’بھارت ماتا‘ اور ’مادرِ وطن‘ کا تصور ایک ہی ہے: پروفیسر شیرین موسوی

قومیت کا دفاع اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سوچ سمجھ کر بولنے کی تلقین کی

تصویر میں دائیں سے: پروفیسر عرفان حبیب، پروفیسر شیرین موسوی اور ڈاکٹر قمر تبریز
تصویر میں دائیں سے: پروفیسر عرفان حبیب، پروفیسر شیرین موسوی اور ڈاکٹر قمر تبریز

نئی دہلی، ۲۸ مارچ (نامہ نگار): معروف مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کی سابق چیئرپرسن پروفیسر شیرین موسوی نے کہا کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے میں انھیں کوئی پریشانی اس لیے نہیں ہے، کیوں کہ خود ان کے یہاں ’مادرِ وطن‘ کا تصور موجود ہے۔ البتہ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اسے کسی پر زبردستی نہیں تھوپا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’پہلے میں بھارت ماتا کی جے بولتی تھی، لیکن اب نہیں بولوں گی‘‘۔

پروفیسر شیرین موسوی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے کنونشن سنٹر میں ’جشنِ آزادی‘ کے عنوان سے مشہور تاریخ داں بپن چندرا کی یاد میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کرنے کے لیے یہاں پہنچی تھیں۔ ان کے ہمراہ علی گڑھ سے پروفیسر عرفان حبیب بھی تشریف لائے تھے، جنھوں نے افتتاحی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسر بپن چندر زندگی بھر جمہوری قدروں کی پاسداری کرتے رہے اور نیشنل بک ٹرسٹ جیسے سرکاری ادارہ کا چیئرمین بننے کے بعد بھی انھوں نے کبھی سرکار کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی، بلکہ پرزور طریقے سے قومیت کے صحیح تصور کا (نیشنلزم) کا دفاع کرتے رہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر قمر تبریز سے بات کرتے ہوئے پروفیسر شیرین موسوی نے کہا کہ آر ایس ایس جیسی تنظیموں کی طرف سے قومیت پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگائے جاتے رہے ہیں اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر ’ملک مخالف‘ ہونے کا الزام لگانے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ غلط ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے کیمپس میں ملک کے خلاف لگائے گئے نعروں کی بھی مذمت کی۔ جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار کا نام لیے بغیر انھوں نے یہ بھی کہا کہ سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرتے ہوئے فوجی ہی مارے جاتے ہیں، لہٰذا سارے فوجیوں کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ وہ کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں، بالکل غلط ہے۔ شیرین موسوی نے کہا کہ چند فوجی افسروں کی غلط کارروائی کی وجہ سے ہم پوری ہندوستانی فوج کی تنقید نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ قومیت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا دفاع کرتے وقت ہمیں سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔

پروفیسر موسوی نے کہا کہ ہم کشمیر میں فوج کو دیے گئے خصوصی اختیارات پر تو سوالیہ نشان لگا سکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ فوج یا پولس کو جو اختیارات دہلی یا یو پی میں ہیں، ویسے ہی اختیارات کشمیر یا آسام میں کیوں نہیں ہیں؟ لیکن ملک کے خلاف یا کشمیر کی آزادی کو لے کر نعرے لگانے کو شیرین موسوی نے غلط قرار دیا اور کہا کہ کشمیر سے متعلق اگر کوئی مطالبہ کرنا ہی ہے، تو اس کے مکمل الحاق کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *