بچپن کی شادی پر تعلیم کو ترجیح دیتی لڑکیاں

 راجندر بندھو، مدھیہ پردیش
راجندر بندھو، مدھیہ پردیش

ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا آج بھی آسان نہیں ہے۔ بچپن کی شادی ان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے ان کی زندگی سسرال کی چہار دیواریوں میں قید ہو جاتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے ملک میں حقِ تعلیم کا اور بچپن کی شادی کے روک تھام کے لیے قوانین بھی موجود ہیں، مگر کتنے فعال ہیں اس کا اندازہ لگانا ہمارے قارئین کے لیے مشکل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدھیہ پردیش کی کچھ لڑکیوں نے وہ قدم اُٹھایا ہے، جس کی آپ تعریف کریں یا نہ کریں، مگر ہمارے معاشرے، حکومت اور ملک کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لئے کافی ہیں۔ انھوں نے اپنے عملی اقدام سے یہ ثابت کیا ہے کہ سسرال اور شادی سے بڑی شے تعلیم ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اس سے محروم نہیں رہیں گی۔

مدھیہ پردیش کے شیوپور ضلع کے مایاپورہ گاؤں کی آدیواسی سائرہ نے تعلیم کے لیے سسرال چھوڑ دیا۔ شادی کے وقت ۱۲ سالہ سائرہ پانچویں جماعت میں زیر تعلیم تھی۔ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں، لیکن گھر والوں نے اس کی بات نہیں سنی اور شادی کے بندھن میں باندھ دیا۔ لیکن سائرہ نے ہمت نہیں ہاری۔ شادی کے بعد سسرال جانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ جب تک تعلیم مکمل نہیں ہوگی، سسرال نہیں جاؤں گی اور اپنی ضد پر ۸ ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ لیکن ۸ویں کلاس کے بعد ۱۵ سال کی عمر میں اس کی جدوجہد اس وقت شروع ہوئی جب سسرال والے اسے لینے آئے۔ سائرہ نے پڑھائی جاری رکھنے کے لیے سسرال جانے سے انکار کر دیا، تو والدین، ساس سسر سے لے کر شوہر تک سب نے اس کی مخالفت شروع کردی۔ یہاں تک کہ شوہر نے دوسری شادی کی دھمکی بھی دے ڈالی، مگر یہ چیزیں بھی اس لڑکی کے عزم مصمم کو ہلانہ سکیں اور اس نے فیصلہ کیا کہ سسرال چھوڑ کر تعلیم جاری رکھوں گی۔

Child Marriage

سائرہ کی طرح اور بھی کئی بچیوں نے تعلیم کی راہ میں سسرال کی رکاوٹ کو دور کرنے کی ہمت دکھائی ہے۔ مندسور کے جنک پورہ کی دوشیزہ کی شادی راجستھان کے ننبہڑا کے نریندر بنجار سے ہوئی تھی، مگر جب اس نے اپنے والدین سے سسرال کے بجائے اسکول جانے کی بات کی، تو ماں باپ نے اسے گھر سے نکال دیا۔ لیکن دوشیزہ نے ہمت نہیں ہاری اور خواتین کو بااختیار بنانے والے ادارہ کے دفتر میں درخواست دے کر پناہ حاصل کیا، اور اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ آج یہ لڑکی ۱۱ ویں جماعت میں پڑھ رہی ہے۔

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے قریب آباد گاؤں نوود کی ۱۱ ویں کلاس میں پڑھ رہی ۱۶ سالہ لڑکی کی شادی اس کی ماں اور ماما نے دو سال قبل پریم مینا سے کر دی تھی۔ لیکن اس نے اس شادی کو ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ بچپن کی شادی روکنے والے ایکٹ کے تحت بچوں کی شادی کو اس وقت تک نامکمل نہیں تسلیم کیا جاسکتا جب تک بچے خود اس سے متعلق درخواست دے کر اپنی شادی رد نہیں کروالیتے۔ اس لیے اس نے خواتین کو بااختیار بنانے والے ادارے میں جاکر اپنی شادی کو رد کروانے کی درخواست دی، جس پر کارروائی کی جارہی ہے۔ شہر اندور کی دویا راٹھور نے بھی اپنی بچپن کی شادی روکنے کے لیے خود کلکٹر کو درخواست بھیجی ہے۔ اندور کی ہی مسکان بھارگو نے بھی خود درخواست دے کر اپنی بچپن کی شادی پرروک لگوائی۔

اس طرح مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع میں بہت سی بچیوں نے اپنی بچپن کی شادی پر روک لگوانے کی پہل خود ہی کی ہے، جن میں سیہور ضلع کی رہنے والی منجو، انوپ پور ضلع کی پنکی شکلا، انیتا، رانو اہروار اور دیواس ضلع کی آرتی جاٹ شامل ہیں۔ ان بچیوں نے بچپن کی شادی سے لڑتے ہوئے خاندان اور معاشرے کی مخالفت کے باوجود تعلیم جاری رکھی ہے، جس کے لیے ان کی تعریف کی جانی چاہیے۔

یہ بتانے کی چند اں ضرورت نہیں ہے کہ تمام قوانین اور سرکاری و غیر سرکاری کوششوں کے باوجود نابالغ بچوں کی شادیاں آج بھی جاری ہیں۔ سال ۲۰۱۱  کی مردم شماری کے مطابق ملک میں ۱۲۱ کروڑ لوگ بچوں کی شادی جیسی برائی کو اپنانے پر مجبور ہوئے۔ قومی جرائم تحقیق رپورٹ بیورو کے مطابق ملک میں ۲۰۱۱  میں ۱۱۳ بچوں کی شادی درج ہوئی، جبکہ ۲۰۱۲ میں ۱۶۹ اور سال ۲۰۱۳ میں ۲۲۲ بچوں کی شادیاں درج ہوئیں۔ ان اعداد و شمار میں ہر سال بچوں کی شادی کے معاملات میں اضافے تو ضرور نظر آرہے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ معاشرے میں ہونے والی بچوں کی شادیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

حالانکہ اس مشکل صورت حال میں سائرہ جیسی کئی بچیوں کی کہانی مثبت سماجی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ جب تعلیم کے حق کے لیے بچے خود آگے آئیں گے تو معاشرے کی کوئی طاقت انہیں تعلیم، ترقی اور باوقار زندگی جینے کے حق سے محروم نہیں کر سکتی ہے۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *