی حد تک اسلامی رنگ میں رنگ دیا تھا اس لئے بے نظیر اپنا کھیل نہیں کھیل سکیں اور باالآخر اسی فوج نے انہیں نگل لیا لیکن بنگلہ دیش کی فوج میں بنگلہ قومیت کے علمبردار مجیب الرحمٰن  کی ذہنیت کا غلبہ ابھی بھی برقرار ہے اور حسینہ واجد نے اپنے ہمدردوں اور وفاداروں کو ملک کے اہم عہدے بھی سونپ رکھے ہیں وہ اپنا اپنا کام اسی طرح کر رہے ہیں جیسا کہ آجکل ملک عزیز میں این آی اے کے ذریعے مالیگاؤں بم بلاسٹ کے مجرموں کو کلین چٹ دیئے جانے کا شور ہے – یعنی سیاں بھئے کوتوال تو اب ڈر کاہے کا – اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے مر چکے ہیں – تاریخ نے ہمیشہ وقت کے  حضرت ابراہیم حسن البنا سید قطب شہید اور ہندوستان میں ہیمنت کرکرے جیسے مجاہدین کو کھڑا کیا ہے  – ماضی میں اسی جبر اور ناانصافی کے خلاف  اسلام پسند تحریکوں نے  سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد سے ہی اپنی پرامن جدوجہد  شروع کر دی تھی اور ممکن تھا کہ اسلام دشمن اور باطل طاقتیں اسی وقت ایسے غیر مسلح  علماء دین مبلغین اور مصنفین  کو پابند سلاسل کر دیتیں اور ان کی یہ تحریک جو ابھی سر اٹھا رہی تھی سرد پڑ جاتیں- جیسا کہ مصر میں حسن البنا, سید قطب شہید  کو شہید کیا بھی گیا اور اسی مصر میں جمال ناصر نے ایک خاتون مبلغ  زینب الغزالی کو نو سال تک جیل میں رکھ کر اذیت پہنچائی اور یہ سلسلہ آج بھی دنیا کے ہر خطے میں بنام جمہوریت اور مغربی حکمرانوں کے تعاون سے جاری ہے- مگر قدرت کا کرشمہ یہ بھی رہا کہ مغرب  جس رفتار  کے ساتھ ترقی اور غلبے کی طرف بڑھا اسی رفتار کے ساتھ بیسویں صدی کے اندر ہی دو بھیانک عالمی جنگ نے انہیں ان کے انجام کا راستہ بھی دکھا دیا -اس دوران شاید ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اب روئے زمین پر ایک بار پھر کہیں اسلامی خلافت یا اسلام کو سیاسی عروج حاصل ہوگا-جبکہ تاریخ کے مجاہد مولانا مودودی جنھیں پاکستان میں خود جیل کی سلاخوں سے گذرنا پڑا اور اقبال اس پر آشوب دور میں بھی پر امید تھے کہ مغرب کی تباہی لازمی ہے اور اسلام کا عروج بھی یقینی ہے – اقبال نے مستقبل کے اسی پس منظر میں یہ پیشن گوئی کرنے کی جرات کی تھی کہ

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا

کہا ہے مجھ سے یہ قبطیوں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا

اور پھر چند سالوں کی جدوجہد کے بعد ہی ایران میں جب آیت اللہ خمینی کے ذریعے ایک کامیاب اسلامی انقلاب کی بنیاد عمل میں آئی تو اس انقلاب نے عالم اسلام میں سیاسی غلبے کیلئے متحرک تحریکات اسلامی کے اندر تازہ روح پھونک دی  – حالانکہ 1979 میں آیت اللہ خمینی کے اس ایرانی انقلاب کو خالص اسلامی انقلاب کا نام تو نہیں دیا جا سکتا لیکن جس طرح آیت اللہ خمینی نے عالم اسلام کے اتحاد کا نعرہ دیا اور بہت ساری خرافات اور فواحشات پر پابندی لگا کر کے شرعی اصلاحات نافذ کیں مغرب کے نیو ورلڈ آرڈر اور استعماری عزائم  کیلئے ایران کا یہ انقلاب بھی کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں تھا – مولانا مودودی اور اخوان کے رہنماوں نے شاید اسی لئے اس انقلاب کی حمایت کی- ہاں یہ الگ بات ہے کہ اب یہ ایرانی انقلاب  اپنے اسی شیعی خرافات اور بالادستی کی طرف مڑ چکا ہے اور کچھ لوگ ایران کے اسی مشتبہ عزائم کی بنیاد پر یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں کہ مولانا مودودی اور اخوان کے رہنماؤں نے ایران کی حمایت کر کے بہت بڑی بھول کی تھی – یہ بات درست نہیں ہے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مکی دور میں جبکہ وقت کا رسول اپنے اللہ کی طرف مومنوں کو غلبے کی بشارت دے رہا تھا اسی دوران جب روم اور فارس کی جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو طعنہ دینا شروع کر دیا کہ دیکھو تمہارے دین پر عمل کرنے والے رومی شکست کھا گئے- اللہ کے  رسول کو مشرکین کی اس بات سے جب   تکلیف پہنچی تو  اللہ نے رسول کو بشارت دی کہ غم نہ کرو رومی بہت جلد دوبارہ غالب آجائیں گے – خدا پر یقین کرنے والے بہرحال ظاہری قوت اور وسائل کی کمی سے کبھی مایوس نہیں ہوتے – حق و باطل کے معرکے میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ  باطل غالب آجاتا ہے اور اکثر قوموں کے انتشار اور ذہنی پسماندگی کی وجہ سے  امید کی کوئی کرن بھی نظر نہیں آتی اس کے باوجود اللہ کے راستے میں اصولی جدوجہد کرنے والوں کو اللہ فتح اور کامرانی کے ایسے حالات پیدا  کردیتا ہے جو انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا –

اقبال نے مشیت الٰہی پر حضرت ابراہیم کے اسی یقین کی پختگی کی  منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ

وہ سکوت شام و صحرا میں غروب آفتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بین خلیل

اور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبیل

حضرت ابراہیم ایک ایسی بے آب وادی میں اپنے بیوی بچے کو تن و تنہا چھوڑ کر شام کے وقت واپس لوٹ رہے ہوتے ہیں جہاں دور دور تک کوئی بستی اور انسان نظر نہیں آرہے تھے ممکن تھا کہ ہاجرا اور اسمٰعیل کو پہاڑی جانور اپنی خوراک بنا لیتے مگر ابراہیم کا یقین پختہ تھا کہ جو رب اس پوری کائنات میں آفتاب اور زمین تھامے ہوئے ہے وہی ان ماں اور بیٹے کی بھی حفاظت اور کفالت کرے گا -آگے اقبال نے جواب بھی دیا ہے کہ کس طرح اللہ نے اسی وادی میں پانی کا چشمہ جاری کر کے نہ صرف رزق کا انتظام کیا بلکہ یہ جگہ قافلوں کے ٹھہرنے کا مقام بھی بن گئی -اس واقعے کو سامنے رکھ کر اگر ہم افغانستان کے انپڑھ ملاؤں کی جدوجہد پر طائرانہ نگاہ دوڑائیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ روس کی مداخلت کے بعد افغانستان کے مجاہدین اس بحث میں کبھی نہیں الجھے کہ ان کے وسائل کیا ہیں اور وہ روس کا مقابلہ کر پائیں گے یا نہیں -اور  پھر اقبال ہی کی زبان میں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ امریکی قافلے کو  افغانستان میں اپنی کامیابی کا چشمہ نظر آنے لگا دوسرے لفظوں میں اسے اس ویران وادی میں اپنے واحد سپر پاور ہونے کی مراد پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی تھی اور افغانستان کے ملا جنھیں آج دنیا دہشت گرد کہتی ہے  امریکہ کیلئے زندہ ولی بن گئے جبکہ قدرت نے ان دونوں اسلام دشمن قافلے کو آپس میں ٹکرا دینے کا منصوبہ بنا لیا تھا – اس بات کا اندازہ افغان مجاہدین کو تو ضرور رہا ہوگا کہ قدرت کی مدد کہاں سے آتی ہے مگر شاید یہ بات مغرب کے وہم و گمان میں بھی نہیں رہی ہوگی کہ افغانستان کے انپڑھ ملا روس جیسے سپر پاور ملک کو شکست دے سکیں گے مگر جب امریکہ نے افغان مجاہدین کی مدد سے سرد جنگ کے اس معرکے میں فتح حاصل کی تو اسے یقین ہوگیا کہ اسلام اور مسلمانوں پر  اتنی آسانی کے ساتھ غالب آنا نا ممکن ہے -برطانیہ کی آنجہانی خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے اسی جنگ کے بعد یہ کہا تھا کہ کمیونزم کی شکست کے بعد مغرب کے نیو ورلڈ آرڈر کیلئے اسلام ایک بار پھر سب سے بڑا خطرہ ہے- 1996 میں یہ خطرہ حقیقت میں بھی تبدیل ہوگیا اور طالبان نے افغانستان میں اپنی خلافت کا اعلان کر دیا —

کہتے ہیں کہ تاریخ دہراتی ہے اور قدرت کبھی ایک فرد سے ایک قلیل جماعت اور تنظیم سے تو کبھی کسی کو ایک ریاست کا خلیفہ اور بادشاہ  بنا کر بھی امتحان لیتی ہے -امریکی امپائر نے اس نوزائیدہ ریاست کا عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا تو حالات نے  وہی رخ اختیار کیا  جس کی طرف حضرت ابراہیم کو راغب ہونا پڑا تھا -حضرت ابراہیم نے شہر کے سب سے بڑے بت خانے کے ایک بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کو منہدم کردیا-جب انہیں گرفتار کر کے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو حضرت ابراہیم نے جواب دیا کہ یہ کام میں نے نہیں اس بڑے بت نے انجام دیا ہے – اسی طرح امریکہ نے جب بن لادن کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا مجرم قرار دیتے ہوئے طالبان سے کہا کہ انہیں ہمارے حوالے کرو تو طالبانی حکومت نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابراہیم نے نمرود کو دیا تھا کہ یہ تمہارے صنم خانے کے اندر کی سازش ہے    – نمرود نے نہ تو ابراہیم کی بات کا یقین کیا اور نہ امریکہ نے طالبان کی – جس طرح ابراہیم کو ایک دہکتی ہوئی آگ میں پھینکا گیا طالبان کی پوری ریاست پر آگ کی بارش کی گئی – حضرت ابراہیم بھی زندہ بچ نکلے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت بھی اسی طرح اپنے خطے میں قائم ہے جبکہ امریکہ اور یورپ کے اتحادیوں نے جس طرح عالم اسلام کو روندا ہے کیا وہ یہ جنگ جیت گئے –  2010 کے بعد جزیرتہ العرب کی شورش اور اسلامی بیداری نے ایک بار پھر مغرب اور مغرب نواز مسلم حکمرانوں کو اس کا جواب دے دیا ہے کہ تم کتنے صدام ماروگے تم کتنے مطیع الرحمٰن کو تختہ دار پر چڑھاؤ گے – تم کتنے مرسی کو پابند سلاسل کروگے – تم زینب کی بیٹیوں کے ہاتھوں میں  ہتکڑیاں لگا کر عائشہ اور ہاجرہ کی اسلامی غیرت اور حمیت کو شکست نہیں دے سکتے – بنگلہ دیش میں مطیع الرحمٰن نظامی نے خوشی خوشی پھانسی کے پھندے کو گلے لگا کر اسی جذبہ ابراہیمی کو زندہ کیا ہے کہ

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *