بچوں کا اچھا ساتھی ہے آرٹ: ڈاکٹر انوارالحق

نئی دہلی: دی ونگ فاؤنڈیشن کے ذریعہ بٹلہ ہاؤس میں درجہ دوئم سے لے کر درجہ ہفتم تک کے بچوں کے درمیان آرٹ کمپٹیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس کمپٹیشن میں حصہ لینے والے بچوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس میں حصہ لینے والے زیادہ تر بچے اسی علاقے کے اسکولوں کے طلبا ہیں۔ اس کمپٹیشن کے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے دی ونگس فاؤنڈیشن کی سینٹر منیجر رومانا سمی بتایا کہ اس میں کل پچیس طلبا نے حصہ لیا اور سب نے ایک سے بڑھ کر ایک آرٹ کے نمونے پیش کیے۔ بٹلہ ہاوس کے محمد انس کو اول انعام جبکہ انوشہ فاطمہ اور وافی رحمن کو دوسرے اور تیسرے انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ ان بچوں کو سند سے نوازتے ہوئے اس تنظیم کے بانی ڈاکٹر انوارالحق نے کہا کہ آرٹ بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہت ہی اچھا ذریعہ ہے۔ آج کل زیادہ تر بچے کمپیوٹر اور موبائل فون میں دلچسپی لینے کی وجہ سے آرٹ سے دور بھاگتے جا رہے ہیں۔ بچوں میں آرٹ کے لیے دلچسپی پیدا کرنے کے مقصد سے اس طرح کے مسابقے کا زیادہ سے زیادہ انعقاد ہر پیمانے پر کرایا جانا چاہیے۔
دی ونگس فاؤنڈیشن اس علاقے میں مالی طور پر پچھڑے بچوں کی تعلیم کے تعلق سے نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے مہنگے کوچنگ سینٹروں میں داخلہ نہیں لے پاتے اور کمپٹیشن کے اس دور میں صرف اسکول جاکر کامیابی کی بلندیوں تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو الگ سے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور سے سرکاری اسکول کے طلبا کو ان کے اسکول کے نصاب کے مطابق الگ سے تیاری کروا دینے سے ان کے ذہنی نشو نما میں کافی مدد ملتی ہے۔
اس موقع پر دی ونگس فاؤنڈیشن کے بانی نے یہ بھی بتایا کہ خوشخط لکھنے کے مسابقے کا بھی جلد اعلان کیا جائے گا جس میں چوتھی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبا کو حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔ اس فاؤنڈیشن کے تحت بڑے بچوں کو بھی انگریزی بولنے کی مفت تعلیم دی جاتی ہے تاکہ ان کو نوکری کی تلاش اور انٹرویو پاس کرنے میں دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں زیادہ ترتعلیمی خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *